***لوگ نہیں۔۔ اللہ کیا کہے گا؟***

Article

لوگ نہیں۔۔ اللہ کیا کہے گا؟

تحریر :ابیہا شاہ

لوگ کیا کہیں گے؟ ہماری زندگی کا سب سے اہم مسئلہ۔ ہمیشہ سننے کو ملتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ گھر سے باہر مت جاو زیادہ۔ زور سے مت ہنسو۔ایسے کپڑے مت پہنو۔ آہستہ بولو آہستہ ہنسو کسی کی بات کڑوی بھی لگے تو خاموش ہو جاؤ،جواب مت دو۔ایسے مت کرو ویسے مت کرو۔اگر کوئ لڑکی اپنی مرضی سے اپنی زندگی کا کوئ فیصلہ کرنا چاہتی ہو تو اسکو سب سے پہلے اسی لفظ سے ڈرایا جاتا ہے۔اسکا اسکی اپنی زندگی پر ہی کوئ حق نہیں ہوتا۔ کوئ انسان اپنی زندگی جیتا ہی کب ہے۔دوسروں کی خوائش اور مرضی کے مطابق تو ہم لوگ سانس لیتے ہیں۔اسکو برا نہ لگ جائے۔ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ ہم کسی کو برے نہ لگیں۔اچھا بن کے رہنا ہیں ہمیں۔ دکھاوا۔۔۔! دکھاوا۔۔۔! دکھاوا۔۔۔! پوری زندگی ایک دکھاوا بن کے رہ گئ ہے اور مجھے نفرت ہے اس دکھاوے سے میں اپنے لیے جینا چاہتی ہوں لوگوں کے ڈر سے آزاد ہو کر  اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں

زرش غصے اور بے بسی کے عالم میں بول رہی تھی۔

  کیا ہو گیا ہے میری گڑیا کو؟  بی جان نے اسکو پیار سے پچکارا۔ وہ کسی روٹھے ہوئے بچے کی طرح زمین پر بی جان کے قدموں میں بیٹھ گئ۔اس  کے چہرے پر اذیت اور کرب کے سایے منڈلا رہے تھے۔جیسے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھی ہو ہر احساس کو دفن کر چکی ہو۔ بی جان  یہ دنیا والے اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتے۔ انکی وجہ سے آج میں اس حال کو پہنچ گئ ہوں کہ آزاد ہوتے ہوئے بھی دنیا کی قید میں ہوں میرا سب کچھ چھین کر بھی یہ مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتے۔ دو ننھے سے بےبس قطرے اسکے رخسار پر پھسلے۔ مجھے وخشت ہوتی ہے بی جان ان لوگوں سے۔اتنے منافق ہوتے ہیں یہ عقل و شعور رکھنے والے لوگ کہ دوسروں کی روح تک کو گھائل کر دیتے ہیں۔ چھلنی کر دیتے ہیں یہ بے حس لوگ دوسروں کو اپنے لفظوں اور رویوں سے۔  لوگوں کے دل بہت چھوٹے اور کھٹور ہوتے ہیں بی جان۔  زرش کے بہتے آنسوں کے ساتھ اب ہچکیوں میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ اسکی روندی ہوئ آواز نے بی جان کو بے چین کر دیا تھا۔

میری بچی تم بہت حساس ہو ہر کسی کی فکر کرتی ہو لوگ تو ایسے ہی ہیں یہ خوشی میں ناچنے تو آ جائیں گے لیکن جب تم مدد کیلیے پکارو گی تکلیف میں پکارو گی تو تمھاری طرف بیگانگی سے دیکھیں گے گویا تمھیں جانتے ہی نہ ہوں۔ بی جان اسے تسلی دیتے ہوئے بولیں۔  بی جان کیا یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ اتنے ظالم کیسے بن جاتے ہیں لوگ۔ اشرف المخلوق بولا ہے نہ انسانوں کو؟  پھر کیوں یہ جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں؟  دیکھنا بی جان روز محشر جب میرا اللہ مجھے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا کہ بتاو اپنے ساتھ ہوئے ظلم۔ تو اس دن میں کسی کو معاف نہیں کروں گی ایک ایک کا نام لے کر سامنے کھڑا کرواں گی اپنے۔ یہ جن لوگوں کیلئے میں اپنی انا قربان کر دیتی ہوں نہ کل کو اپنی انا نہیں قربان کروں گی۔ زرش کی آواز میں لرزش بی جان کو بھی محسوس ہو رہی تھی۔ تم اتنی کمزور تو نہیں زری کہ لوگوں کو جواب نہ دے سکو۔ کیوں لوگوں کے رویوں کو خود پہ طاری کر دیتی ہو۔ کیوں سنتی ہو کسی کی بات۔ کیوں لگاتی ہو امیدیں لوگوں سے۔ کیوں اجازت دیتی ہو کہ کوئ تمھارا نام لینے کی ہمت بھی کر سکے۔ اپنے آپ کو مضبوط کرو لوگوں کے الفاظ ان کے منہ پر مارنا سیکھو۔ بلاوجہ ظلم سہنے والا بھی ظالم لوگوں میں شامل ہوتا ہے بی جان اسکو سمجھاتے ہوئے بولیں۔ کیسے کروں بی جان کیسے روکوں لوگوں کو؟

جو کسی بے گناہ کو بھی نہیں چھوڑتے جو کسی پاک کو بھی ناپاک ثابت کر دیتے ہیں اپنی گندی سوچوں اور لفظوں سے۔ کوئ اچھا کام کرے تب بھی شکوے ۔ برا کرے تب بھی ناخوش۔  یہ لوگ تو کسی حال میں خوش نہیں ہوتے۔ہم لوگ آدھی زندگی تو ان دوسرے لوگوں کو خوش کرنے میں گزار دیتے ہیں ہم خود کیا چاہتے ہیں اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کٹھ پتلیوں کی طرح دوسروں کی خوائش پر ناچ رہے ہوتے ہیں اور بس لیکن ہم خود خوش نہیں رہ پاتے بی جان۔ میں خوش نہیں ہوں مجھے سکون نہیں ہے  میں بیزار ہو چکی ہوں دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے کرتے۔ میں اپنے اوپر سے یہ خول اتارنا چاہتی ہوں اب۔ میں دل سے مسکرانا چاہتی ہوں۔ میں سانس لینا چاہتی ہوں اپنی مرضی سے۔ ان لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش میں ہم اللہ سے بھی کتنا دور ہو جاتے ہیں بی جان۔ واقعی یہ دنیا فسادی ہے  گمراہ کر دیتی ہے  یہ انسان کو۔  اور ہم لوگوں کو خوش کرتے کرتے خود بھی دنیا کی رنگینی میں کھو کر بے سکون ہو جاتے ہیں پتا نہیں کب وہ دن آئیں گے جب یہ سوچے بنا کوئ دن گزرے گا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جب ہم واقعی لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں  گے۔

زرش خلا میں گھورتے ہوئے بول رہی تھی جیسے کہ وہ یہ سب محسوس کرنا چاہ رہی ہو۔ تو اللہ سے دل کیوں نہیں لگا دیتی تم اگر تم یہ سوچنا شروع کر دو کہ اللہ کیا کہے گا۔ تو تم اس سوال سے ہمیشہ کیلئے بچ جاو گی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہم لوگوں کی فکر میں اور دکھاوے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ زندگی میں دکھاوا ہی رہ جاتا ہے اور پھر دکھاوے میں سکون کہا۔ بی جان نے ایسے انداز میں کہا جیسے وہ کسی جادوئ طاقت کا ذکر کر رہی ہوں  اور زرش کو اس طاقت سے آشنا کرنا چاہ رہی ہوں زرش

نے ناسمجھی کے عالم میں سوالیا انداز میں انکی جانب دیکھا تو وہ مسکرانے لگیں اور گویا ہوئیں۔۔!

دیکھو بچے تم سادہ زندگی کو زیادہ پسند کرتی ہو پردے کو اہمیت دیتی ہو لیکن بہت سی جگہ یہ تمھارے لیے مشکل ہو جاتا ہے بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ سادہ حلیہ تمھیں پر سکون رکھتا ہے لیکن اکثر کسی شادی بیاہ کے موقعے پر محض دکھاوے کیلیے ہی اتنے مہنگے کپڑے اتنا میک اپ کرتی ہو۔ ناچاہتے ہوئے بھی یہ سب کرتی ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اپنے حجاب کو بھی اہمیت نہیں دیتی۔ لیکن اب تمھیں کہیں بھی جانا ہو یا تم کچھ بھی کرنے لگو۔ تو لوگ کیا کہیں گے اس سوال کی جگہ اللہ کیا کہے گا۔ یہ سوال رکھنا۔ تو تمھیں جواب ملے گا کہ اللہ کو تم سادگی میں بہت پیاری لگتی ہو دوپٹہ سر پر اوڑھے جب تم کسی محفل کا حصہ بنو تو چاہے کسی کو پیاری لگو یا نہیں لیکن اللہ کو بہت پیاری لگ رہی ہو گی۔ تم کوئ کام اچھی نیت سے کرو جس پر لوگ تمھیں تنبیہ کریں یا اس کام کو ناپسند کریں جبکہ تمہاری نیت اچھی ہے تو اللہ کو تم پہ کتنا پیار آ رہا ہو گا۔ یہ سوچ تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی۔ یہ سوچ تمھیں اتنا سکون دے گی کی تم سوچ بھی نہیں سکتی۔ بی جان نے ایک مثال دیتے ہوئے اسکو سمجھانا چاہا اور زری بے یقینی سے انکو تک رہی تھی اسنے ایسا کبھی کیوں نہ سوچا تھا لوگوں کو خوش کرنے کے چکر میں اللہ کو ناراض کر دیا کرتی تھی۔ میں نے عمر گزاری ہے تمھاری طرح اکثر الجھ جایا کرتی تھی۔ نفرت کرنے لگی تھی اپنے آس پاس کے فسادی لوگوں سے جو میری زندگی کا سکون چھین لیا کرتے تھے۔ لیکن پھر اللہ کی محبت غالب آ گئ۔ میں انکی محبت میں اس قدر ڈوب گی کہ کڑوے لہجے کے لوگوں کو بھی صدقے میں معاف کر دیا کرتی۔  بس پھر مجھے نفرت نہیں ہوتی تھی لوگوں سے انکی باتیں مجھے پریشان نہیں کرتیں۔ اس کے بعد تو بس ایک ہی فکر میں گم ہوں میں کہ اللہ کیا کہے گا؟ اس ایک جملے نے تو زندگی کا مطلب ہی بدل ڈالا ہے۔ لوگ تو کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں  بی جان مسکراتے ہوئے آپ بیتی سنا رہی تھیں۔ زرش نے گھڑی پر وقت دیکھا سات بجنے والے تھے وہ جلدی سے دوپٹہ سر پر لیتی اٹھ کھڑی ہوئ۔ ہاں بھاگو۔۔۔! بھاگو۔۔! مغرب کے بعد اگر گھر جاو گی تو لوگ کیا کہیں گے کہ پتا نہیں کہا کہا سے گھوم کر گھر آ رہی ہے لڑکی۔ بی جان نے ناراضگی سے اسکے روز دیئے جانے والے جواب کو دہرایا۔۔۔ ارے میری پیاری بی جان۔۔۔!  مغرب ہونے والی ہے وضو کیلئے جا رہی ہوں اگر ہم لیٹ ہو جائیں گے تو اللہ پاک کیا سوچیں گے کہ کتنی سست لڑکی ہے یہ۔ زرش نے بہت لاڈ سے اک نظر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر ہنستے ہوئے بی جان کو بولی۔اسکی ہنسی میں آزادی کہ رمق اور سکون کا اثر نمایا تھا۔ جسکو بی جان نے صاف محسوس کیا تھا اور انکے نورانی چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئ تھی۔ کیونکہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنکو اللہ اپنے لیے چن لیتا ہے۔

اب میں کیوں سوچوں

کہ لوگ کیا کہیں گے

مجھ کو تو فکر کرنی ہے

کہ میرا اللہ کیا کہے  گا۔

*******************

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: