***مرے ہوئے زندہ لوگ***Mary Hwy Zinda Log***

Article

***مرے ہوئے زندہ لوگ***

.غضنفر کاظمی

نا جانے لوگ رات کو قبرستان جاتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو اتنے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر مجبوری میں قبرستان سے گزرنا پڑ بھی جائے تو جب تک قبرستان سے گزریں گے راستے بھر قران مجید کی جتنی سورتیں حفظ ہوتی ہیں ان کا ورد کرتے ہوئے چلتے ہیں، ویسے قرآن مجید کی سورتوں کا ورد کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں بلکہ ثواب کا ہی کام ہے لیکن جس نیت سے پڑھتے ہیں یعنی قبرستان میں پھرنے والی مفروضہ بد ارواح اور سایوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے، مجھے اس وجہ پر اعتراض ہے۔ قبرستان میں کوئی بھوت پریت ، بد ارواح یا سائے نہیں ہوتے، حالانکہ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو قبرستان شہروں کی نسبت بہت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں وہاں آپ کو یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ ابھی کسی قبر سے کوئی مردہ نکل کرآپ کے سینے پر گن تان کر آپ کی جیبوں سے تمام مال و متاع نکال کر چلتا بنے گا، یہ کام تو ان آبادیوں میں ہی ہوتا ہے جن کو آپ اپنے طور پر زندہ شمار کرتے ہیں، ویسے میں تو زندگی کا مفہوم ہی فراموش کر بیٹھا ہوں، مجھے تو ہرطرف مردہ ہی نظر آتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم دو قسم کے مردوں میں زندگی بسر کررہے ہیں، ایک وہ مردہ ہیں جو زیرِ زمین آباد ہیں اور دوسرے وہ مردے جو زمین کے اوپر آباد ہیں۔ زیرزمین آباد مردے ایک بار کفن پہنتے ہیں اور اسی میں قیامت تک رہتے ہیں جبکہ زمین کے اوپر آباد مردے ہر روز ایک نیا کفن پہن کرآپ کے سامنے نئی سج دھج کے ساتھ آجاتے ہیں، اور یقین کریں کہ زمین پر آباد مردے زیرزمین آباد مردوں کی نسبت کہیں زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں، ان میں زیر زمین مردوں کی طرح بے حسی تو ہوتی ہی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ بے حسی کے ساتھ ساتھ یہ آپ کی کوئی بھی شے چھیننے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے آپ کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان مردوں کی شکیب جلالی نے کچھ اس انداز میں تصویر پیش کی ہے: ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے …. چھلکے سجے ہوئے ہیں پھلوں کی دکان پر کہنے کو ہم مسلمان کہلاتے ہیں، بلکہ خود بھی بڑے فخر کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے ہیں، جبکہ مجھے اس پر اعتراض ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ہماری رفتار، گفتار اور عمل ہمیں مسلمان ظاہر نہیں کرتے بلکہ ہمارا مسلمان ہونا ہمارے زبانی اظہار کا محتاج ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم حقیقی مسلمان نہیں ہیں، مسلمان کا کردار تو ایسا ہونا چاہئے کہ دیکھنے والا دور سے دیکھ کر ہی کہہ اٹھے کہ یہ تو کوئی محمد صلی اللہ الیہ و آلہ وصلم کا دیوانہ آرہا ہے….ابھی میں اپنی اس تحریر کے اس حصے تک ہی پہنچا تھا کہ ایک قریبی دوست بلائے نا گہانی کی طرح وارد ہوگیا اور اس انداز میں کہ اس کے غلیظ پاﺅں فرش کو گندا کرتے آرہے تھے، حالانکہ جب میں کچھ تحریر کرتا ہوں تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایک ہی نشست میں تحریر مکمل کرلوں کیونکہ اگر درمیان میں ادھوری چھوڑنی پڑے تو دوبارہ شروع کرنے پر وہ تحریربہت حد تک تبدیل ہوجاتی ہے، بہرحال آنے والا دوست بے تکلف اور سکول کے زمانے کا تھا اس کو ٹالنا بھی ممکن نہیں تھا لیکن دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی اور میری سوچ میں زمین آسمان کا فرق تھا،وہ غربت، افلاس اور بے روزگاری کا کچھ ایسا شکار تھا کہ خود کش حملہ آوروں، بم دھماکے کرنے والوں، اغوا برائے تاوان کے مجرموں غرض ہر مجرم کی حمایت کرتا اور دلیل یہ دیتا کہ جب حکومت عوام کو غذا نہیں دیتی تو عوام کا حق ہے کہ جیسے چاہیں غذا حاصل کریں، بہرحال میں نے اس کو بلالیا، اس نے آتے ہی سب سے پہلے میری ادھوری تحریر پڑھی اور بولا ، ”تم معاشرے میں مایوسیاں کیوں پھیلاتے ہو، آج تم نے ساری دنیا کو مردہ بنا دیا ہے، عوام تو پہلے ہی سے مایوسی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں تم انہیں جینے کی امنگ دو، کچھ خوشیاں دکھانے کی بات کرو، اور کچھ نہیں کرسکتے تو مزاحیہ تحریر کے ذریعے دو منٹ کے لئے ان کو لبوں پر مسکراہٹیں ہی بکھر جانے دو، کوئی دو چار لطیفے ہی تحریر کردو“۔ دوست کی تقریر سن کر میں نے کہا کہ میں حقیقت ہی تحریر کرنا چاہتا ہوں جھوٹ نہیں لکھنا چاہتا جب میرے اپنے لبوں پر مسکراہٹ نہیں ہے تو عوام کے لئے مانگے کی مسکراہٹ کہاں سے لاوں؟ مجھے خود کہیں امید کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی تو عوام کو یہ جھلک کہاں سے لاکر دوں؟ یہ سن کر میرے دوست نے کہا کہ تمہاری تان طالبان پر آکے ٹوٹے گی جو بے گناہ افراد کا خون بہا رہے ہیں حالانکہ یہ بات پوری دنیاکی طرح تم خود بھی جانتے ہوکہ ان طالبان کو خونخوار بنانے میں بھی اسی کا ہاتھ ہے جو آج ان کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے یہ طالبان بھی انسان اور ہماری توجہ کے محتاج ہیں آخر تم انہیں انسان کیوں نہیں سمجھتے؟ اس کی بات سن کر میں نے کہا کہ یار یہ بات نہیں میری تان طالبان پر نہیں ٹوٹنی تھی اور ویسے میں بھی جانتا ہوں کہ یہ طالبان کبھی سیدھے سادے انسان تھے جو انسان اور انسانیت سے محبت کرتے تھے ، ان کے خون کی پیاس بھڑکانے والا بھی وہی ہے جو آج ان کے خون سے اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کررہا ہے اور میں ان سے محبت کرتا ہوں اس کاثبوت یہ ہے کہ میں ان کی اصلاح چاہتا ہوں اور اصلاح ہمیشہ دوست ہی کرتا ہے، پھر اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتا میں نے اس سے کہا کہ میں ایک سوال کرتا ہوں وہ میری بات کا جواب دے، اور اتنا کہہ کر میں فوراً ہی سوال بھی داغ دیا: میںنے کہا کہ” ایک باز کئی روز سے بیمار غشی کی حالت میں پڑا تھا، کئی دن بعد اس کی غشی دور ہوئی تو اس کو بھوک کا احساس ہوا کیونکہ کئی روز کا بھوکاپیاسا تھا، اس لئے پہلے اپنے پروں کو پھڑ پھڑا کر ان میں اڑان بھرنے کی قوت پیدا کی پھر غذا کی تلاش میں پرواز کرگیا، اسی جنگل میں ایک درخت پر گھونسلے میں ایک کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے اس روز ان میں سے بچے نکلے، بچوں کو دیکھ کر کبوتری نے خوشی سے غٹر غوں غٹر غوں کرکے کبوتر کو بلایا ، کبوتر نے آکر اپنے بچوں کو دیکھا پیار سے ان کے سروں پر اپنی چونچ کو پھرایا اور پھر ان کے لئے غذا کی تلا ش میں پرواز کرگیا، ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ سامنے سے آتے ہوئے بھوکے باز نے کبوتر کر دیکھا تو اس کی جانب بڑھا، بازکو دیکھ کر کبوتر نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اورپرواز کی رفتار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کو پکارنے لگا کہ اے میرے رب تو رحمن و رحیم ہے، تو جانتا ہے کہ میرے نومولود بچے بھوکے ہیں اگر اس موذی نے مجھے پکڑ لیا تو میرے بچے بھوک سے بلک بلک کر مر جائیں گے، اے میرے رب مجھے اتنی قوت عطا فرمادے کہ اس موذی ظالم سے جان بچا سکوں۔ ادھرباز بھی اپنے رب سے دعا مانگ رہا تھا کہ اے میرے رب تو رحمن ورحیم ہے، تو جانتاہے میں کئی روز سے بیمار تھا اور غشی کے عالم میں بھوکا پیاسا پڑا تھا، اب تو نے اپنی رحمت سے مجھے قوتِ پرواز عطا کی ہے تو اتنی قوت بھی عطا فرمادے کہ میں اپنے سامنے پرواز کرتے اس شکار کر پکڑ کر آتشِ شکم کو سرد کرسکوں“۔ اتناکہہ کر میں نے اپنے دوست سے سوال کیا کہ فرض کرو یہ دونوں پرندے تمہارے پاس آکر تم سے مدد طلب کرتے تو تم کس کو مدد دیتے، باز کو یا کبوتر کو؟ میری بات سن کر دوست کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا ، ”یار یہ سوال کافی مشکل ہے اچھا تم بتاو کہ اگر یہ تم سے مددمانگتے تو تم کس کی مدد کرتے؟ میںنے کہا کہ میں کبوتر کی مددکرتا کیونکہ اس کے بچوں نے اپنے گھونسلے کے علاوہ ابھی اور کچھ نہیں دیکھا تھا انہیں زندگی ابھی شروع کرنا تھی جبکہ باز کئی سال گزار چکا تھا اور عمر کے اس حصے میں تھا جہاں قدم قدم موت کی جانب بڑھ رہا تھا تو اول تو اس کو کوئی اور غذا بھی مل سکتی تھی اور اگر نہ بھی ملتی تو وہ تو بہرحال ہر قدم موت کی جانب ہی بڑھ رہا تھا۔ میراجواب سن کر دوست بولا کہ یار سوچ تو میں بھی یہی رہا تھا کہ بچوں کو بچانا چاہئے، کیونکہ بچوں سے ہماری آئندہ نسل چلتی ہے ہم تو جو ہیں وہ ہیں ہمارے بچوں میں کوئی اے کیو خان ہوگا کوئی ثمر مبارک مند ہوگا کوئی ایم ایم عالم ہوگا اور کوئی فاضل ہوگا اس لئے بچوں کوبچانا ہی بہتر ہے۔ میں نے فوری طور پر کہا کہ بس اب یہ سمجھ لو کہ تمہارے اندر بچوں کو بچانے کا جو جذبہ ہے یہ انسانیت کا جذبہ ہے اور جس میں یہ جذبہ ہو اسی کو انسان کہتے ہیں۔ اب تم مجھے یہ بتاو کہ جو لوگ بچوں بڑوں ، جوانوں اور بوڑھوں کو بلا تخصیص ختم کررہے ہیں ان میں تو جذبہ ¿ انسانیت ہی نہیں ہے تم انہیں انسان کیسے کہہ سکتے ہو، اب رہی یہ بات کہ جس نے انہیں قتل کرنا سکھایا اب وہ خود ہی انہیں قتل کررہا ہے تو میرے بھائی اللہ نے عقل نام کی چیز اسی لئے دی ہے نا کہ کسی کے مشورے پر اندھا دھند عمل کرنے سے پہلے اپنی عقل استعمال کرو اور دیکھو کہ جو کام کرنے جارہے ہو وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ کرنے کے لئے آدمی کا انسان ہونا ضروری ہے علامہ اقبال نے اسی لئے تو کہا ہے کہ: آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا: لیکن یہاں صرف انسان ہونے ہی کی بات نہیں میں تو ان کو زندہ بھی نہیں سمجھتا بلکہ وہ حقیقت میں مردہ ہیں، جن میں کسی کا دکھ محسوس کرنے کی حس نہیں، کسی کی تکلیف انہیں متاثر نہیں کرتی، کسی کی پریشانی سے وہ پریشان نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کی پریشانیوں میں اضافہ کرکے انہیں کوئی شرمندگی، کوئی پچھتاوا اور کوئی دکھ نہیں ہوتا میں انہیں زندہ کیسے سمجھ لوں، اسلام کا پہلا درس ہی انسانیت ہے، اسی لئے اسلام کو فلاحی دین بھی کہا جاتا ہے، اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانے کو پوری انسانیت کو بچانا قرار دیا گیا ہے، پھر میں ان قاتلوں کو انسان کیسے مان لوں؟ میں صرف طالبان کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ ان تمام قاتلوں کی بات کررہا ہوں جو انسانیت کے قاتل ہیں ان میں امریکہ بھی ہے بھارت بھی اور اسرائیل بھی ، کراچی کے بھتہ خور بھی ہیں اور لسانی و گروہی بنیادوں پر قتل کرنے والے بھی،بچوں کو اغوا کرنے والے بھی ہیں اور بلوچستان کے نام نہاد لبریشن آرمی اورٹائیگرز بھی اور مجرم بھی، جو بے دریغ انسان کا نہیں بلکہ انسانیت کا خون کر رہے ہیں، اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ لوگ اسلام کا ….اسلام کی روح کاخون کررہے ہیں تو غلط نہ ہوگا اور اس سب کی ذمہ داری تمام اہلِ قلم،اہل علم، اساتذہ، خطیبوں، معلموں، مبلغوں اور علمائے حق پر ہوگی ،قیامت کے روز ان قتل کرنے والوں سے پہلے ان علمائے حق،خطباءاور مصنفین سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنے دور میں اللہ کی دی ہوئی صفت سے بندگان خدا کی بھلائی اور اصلاح کے لئے کیا کیا؟ اس وقت میں کم از کم اپنی یہ تحریر تو پیش کرسکوں گا کہ اے مالک ، رحمن و رحیم، یہ میری تحریریں ثبوت کے طور پر ہیں میںنے تیرے عطا کردہ قلم سے گمراہی نہیں بلکہ حتی المقدور اصلاح کی کوشش ہے اور چند جہلا نے عالمی سطح پر اسلام کی جو مسخ شدہ تصویر پیش کی تھی میں نے اس تصویر کا حقیقی چہرہ سامنے لانے کی کوشش کی ہے اگر تو قبول فرمالے تو …….. آگے تو مالک و مختار ہے جو تیری رضا وہی میری بھی۔ میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ میرا دوست خاموشی سے اٹھا اور میری طرف اپنی نم آنکھوں سے بھیگی بھیگی نظریں ڈالتا چلا گیا میں اس کے نقش پا کو دیکھنے لگا جو اب میلے نہیں بلکہ کچھ کچھ اجلے محسوس ہورہے تھے انہیں دیکھ کر میرے دل میں سکون کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: