***بدلے گا نصیب میرا***Badly Ga Naseeb Mera ***

Social Urdu Novel

***بدلے گا نصیب میرا***

تحریر:ثمرین شاہد

قسط نمبر 7

حاشر ُاس دن کے بعد سے نائلہ بیگم کی ناراضگی کا سوچ کر اپنا خیال بھی رکھتا اور ُاپنی مصروفیات میں سے ٹائم نکالنے کی اپنی پوری کوشش کرتا, اسکی ماما بھی سمجھنے لگی تھی اس لیے اسے زیادہ کچھ نہ کہتی تھیں مگر وہ ایک کام نہیں کرتا بلکہ ہر چھ سات ماہ  بعد اپنی جاب تبدیل کرتا رہتا تھا کبھی کبھار تو یحیٰی حسین بھی پریشان ہوجاتے تھے کہ آخر وہ ایک جگہ ٹک کر کام کیوں نہیں کرتا ہے وہ اپنے بیٹے کا مستقبل برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے اس لیے اُس سے بات کرنا چاہتے تھے آج بھی وہ گھر دیر سے آیا تھا یحیٰی صاحب ڈائینگ ٹیبل پر براجمان اُسکا ہی انتظار کررہے تھے اسے اپنی کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اُسے روکا

”حاشر—-؟ , بیٹا مجھے تم سے بات کرنی ہے —”

وہ جو تھکاہارا اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا اپنے ڈیڈ کی آواز سن کر رک گیا اور چلتے ہوئے ُان تک پہنچا—

“ اسلام وعلیکم ! جی ڈیڈ —؟ بولیں ”

یہ کہہ کر وہ کرسی کھینچتا اُس پر بیٹھ گیا اب ُان کے کہنے کا انتظار کررہا تھا

“وعلیکم اسلام!”

وہ ُاسکے چہرے پر سجی ناگواری اور سنجیدگی دیکھنے لگے پھر لمبی سانس لینے کے بعد گفتگو کا آغاز کیا

”حاشر— تم کب سیرئیس ہوگے –؟”

“میں سیرئیس ہی ہوں ڈیڈ , آپ کس بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں وہ بتائیں–؟”

“میں نے تمہیں اپنی کمپنی جوائن کرنے کو کہا تم نے صاف انکار کردیا , چلوں تم بزنس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے نہ سہی مگر یوں جو تم چند ماہ بعد اپنی نوکریاں بدلتے ہو—  یہ سب کیا ہے —؟”

“ڈیڈ , اس میں کیا ُبرائی ہے ,آخر مجھے حق ہے میں اپنےمستقبل کا فیصلہ خود کروں اور آپ نے بھی تو دادو (حیسن صاحب) کو اپنا فیصلہ ُسنایا تھا انھوں نے تو آپکو منع نہیں کیا پھر —؟”

“بلکل — مگر میں نے انکے بزنس کو آگے بڑھانے کےلیے ہی ایک اچھا فیصلہ لیا اور آج میں کامیاب ہوں اور تم — تم کیا کررہے ہو؟– اپنے ساتھ اسطرح —-”

“ڈیڈ پلیز —- پوری زندگی میں آپکی سُنتا آیا ہوں , اور میں جو بھی کررہا آپ سب جانتے ہیں !“

“تم یہ ٹھیک نہیں کررہے حاشر , اپنا مستقبل تم یوں چھوٹے موٹے کام کرکے نہیں سنوار سکتے , ہمارا اپنا بزنس , اپنی کمپنی ہے , تم کیوں نہیں مان جاتے—”

یحیٰی حیسن ُاسے سمجھانے والے انداز میں کہہ رہے تھے.

“ڈیڈ —! مجھے یہ کام پسند ہے اس لیے میں کررہا —اور رہی بات بزنس کی تو میں وہ ہرگز نہیں کرسکتا !“

“لیکن حاشر —-؟ ”

اسکے ڈیڈ اس سے پہلے مزید کچھ بولتے وہ کرسی سے اُٹھتا کہنے لگا

“ڈیڈ —! مجھے نیند آرہی ہے کافی رات ہوگئی ہے آپ بھی جاکر سو جائیں — گڈنائٹ—, اور اس بارے میں میرا فیصلہ نہیں بدلنے والا کیونکہ اس میں کوئی بُرائی نہیں —اپنے بل بو  تے پر اٹھنا چاہتا ہوں —

وہ اپنی بات پوری کرکے واپس جانے کو مڑ اور ڈگ بڑھتا وہاں سے چلے گیا

وہ حاشر کو جاتا دیکھ رہے تھے آگے کچھ بھی نہیں کہہ پائے بس یہی سوچتے رہے آخر ایسا کیا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ ان سے یوں دور ہوگیا کہ آج وہ انکی کسی بھی بات کو اہمیت نہیں دیتا —

_______________

جاسین کو گھر آئے ایک ہفتہ گزر گیا تھا وہ اس ماہ سلائی کرکےجتنا پیسہ اکھٹا کرپائی تھی اس سے وہ اکرم کی دوائی لے آئی تھی  ڈاکٹر کے مطابق اسکے علاج کے لیے کافی پیسے چاہیےتھے اس نے آج فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ یہ گھر بیچ دے گی تاکہ اکرم کا علاج کرواسکے , وہ گھر جو سرچھپانے کےلیے واحد جگہ تھی وہ  ایک واحد سہارا بھی ختم ہونے جارہا تھا مگر اپنے بیٹے کوبچانے کےلیے ُاس کے پاس بس یہی ایک راستہ تھا اور ایک ماں کے لیے اسکی اولاد ہی سب کچھ ہوتی ہے وہ اپنے بچے کےلیے دنیا کی ہر مشکل حالات سے لڑجاتی ہے اور جاسین بھی یہی کرنے والی تھی—آخر کو وہ بھی ایک ماں تھی —

__________________

 کچھ دیر میں وہ بچّہ ہوش میں آگیا تھا اسے کھانا کھلا کر دوائی دینے کے بعد وہ لوگ کسی کے آنے کا انتظار کررہے تھے جبکہ وہ ڈاکٹر اب وہاں موجود نہیں تھا —

اتنے میں دروازے پر بیل ہوئی— یہ کوئی آپارٹمنٹ تھا یہ فلیٹ یہ تو نہیں معلوم پڑتا تھا , شاید نئی عمارت تھی مگر غیر آباد —-

بیل کی آواز سُن کر گل خان جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا اور سوارخ سے دیکھ کر پہلے اپنے باس کو کچھ بتانے لگا اور حکم ملتے ہی دروازہ کھول دیا—

آنے والے دو آدمی تھے جو سوٹ میں ملبوس تھے –ان کے ہاتھ میں دو بریف کیس موجود تھے وہ چل کر نزدیک ہی صوفے پر بیٹھ گئے جہاں گل خان کا باس بیٹھا تھا —

اب کچھ دیر بات کرنے کےبعد وہ آدمی بریف کیس وہی چھوڑ گئے جبکہ گل خان اپنے باس کی حکم مانتا بچّوں کو اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ نیچے لے کر چلا گیا سوائے اُس ایک لڑکے کے جسکی طبعیت اب بھی سنبھلی نہیں تھی —-

اس غیر آباد علاقے میں کیا کچھ نہیں ہوتا تھا اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا , مگر اغواہ کیئے ہوئے بچّوں کے ساتھ بُرا ہی سلوک کیا جاتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں اور ان بچّوں کے ساتھ بھی کچھ بہت بُرا نے ہونے والا تھا بلکہ ہوچکا تھا—

صوفے پر بیٹھا انکا باس وحشیانہ مسکراہٹ لیئے اب بریف کیس کھول رہا تھا جیسے ہی بریف کیس کھولا گیا اس میں پیسوں کی بہت بڑی رقم موجود تھی جبکہ دوسرے میں کچھ ہھتار بھی تھے —

وہ دونوں اپنے آدمی کے ساتھ بچّوں کو گاڑی میں منتقل کرچکے تھے ,بچوّں کو پہلے ہی بے ہوشی کا انجیکشن لگادیا گیا تھا تاکہ وہ آواز پیدا نہ کرسکیں —

اور انکا کام آسانی سے ہوجائے —

اب دو آدمی جو کچھ دیر پہلے بریف کیس لےکر آئے تھے گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئے —

گل خان نے انکے روانہ ہوتے ہی اپنے باس کو اطلاع دینے کے بعد اس جگہ سے کسی اور جگہ اُس ایک بچّے کو لے کر نکل گیا تھا شاید انکے باس کا حکم تھا کہ جب تک یہ بچّہ ٹھیک نہیں ہوجاتا اسے اپنے باس ہی رکھنا ہے —

یہ ایک ایسا گروہ تھا جو بچّوں کو اغواء کرنے کے بعد انھیں کسی سے بیچ دیتے تھے اور ان بچّوں کے بدلے انھیں کافی مقدار میں رقم ملتی یا اسلحہ وغیرہ دیا جاتا—

ملک میں آئے روز کتنے ہی بچّے اغواء ہوتے ہیں اور اس کا پتہ کسی کو نہیں لگ پاتا کہ آخر انکے ساتھ کیا ہوتا ہے اگر معلوم بھی پڑجائے تو لوگ چار دن سوگوار رہتے ہیں پھر اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں—-

وہ لوگ جو اس کام کوسرانجام دیتےہیں— اس میں بہت سے گروہوں کا ہاتھ ہوتا ہے کتنے ہی معصوم بچّوں کوان کے گھر والوں سے جدا کردیا جاتا ہے یا تو انکی لاشیں ملتی ہیں یا ان کا سرے سے کچھ پتہ ہی نہیں چلتا اس حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے چُپ رہنے سے اس طرح کی وارداتوں میں کمی نہیں آتی جب تک ملک کا ہر بندہ اس جیسے کرائم کے لیے آواز نہیں اُٹھائے گا ایسے ہی معصوم اپنی ماؤں سے جدا کردیئے جائیں گے—-

پھر اپکا مقدر نہیں بدلا جائے گا کیونکہ ظلم سہہ کر آواز نہ اُٹھانے والوں کے نصیب کبھی بدلہ نہیں کرتے —

_________

جنید شاہ کے خلاف ثبوث مل جانے کی وجہ سے اسکی آریسٹ وارن مل چکا تھا اور وہ پولیس والے  اسکے گھر پہنچ کر اُسے گرفتار کرچکے تھے —ساتھ ساتھ اسکے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ کلثوم کے قتل میں یاسر شاہ کا بھی برابر کا ہاتھ تھا جبکہ جنید کا چھوٹا بھائی حیدر شاہ انکے خلاف گواہی دینے کو تیار ہوگیا تھا —

آج اس کیس کی سنوائی تھی اور تحریم اور مہران کے ساتھ ان پولیس والے کو بھی انکی محنت کا پھل مل چکا تھا جنید شاہ کو اسکے انجام تک پہنچنا تھا اور ساتھ ساتھ اسکے بھائی کو بھی اسکے کیئے کی سزا مل گئی —

آج آسیہ بیگم کا دکھ کافی کم ہوا تھا انکی بیٹی پر کیئے گئے ظلم کا سوچ کرہی وہ کانپ جاتی تھیں اور جس بے دردی سے انکو زہر دے کر قتل کیاگیا تھا اسکا سوچ کر ہی اُسکا کلیجہ چلنی ہوجاتا —– انصاف مل جانے پر انکا دکھ مٹ تو نہیں سکا مگر انکے دل میں سکون اُتر گیا تھا اور اس بات کا یقین بھی کہ آخرت میں تو انسان کو اپنے کیئے کا جواب دینا پڑتا ہے لیکن کچھ لوگوں کو دنیا میں ہی سزا مل جاتی ہے —

جہیز ایک لعنت ہے مگر ہم اس دنیا میں ایسی رسوم کو اپنائے بیٹھے ہیں کہ ہم میں عقل و سمجھ ناپید ہوگئی ہےبلکہ یہ ایک شوق اور نمود نمائش بن کر رہ گیا ہے — جسکی وجہ سے نہ لڑکیوں پر تشدد کیا جاتا ہے بلکہ انکے گھر والے بھی اسکی وجہ سے پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں اور اس کی وصولی جب ممکن نہیں ہوتی تو کچھ دقیانوسی خیال رکھنے والے طلاق کی مانگ کرتے ہیں   یا اپنی بہوؤں پر گھریلو تشدد کیا جاتا ہے یا پھر انکا قتل کردیا کرنا عام بات سمجھا جاتا ہے آج کے دور میں اسلام کو بھول کر صرف اپنی نئی ایجادات کر بیٹھے ہیں— اور انتظار کرتے ہیں کہ انکا نصیب بدل جائے بناء کسی کوشش کے______________

کنیز اپنے آفس میں بھی اس بات کو لے کر پریشان تھی جس بات کی خبر کل اسکی مما اُسے دے چکی تھی , اسکی شادی کسی یوسف نامی لڑکے سے طے کردی گئی تھی جو کہ اسکے بابا کے دوست کا بیٹا تھا —وہ کچھ ہفتے پہلے ایک رانگ کال پر ناچاہتے ہوئے بھی بات کرچکی تھی اس نے بھی اپنا نام یوسف بتایا تھا مگر جو بات اُسے پریشان کررہی تھی وہ یہ تھی کہ اُس نے خود کو میجر کہا تھا اور اسکی مما نے جس یوسف کا بتایا وہ بینک میں کام کرتا تھا دونوں کے نام ملتے جلتے تھے —

جب وہ گھر آئی تو انکے بابا لاوئج میں صوفے پر براجمان اخبار پڑھ رہے تھے اسے دیکھ کر اخبار کو سائیڈ پر رکھتے آگے ہوکر بیٹھ گئے جبکہ کنیز جو اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی اپنے بابا کو دیکھ کر وہی  آگئی اور سلام کرکے ان کے برابر میں بیٹھ گئی—

اسکے بابا نے پیار سے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اسکے چہرے پر سجی پریشانی دیکھ کر اس سے پوچھنے لگے—

”فاطی بیٹا—! آپ پریشان ہیں —؟ کیا بات ہیں  آپ مجھے بتاؤ—”

کنیز نے کچھ بھی نہیں کہا بس اُنھیں دیکھنے پر ہی اکتفا کیا –اسے چُپ دیکھ کر وہ خود ہی کہنے لگے

”بیٹا— آپ کہیں یوسف کو لے کر پریشان تو نہیں —-؟”

اپنے بابا کو اسکے دل ودماغ میں کیاجنگ چل رہی تھی ٹھیک اندازہ لگاتے دیکھ اس نے معصومیت اور مظلومیت والے تاثیرات اپنے چہرے پر سجا لیئے—”

“ارے میری بچّی —! آپ فکر مت کرو —یوسف کافی اچھا بچّہ ہے آپ کو بہت خوش رکھے گا –!”

“بابا —!  لیکن مجھے شادی نہیں کرنی ہے —! ”

کنیز نے التجائی لہجے میں کہا

“لیکن کیوں—؟فاطی ,  کوئی وجہ تو پتہ چلے —؟ ”

اسکے بابا اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے.

”بابا —! مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے —”

کنیز نے بے چارگی کے ساتھ ان سے کہا

”ہاں بولو—فاطی میں سُن رہا ہوں—”

اور کنیز نے پوری بات اپنے بابا کے گوش گردان کردی وہ حیران تھے اور اسکی کم عقلی پر افسوس کررہے تھے

”اور تم مجھے اب بتارہی ہو—؟”

وہ شرمندہ ہوئی اور دبی دبی آواز کے ساتھ کہا  مجھے لگا میں خود ہی سمجھا دونگی اس لیے —”

 اسکے بابا نے لمبی سانس لی اور پھر کہنے لگے

“وہ یوسف ہی تھا —جب ہم آئسکریم کھانے گئے تھے اُس نے تمہیں دیکھا تھا وہ بس تمہیں تنگ کرنا چاہتا تھا دراصل تم دونوں کا رشتہ ہم بچپن میں طے کر چکے تھے مگر میرا دوست علی اپنے گاؤں چلا گیا اور ہم یہ بات کب کا بھول چکے تھے —-مگر–!

وہ حیران ہوتی اپنے بابا کو سنتی چلی گئی آج وہ یہ کیا بول رہے تھے اسے حیران ہونا ہی تھا .

”بابا آپ نے مجھے —-”

ابھی وہ کچھ اور کہتی جب اسکے بابا نے اُسے ٹوکا

“مجھے یقین نہیں آتا — تم یہ بے وقوفی کرونگی کوئی تم سے کہتا ہے کہ وہ آرمی آفسر ہے اور تم نے اُس سے نرمی برتنے لگتی ہو—یوسف نے مجھے سب بتایا تم ایک کرنل کی بیٹی ہوکر اس بات پر یقین کرلیا — کوئی ایک  سال میں میجر —”

وہ اب غصّے اور افسوس کے ساتھ  کہہ رہے تھے

”بابا —مجھے دھیان نہیں رہا –”

کنیز رو دینے کو تھی اسے اس طرح دیکھ کر کرنل صاحب نرم پڑے اور اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے ہدایت کرنے لگے جبکہ وہ سر ہلا کر رہ گئی اسے رہ رہ کر یوسف پر غصّہ آرہا تھا جسکی وجہ سے اُسے اپنے بابا سے ڈانٹ سُننی پڑی اور  وہ دل ہی دل  میں یہ ٹھان چکی تھی وہ اسکا مزہ اسے چکا کررہے گی—

__________

تحریم آفس میں بیٹھی تھی کل ہی اُس نے فاہم عباسی کے خلاف نیوز شائع کروانے کا زاکر گلفام کو بتادیا تھا اور ساری رپورٹ وہ انکے حوالے کرچکی تھی بس کچھ دن میں فاہم عباس بے نقاب ہوتا , اُس نے جو اتنے سالوں سے ٹیکس ادا نہیں کیئے تھے وہ سب کا سب سامنے آجانا تھا خبر کے چھپتے ہی اسے اسکا حساب دینا پڑتا—

وہ سکون کے ساتھ بیٹھی کافی پی رہی تھی جب نادرہ اس کے کیبن میں آئی اب وہ باہر کھڑے اندر آنے کی اجازت طلب کررہی تھی

”اسلام وعلیکم ! میم —-”

”کیا میں اندر آجاؤں—؟”

تحریم جو کافی کی گھونٹ بھر رہی تھی ساتھ ساتھ سامنے پڑے فائل کو بھی دیکھنے میں مشغول تھی نادرہ کی آواز سن کر اسکی جانب مڑی اور اُسے اندر آنے کو کہا

”یس نادرہ —کم ان–”

اجازت ملتے ہی نادرہ اندر آئی —

”بولوں کیاکہنا ہے ؟ ”

تحریم نے فورًا سوال کیا

میم یہ مہران سر نے بھیجا ہے —وہ آج آفس نہیں آئے ہیں کوئی آکر دے گیا ہے–

تحریم نے اسکے ہاتھ سے وہ پین ڈرائف اور لفافہ لے لیا –“ہہممم —تم جاؤ میں دیکھ لونگی,

نادرہ جاچکی تھی جبکہ تحریم الٹ پلیٹ کرکے لفافہ اور پین ڈرائف کو بغور دیکھنے لگی پھر کچھ سوچ کر اسے چاک کیا اور دیکھتے ہی انکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی —

 ___________

چھٹی کے بعد ارم اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگی ابھی وہ سڑک پار کرکے کچھ دور ہی آئی تھی اُسے لگا کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے — وہ ڈرتے ڈرتے تیز قدموں سے چلنے لگی اور ایک تنگ گلی میں گھس گئی — وہ تیز قدموں سے چل رہی تھی اب ایک گھر کے باہر رُک کر دروازے زور زور سے بجانا شروع کردیا —

اُسکے چہرے پر پیسنہ آنے لگا پھولی سانسوں کے ساتھ وہ آس پاس دیکھتی اور دروازہ نوک کرتی جاتی—

کچھ دیر میں دروازہ کھول دیا گیا اور ایک عورت جس سے نفیس سےلباس زیب تن کررکھا تھا اُس سے پوچھنے لگی–

“کیا ہوگیا تھا لڑکی —تم اس طرح دروازہ کیوں بجارہی تھی —-؟”

”وہ—امّی —!”

اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے کے بعد بس اتنا ہی کہا

وہ بوڑھی عورت جسے وہ امّی کہہ رہی تھی اسکے آواز سُن کر پریشان ہوگئیں اس کی آواز میں گھبراہٹ نمایاں تھی

”کچھ بتا بھی دو اب —”

”میں یہاں تم سے بات کررہی ہوں کسی دیوار سے نہیں —؟”

“امّی — وہ آدمی , وہ آدمی جو کچھ دن پہلے یہاں آئے تھے پھر سے میرے پیچھے پڑگئے ہیں —میں نے منع کردیا ہے کہ میں اُن کا کام نہیں کرونگی مگر —مگر پھربھی وہ مجھے زبردستی ان جرم میں گھسیٹنا چاہتے ہیں—”

وہ کہتے ہوئے رونے لگی تھی اور روتے روتے اپنی ماں کے گلے لگ گئی —

” چُپ ہوجا میری بچّی —”

”ہاں تو بلکل بھی وہ نہیں کرے گی —”

“ہم یہاں سے چلے جائیں گے آنے دو تمہارے ابا کو میں

اُن سے بات کرتی ہوں—”

وہ اُسے تسلی دے رہی تھیںاور پھر اُسے لے کر کمرے میں چلی گئیں— کمرے میں دس گیارہ سال کا ایک لڑکا بیٹھا اپنی کتابیں پھیلائے کام کررہا تھا اپنی بہن کو دیکھ کر دوڑتے ہوئے اُس کے پاس آیا

“آپی—!! آپ آگئیں , آپ کو معلوم ہے میں کب سے آپ کا انتظار کررہا تھا میں نے آج بہت اچھی ڈرائنگ بنائی ہے , چلوں دکھاتا ہوں —”

وہ لڑکا ایک لے میں بولتا اُسے پکڑکر اپنے ساتھ اُسی جگہ لے آیا جہاں کتابیں رکھی تھیں اور اُس میں سے ایک بُک فرش سے اُٹھا کر دیکھانے لگا —

ارم نے خود کو سنھبالتے ہوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجالی اور اسکی بنائی ڈرائینگ کو سہرانے لگی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس بارے میں اُسکا بھائی جان کر پریشان ہو —

”ارے وحید آپ کو تو بہت اچھی ڈرائینگ کرنی آگئی ہے —دیکھنا ایک دن آپ بڑے آرٹس بنوگے —”

وحید اپنی تعریف سُن کر خوش ہوگیا اور اپنی بہن سے لپٹ گیا جبکہ اُسکی ماں دونوں کی باتوں کو سُن رہی تھی اور انکی خوشیوں کے لیے دعا کررہی تھیں —

_____________

کنیز فریش ہونے کے بعد سُونے لیٹ گئی جب وہ سُو کر اُٹھی تو پھر سے ساری بات اسکے زہن میں گھومنے لگی آج یوسف کی وجہ سے اسکی بے عزتی ہوئی اور اسکے بابا نے اس پر غصّہ کیا اسی کا سوچ کر وہ اپنا موبائل ٹیبل سے اُٹھانے کے بعد بلاک لسٹ سے اُس کا نمبر ان بلاک کیا اور ڈائل کرنے لگی آج وہ اچھے سے اسکی خبر لینے والی تھی بیل جانے کے بعد بھی وہ کال نہیں اُٹھا رہا تھا وہ دوبارہ سے کال ملانے لگی اس بار بھی کوئی جواب نہیں ملا وہ اب کال کاٹنے ہی لگی تھی کہ یوسف نے کال اُٹھا لی—

سب سے پہلے یوسف نے ہی سلام کیا —

جسکا جواب کنیز نے جلتے کڑتے دیا

”آپ نے مجھے کال کی —خیرت ؟

یوسف اس سے پوچھ رہا تھا

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے تنگ کرنے کی اور میرے بابا کو سب بتانے کی —؟”

وہ سیخ پا ہوتی اس سے پوچھ رہی تھی

پہلے تو یوسف ہنسنے لگا —”ہاہاہا پھر اس  پاگل لڑکی کو  جواب دینے کی ٹھان لی —

آپ میری ہمت کی بات کررہی ہیں تو بتاتا چلوں ، آپ کا ہاتھ آپکے بابا سے مانگ چکا ہوں۔۔“

“اونہہ ۔۔ اور تمہیں کس قدر خوش فہمی ہے کہ میں تم جیسے جھوٹے مکار سے شادی کروں گی۔۔۔”

”جھوٹا ؟ وہ کیسے ۔۔۔“

یوسف علی نے فورًا پوچھا

”ہاں ، جھوٹا نہیں تو اور کیا ۔۔ میجر یوسف ،یہی کہا تھا نہ تم نے ؟

کنیز نے اپنا لہجہ تلخ رکھا  اسکی آواز میں بھی طنز تھا۔۔

” بھلا میں کیا کرتا اپنی بات کہنے کےلیے  مجھے میجر یوسف علی  بننا پڑا آپ پاگل جو ہیں فوجیوں کے پیچھے ،ویسے کتنا سوٹ کرتا ہے نا یہ نام  مجھ پر؟ ، اگر آپ چاہیں تو مستقبل میں مجھے میجرکہہ کر پکار سکتی ہیں،آپ کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور۔۔۔

”یو جسٹ شٹ اپ۔۔۔“

 کنیز نے غصّے سے  موبائل کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جسے موبائل نہیں بلکہ سامنے یوسف ہو ۔۔۔

جبکہ  اسپیکر پر یوسف کی ہنسی سُنائی دی جو اسکی بات سن کرزور زور سے  ہنس رہا تھا ۔۔

کنیز جو اس ساحر کی آواز سُنکر  کھو جایا کرتی تھی  اسکی شہد سے میٹھی سحر کردینے والی آواز بھی اُسے اس وقت زہر لگ رہی تھی۔۔۔

کنیز نے سیل بیڈ پر پھٹک دیا اور غصّے سے واش روم میں گھس گئی-

کنیز کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے انجان نمبر سے کال اُٹھائی اگر وہ یوسف کے بجائے کوئی اور ہوتا تو —

اور پھر جب اسکی شکایت یوسف نے انکے بابا سے کی جس پر انکے بابا نے اسے اس طرح کسی بھی نمبر سے کال اُٹھانے سے منع کیا اور اسکی کھینچائی ہوئی کیونکہ اس طرح ہی لوگ ورغلہ کر کسی کی زندگی برباد کرسکتے ہیں, مگر اسکا قصور وار بھی وہ یوسف کو ہی سمجھ رہی تھی ‍‍

___________

جاسین اپنا گھر بیچنے کا فیصلہ کر چکی تھی اور جلد از جلد اکرم کا علاج کروانا چاہتی تھی اسی سلسلے میں وہ فرقان کے دوست بلال سے بھی بات کرچکی تھی کچھ دن میں وہ خریدار کے ساتھ آنے والا تھا , چونکہ گھر بیچنا اسکی مجبوری تھی اس لیے اس کی قیمت بھی کم ملتی  وہ مجبور نہ ہوتی تو ایسا کبھی نہیں کرتی کیونکہ یہ گھر ہی ایک واحد آسرا تھا جب سے وہ شادی کرکے  آئی تھی اس گھر میں ہی زندگی گزرتی آئی تھی بہت سی مشکلات آئی جس کا اُس نے سامنا کیا فرقان اور بچّوں کے ساتھ گزاری ہر ایک یاد اس گھر کے درودیوار میں مقید تھی مگر اُسے اپنے بیٹے کو بھی بچانا تھا اس لیے اپنے دل پر پتھر رکھ  اس نے یہ فیصلہ کیا تھا .یہ بھی نہیں سُوچا وہ یہاں سے جائے گی تو کہاں جائے گی اس دنیا میں اسکا فرقان کے علاوہ کوئی نہیں تھا فرقان بھی اس فانی دنیا سے کوچ کرگیا تھا.

____________

رات کے اندھیرے میں ایک نیو مرسیڈیس ایک عمارت کے باہر کھڑی تھی اسکے علاوہ آس پاس کوئی ذی روح موجود نہیں تھا ہر سو خاموشی چھائی تھی درخت کے پتے تیز ہوا چلنے کی وجہ  سے درختوں پر جھول رہے تھے اگر کچھ سُنائی دیتا تو صرف چڑیوں کی چہچاہٹ تھی وہ بھی ایک دو بار کے بعد خاموشی کا لبادہ اُڑھ لیتیں۔

اس عمارت سے دو نوجوان نکلے جو محو گفتگو تھے ایک لڑکا وردی میں ملبوس تھا جبکہ دوسرا فارمل ڈریس میں موجود تھا۔۔۔

شاید اپنی اپنی جگہ روانگی اختیار کرنے کے ارادے سے اس عمارت سے باہر نکلے تھے چاند کی روشنی اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ واضع کررہی تھی اب بُھورے بال والا لڑکا وردی میں ملبوس نوجوان سے مصافحہ کرنے لگا

”چل یار۔۔۔ بعد میں ملتے ہیں”

چہرے پر مسکراہٹ لیئے وہ کہہ رہا تھا

“ہہہہممم ۔۔۔ اپنا دھیان رکھنا !“

“یہ بھی کوئی بولنے کی بات ہے , ضرور آخر کو ابھی میں نے بہت سے کام سر انجام دینے ہیں ۔۔۔ چلتا ہوں , پھر ملیں گے ۔۔۔”

یہ کہہ کر بُھورے بال والا لڑکا ابھی مُڑے لگا تھا جب وردی والا بول پڑا

”ایک بات پوچھوں؟”

“ہاں پوچھ ۔۔۔ ایک نہیں دس پوچھ لے دوست ہے میرا , حق ہے تجھے!!”, اور ساتھ ساتھ اُس نے آنکھ ماری

”تمہیں ڈر نہیں لگتا , یہ سب تمہیں پتہ ہے نہ ؟“

وردی والا نوجوان سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہا تھا ایک پل کےلیے اُس کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہوگئی تھی جو کچھ دیر سے مسلسل اسکے چہرے پر سجی تھی اور وہ اپنے دوست کو دیکھ یک ٹک دیکھ رہا تھا کہ وہ کیا جوابدینے والا ہے ۔۔۔

”ارے۔۔۔ تم فکر مت کرو یار !! مجھے اچھے سے پتہ ہے میں کیا کررہا ہوں اب بس اگے بڑھنا ہی میرا مقصد ہے چاہے کتنی بھی مشکلیں آجائیں , تمہارا یہ دوست پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے ۔۔۔

“ہہہمممم !! مجھے معلوم ہے تم انتہا کے ضدی ہو۔۔۔ بچپن سے دیکھتا آیا ہوں ”

اسکے دوست نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا

 بُھورے بال والا لڑکا زور زور سے ہنسنے لگا

ہاہاہاہا

پھر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے  دوبارہ سے کہا

“دیکھ یار ۔۔۔؟

جلانا آگ کا کام ہے , اور مجھے آگ سے ڈر نہیں  لگتا  اس لیئے ماچس کی تیلی دریا میں پھینک دی ہے۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آگ سمندر میں لگتی ہے یا حاسد جل کر خاک ہوتے ہیں۔۔”

وہ اپنی لے میں بولتا چلا گیاجبکہ اسکے سامنے کھڑا نوجوان اسکے چہرے پر سنجیدگی دیکھ کر حیران تھا ۔۔۔کیا کوئی اس قدر بہادر ہوسکتا تھا کہ اُسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ اسکے کتنے دشمن بن سکتے ہیں ۔۔۔

شاید یہی اپنی قسمت بدلتے ہیں , نصیب کو پلٹنا انھیں ہی آتا ہے ۔۔۔

مگر نصیب تو اللہ لکھتا ہے نہ پھر۔۔۔؟”

شاید اللہ بھی لوگوں کے نصیب تب بدلتا ہے جب انسان اُسے بدلنے کی کوشش کرے۔۔

 اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی اچانک اس نے اپنے کندھے پر کسی کالمس محسوس کیا , تمام سوچوں کی دھارا اسکے دماغ سے اوجھل ہوگئی اور وہ اپنی دنیا میں واپس آگیا ۔۔۔

 اسکے ساتھ کھڑا شخص اس سے پوچھ رہا تھا

“تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو۔۔۔؟”

”اکیلے“ وہ یہ سوچتا اپنے آس پاس اسے ڈھونڈنے لگا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔

کچھ نہیں, میں بس آرہا تھا۔۔۔

یہ کہہ کروہ اندر چلا گیا کچھ دیر میں جب وہ نکلا تو تو جیکٹ پہن رکھا تھا پھر اپنی بائک میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا ۔

 ____________

شہریال صاحب جب گھر آئے تو ارم کی امّی نے پوری بات حرف با حرف اُنھیں سُنادی ۔۔۔جسے سُننے کے بعد وہ پریشان ہوگئے اب انھیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا اس لیے انھوں نے فیصلہ لیا کہ وہ کچھ دن میں اپنی بہن صنوبر کے گھر چلے جائیں گے .صنوبر انکی چھوٹی بہن تھی جس کی شادی تقریبًا آٹھ سال پہلے انھوں نے ہی دُھوم دھام سے کروائی تھی گرچہ وہ زیادہ دور نہیں رہتی تھی  ان کے گھر سےآدھا گھنٹے کا فاصلہ تھا مگر وہاں ارم اور انکی پوری فیملی محفوظ رہتی اور اس لیے انھوں نے یہ فیصلہ لیااور اس سے  اپنی بیوی نمرہ کو بھی باخبر کردیا ۔۔۔

 وہ ارم کو کچھ دن این جی او جانے سے منع کرچکے تھے جب تک وہ یہاں تھے ۔۔۔ انھیں احتیاط برتنا تھا وہ لوگ کافی خطرہ ثابث ہوسکتے تھے جب وہ اپنے لیے جاب ڈھونڈ رہی تھی ان کا آکر اسکی مدد کرنا جیسے وہ کئی دن سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں وہ اس این جی او میں کام نہیں کرنا چاہتی تھی وہ قریب ہی کسی  این جی او کوجوائن کرنا چاہتی تھی جو اس کے گھر کے قریب ہو  مگر انھوں نے اسے ڈرا دھمکا کر مجبور کرکے  اسی این جی او کو جوائن کرنے کےلیے کہا , وہ ناچاہتے ہوئے بھی انکی بات مان گئی تھی لیکن اب اُسے ان سے ڈر لگنے لگا تھا یقینًا وہ کسی غلط ارادے سے آئے تھے اور کسی سنگین جرم میں ملوش تھے اور ارم ایسا کچھ نہیں کرسکتی تھی جس سے وہ کسی بھی کرائم کا حصّہ بنے یا کسی کو نقصان پہنچے ۔۔۔

_______________

کنیز اور یوسف کے درمیان بات ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا تھا وہ بہت غصّے میں تھی وہ جو اُسے سبق سیکھانے کا ارادہ رکھتی تھی اُس میں بھی ناکام ہوچکی تھی الٹا یوسف اسے اپنی باتوں میں الجھنے لگا تھا..

اوپر سے اسکے بابا اور مما چاہتے تھے کہ وہ اس رشتے کےلیے ہاں کردے یہی سوچ سوچ کا اسکا دماغ پاگل ہونے کے قریب تھا شادی تو وہ پہلے بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا تھا اور یوسف سے شادی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ابھی وہ سو کر اُٹھی تھی اور فریش ہوکر ناشتے کی ٹیبل پر پہنچی جہاں کرنل اور انکی وائف حنا لودھی براجمان تھے ۔۔۔

سلام کرنے کے بعد وہ اپنے لیے بریڈ پر جیم لگا رہی تھی جب اسکی مما نے اسے مخاطب کیا۔۔۔

”کیا سوچا تم نے ؟“

”کس بارے میں۔۔۔ ؟“ فورًا سوال کیا گیا

”اب یہ مت پوچھو ۔۔۔ کس بارے میں , تم جانتی ہو !!”

”مما آپ۔۔۔”

کرنل صاحب سیدھے ہوکر بیٹھ گئے جنھیں سنجیدہ دیکھ کر کنیز وہی رُک گئی۔۔۔

“مما میں نے پہلے ہی کہہ دیا میں اُس جھوٹے یوسف سے شادی نہیں کروںگی پھر آپ بار بار مجھ سے کیوں پوچھ رہی ۔۔۔؟”

کنیز نے نظر جھکا کر جواب دیا مگریوسف کےلیے کڑواہٹ اب بھی اسکے دل میں موجود تھی وہ پچھلے ایک ہفتے سے یوسف کے ساتھ شادی سے انکار کرتی آئی تھی اورحنا لودھی اُسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھیں۔۔۔

”لیکن کیوں نہیں کرناچاہتی؟  فاطی ۔۔۔!!”

“وہ ہر لحاظ سے اچھا ہے وہ تمہارا خیال رکھے گا ,وہ محبت کرنے والوں میں سے ہے ۔۔۔”

اس بار ان دونوں کے بیچ کرنل لودھی بولے تھے

“بابا۔۔۔ مجھے شادی نہیں کرنی , اور یوسف سے تو بلکل نہیں , وہ بہت جھوٹا ہےاور۔۔۔”

وہ جھوٹا نہیں ہے فاطی ۔۔۔ تم ایک بات کو لے کر بیٹھ گئی ہو , تمہیں نہیں پتہ اس طرح لڑکیاں اپنی زندگی برباد کردیتی ہیں اور تم یہ ضد چھوڑ دوں , میں علی سے کہنے والا ہوں وہ اگلے ہفتے باقائدہ منگنی کی رسم ادا کرنے اپنی فیملی کے ساتھ یہاںآجائے ۔۔۔

 ایک بار تم اُس سے مل لو پھر تمہیں اندازہ ہوگا وہ کیسا ہے اپنی حماقت میں اُسے گنواؤں مت سمجھی۔۔۔

وہ غصّے سے اُٹھ کر واپس سے چلے گئے جبکہ اسکی مما اسکا منہ دیکھ رہی تھیں  جو شر مندگی کے ساتھ نظریں جھکائے بیٹھی  اپنی پلیٹ کو گھور رہی تھی .

اب کچھ تھا ہی نہیں جو وہ کہتی کنیز نے سچ میں ایک بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا وہ یوسف کی خوبیوں سے بے خبر تھی اور خود ہی اسکے بارے میں  اپنی رائے بنا چکی تھی اس لیے وہ اسے بُرا لگنے لگا

نبیل لودھی پچھلے ایک ہفتے سے چُپ تھے مگر کنیز کی نادانی وہ پہلے ہی دیکھ چکے تھے وہ انکے سامنے باربار یوسف کو جھوٹا کہتی اور وہ نادان ہے کہہ کر ٹال دیتے مگر اس بار انھوں سے غصّے میں اسے سوچنے کا وقت نہیں سیدھا فیصلہ سنایا ۔۔۔کیونکہ وہ جانتے تھے وہ ضدی ہے نہیں مانے گی اور وہ اسکی نادانی اور بے وقوفی کی وجہ سے ایک اچھے رشتے کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتے تھے اور اس وقت تو بلکل بھی نہیں جب بات انکے جگری دوست اور اُسکے ہونہار بیٹے کی ہو ۔۔۔

___________(جاری ہے )___

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: