٭تم چاہ کر چاہ نہیں سکتے! اگر اللہ نہ چاہے٭

Article


Zulqarnain Ahmed Ishaq Shah (1)
٭٭٭برقعہ بھی پردے کا محتاج٭٭٭

Zulqarnain Ahmed has done B.Sc, B.Ed from University of INDIA ( Maharashtra)

He is a Freelance Journalist and Social Activist.
٭تم چاہ کر چاہ نہیں سکتے! اگر اللہ نہ چاہے٭

تحریر:زوالقرنین احمد مہاراشٹر

عشق و محبت کا جذبہ انسان کے اندر فطری عمل ہے۔ جب عشق ہوتا ہے، تو انسان اپنے آپ کا بھی نہیں رہتا عشق ہونے میں ضروری نہیں کہ دونوں ہی جانب سے عشق ہو، عشق یکطرفہ بھی ہوتا ہے اور دو طرفہ بھی اکثر عشق یکطرفہ وجود میں آتا ہے۔ لیکن بہت کم ہی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جب عشق کا کسی دل پر الہام ہوتا ہے، تو عاشق معشوق کیلے اپنے وجود کی نفی کرنا شروع کردیتا ہے۔اپنی اناؤں، خواہشات کو محبوب پر وار دیتا ہے۔ عشق کا سلسلہ شروع ہونے کیلئے کوئی خاص موقع کی ضرورت نہیں ہوتی، نہ اس میں کسی کی رائے درکار ہوتی ہے۔ وہ کبھی آنکھوں سے اتر کر دل کی گہرائیوں میں جا کر گھر بنالیتا ہے۔ کسی کی سریلی آواز دل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی قلب و ذہن پر قبضہ کرلیتی ہے۔ عشق ہوجائے تو اس میں انسان کا بس نہیں چلتاہے، وہ محبوب کی زلفوں کا اسیر ہوجاتا ہے۔ جسکی خبر اسکے معشوق کو بھی نہیں ہوتی وہ خود کو ایک ایسی قید کا اسیر بنا لیتا ہے۔ جس کے در کھلے ہونے کے باوجود پر تولنے کی کوشش نہیں کر سکتا ہے۔ اگر عشق دو طرفہ ہو تو انسان کی خیر ہے اگر وہی عشق یکطرفہ ہو تو انسان عمر ہجر میں گزار دیتا ہے۔ عشق جب اپنے رنگ عاشق پر آشکار کرتا ہے تو دنیا کے تمام چیزوں سے بے خبر ہوکر عاشق اپنے معشوق کے خیالات و تصورات میں گم ہوکر محو خیال یار میں مست ہوجاتا ہے۔ وہ معشوق کی ایک ایک بات کو تصور میں لاکر انکے ساتھ اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے۔ محبوب کے ساتھ گزارے لمحات کو اپنے خوابوں کے محل میں سوچتا رہتا ہے۔
عشق نگاہ سے دل اور دل سے جسم کی رگوں میں بہتے خون میں تحلیل ہوکر جسم میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ تب انسا‌ن اپنے حواس کو کھو دیتا ہے۔ وہ تو ہی تو کے عالم میں گم ہوجاتا ہے۔ا سکے اندر کی انا اور خواہش سب محبوب پر وار دیتا ہے۔ انسان چاہ کر بھی سچے عشق سے رہائی نہیں پا سکتا۔ جب عشق سچا ہو اور دنیا میں اسکی تکمیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی دیکھائی دے تب عاشق اور‌ معشوق موت کی خواہش کرتے ہے۔ کیونکہ ان کیلئے ایک دوسرے کے بغیر جینا محال ہوتا ہے۔ اور جب عشق خاندانوں کے معیار اور اناؤ کی بھینٹ چڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ تو دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف غلط فہمیاں جنم لینا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ اس میں عاشق و معشوق کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ انکا عشق سچا ہونے کے باوجود اس ظالم معاشرے اور خاندانوں کے معیار ذات پات اور پگڑیوں کے مان رکھنے میں دل کے مخصوص خانوں میں زندہ دفن ہوجاتا ہے۔ عشق کی یہ موت صرف دوریاں پیدا کر سکتی ہے، دو دلوں سے جڑی محبت کو کبھی ختم نہیں کرسکتی ہیں۔ خاندانوں، معاشرے کے بنائے گئے خود ساختہ اصولوں کو والدین کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دو محبت کرنے والے پاکیزہ محبت کو حلال طریقے پر نکاح کے زریعے تکمیل دینے کی خواہش میں بے موت مارے جاتے ہیں۔ جس میں سے آج کل اکثر ٹوٹتے وجود کو سمیٹنے کی حالت میں نہیں رہتے اور حرام موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ لیکن خودکشی تو حرام ہے۔ محبت اتنی کمزور نہیں ہوتی کے کسی کو اکیلے چھوڑ کر خود کو تکلیف سے بچانے کیلے خودکشی کر کے اپنے معشوق کو تنہا چھوڑ جائے۔
جب عشق سچا ہوتا ہے،تو عاشق جدائی ہونے کے باوجود بھی اپنے معشوق کو ہمیشہ دعاؤں کے حصار میں رکھتا ہے۔ اس کا قلبی تعلق کبھی ختم نہیں ہوسکتا ہے۔ محبوب سے جڑی ہر بات اور چیزوں کو وہ مختلف چہروں میں تلاش کرتا ہے۔ لیکن کسی اور میں وہ روح کو نہیں پا سکتا۔ جو وہ اپنے معشوق میں دیکھتا ہے۔ اپنے دل میں معشوق کیلئے اور معشوق کے دل میں اپنے لیے جو احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ وہ کہی اور نہیں مل سکتے۔ عشق ایسی چیز ہے جو ہونے سے پہلے اجازت نہیں لیتی اور گر ہوجائے تو پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ اس میں انسان کے دماغ کی نہیں چلتی اور نہ بس چلتا ہے۔ کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ انسا‌ن یکطرفہ عشق میں مبتلا ہوکر بہت سارا وقت محبوب کے ساتھ گزارتا ہے۔ اور اتنے سال بیت جانے کے بعد دونوں کو ایک دوسرے کی عادت ہوجاتی ہے۔ جبکہ عاشق یہ سمجھتا ہے کہ وہ یکطرفہ عشق میں مبتلا ہے۔ لیکن اتنا عرصہ ساتھ بیتنے کے بعد معشوق کو بھی عاشق سے عشق ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ کبھی اس سے بیان نہیں کرتا ہے۔ اور جب گھر والوں کی طرف سے کئی اور رشتے کی بات کا علم ہوتا ہے تب معشوق اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ تب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ جب عاشق کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو بہت عجیب کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ جسکی محبت کو پانے کیلئے چھوٹی چھوٹی ہمدردیاں محبوب سے حاصل کرتا تھا آج وہ خود اسکے لیے رو رہا ہے۔ جبکہ عاشق ہر وقت اپنے معشوق کو اپنانے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ لیکن اسکی محبت خاندان اور معاشرے کے معیار اناؤں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔
اور معشوق اپنے عاشق کو ہی بے وفا کہنا شروع کر دیتا ہے۔ اور اس غلط فہمیوں کے بے بنیاد الزام کو عاشق خاموش برداشت کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ اسکے دل کے حال کو بہتر جانتا ہے۔
عشق بھی نہ ایسی بلا ہے کہ ہونے سے قبل انسا‌ن کو سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی ہے۔ تاکہ وہ اس بات پر غور کر سکے کہ وہ جس سے عشق کر رہا ہے، وہ اسے عمر بھر کیلئے نصیب ہوگا یا نہیں۔ یا معشوق اسکی قسمت میں ہے یا نہیں۔ یا خاندان معاشرہ انکے عشق میں آڑ بن جائے گا! کیونکہ عشق تو بس ہوجاتا ہے۔ اسکے لیے اجازت درکار نہیں ہوتی ہے۔ نہیں وہ سوچنے کا موقع انسان کو دیتا ہے۔ کہ وہ جو کرنے جارہا ہے وہ اس کیلئے صحیح ہے یا نہیں۔ اور آخر میں اس کے نتائج بڑے سنگین صورتحال اختیار کر جاتے ہیں۔ کئی دونوں ہی موت کو گلے لگا لیتے ہے اور اگر اللہ کا ڈر و خوف رکھنے والے رہے تو وہ خودکشی سے تو بچ جاتے ہیں لیکن ایک دوسرے پر غلط فہمیوں کے نتیجے میں الزام لگاتے ہیں۔
اور جو وقت کی نزاکت و حالت کا ادراک رکھتے ہیں وہ اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ کر صبر کرتے ہیں۔ کیونکہ جس نے پیدا کیا اور جس نے ایک دوسرے کے دل میں محبت پیدا کی وہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کیلئے کیا بہتر ہے۔ ایسے حالات میں ایک دوسرے کو الزام نہ دیتے ہوئے قسمت کے فیصلے کو قبول کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ قسمت میں جو لکھا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔ دعائیں ہی اس کا رخ بدل سکتی ہے۔ لیکن کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہے جو فوراً قبول نہیں کی جاتی بلکہ آخرت کیلئے زخیرہ کردی جاتی ہے یا اس کے بدلے کسی بڑی مصیبت پریشانی کو ٹال دیا جاتا ہے۔ یا اس کے بدلے بہتر دیا جاتا ہے۔
انسان عشق کے معاملے میں بڑا ہی حساس ہوتا ہے اس کے دل سے سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ وہ دل کے گوشے میں اپنا مقام بنا لیتی ہے۔ ظاہری شکل و صورت میں انسان تمام درد و غم کو دنیا والوں کے سامنے جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ چھپا دیتا ہے لیکن دل کا حال تو بس وہی جانتا ہے۔ جسے عشق کی شدت پتہ ہو۔ عشق مرتا نہیں ہے۔ وہ امر ہوجاتا ہے۔

تحریر:زوالقرنین احمد مہاراشٹر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: