٭٭تقریب آزادی۔۔۔اور وہ بابا٭٭

independance day article

٭٭تقریب آزادی۔۔۔اور وہ بابا٭٭
(ماہ اگست کے حوالے سے خصوصی تحریر)
تحریر:عبدالرؤف عدم
غلام خان“ کے ہاں ”آزادی“ کی بہت بڑی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔”بڑے“لوگ”چھوٹے“ معاملات پر آپس میں زور و شور سے بحث کر رہے تھے۔باقاعدہ تقریب اپنے مقررہ وقت سے ٹھیک۔۔۔3 گھنٹے لیٹ شروع ہوئی۔سب سے پہلے ایک سرکاری افسر نے ”اردو“ کی اہمیت پر ”انگلش“ زبان میں اس قدر عمدہ تقریرکی کہ مجمع پر ”رِقت“ طاری ہو گئی بلکہ کچھ انگلش زبان سے نا آشنا لوگوں پر ”دِقت“ بھی طاری ہوئی۔اس کے بعد چار گھنٹے بیوٹی پارلر میں تیار ہونے کے بعدتقریب میں آنے والی ایک ”فیشن زدہ“ بیگم صاحبہ نے ”سادگی“ کے موضوع پر ایسی شاندار گفتگو فرمائی کہ وہاں موجود لوگوں پر ”سحر“طاری ہو گیا۔اس سے پہلے کہ یہ ”سحر“”قہر“ میں تبدیل ہو تا،وہ بیگم صاحبہ نہایت ”سادگی“ کے ساتھ اجازت لے کر رخصت ہو گئیں کیونکہ انہوں نے ابھی 25ہزار روپے کی ساڑھی اور 15ہزار کے جوتے پہن کر جشن آزادی کی ایک او ر تقریب میں ”فضول خرچی۔۔ ایک لعنت“ کے موضوع پر اپنا ”روح پرور“ لیکچر بھی دینا تھا۔تقریب میں اب وطن سے محبت کے حوالے سے گیت پیش کیا جانا تھا۔ایک نوجوان جو تقریب کے آغاز سے اب تک اپنے موبائل پر ”بھارتی“ گانے سن رہا تھا،فوراً اٹھا اور ”پاکستانی“ نغمہ، وطن کی ”محبت“ میں اس قدر”ڈوب“ کے گایاکہ لوگوں پر”وجد”طاری ہو گیا۔بہت سے لوگ تو وطن کی محبت میں گلوکار کے ساتھ ہی ”ڈوب“ گئے جنہیں بعد میں بڑی مشکل سے نکا لا گیا۔ ’’رشوت“ کے الزام میں سزا یافتہ ایک ”بڑے صاحب“ نے ”ایمانداری“ کے موضوع پر ”روشنی“ ڈالی تو فوراً ہی تقریب میں ”اندھیرا“ چھا گیا۔جنریٹر نے فورا”اندھیرے“ کو ”روشنی“ میں بدلا تو ضمانت پر رہا،ایک ”ماڈل“ کا ”ایمان افروز“بلکہ”ایان افروز“لیکچر شروع ہوا۔ یہ لیکچر ”پاکستانی پیسے کو باہر جانے سے بچائیں“ کے عنوان پر تھا۔ اب تقریب کے مہمان خصوصی کی باری تھی۔یہ ایک ”وزیر“ صاحب تھے،جن کے والد”فقیر“ تھے۔لیکن یہ صرف نام کے ”فقیر“ تھے،ان کا اصل کام ”ڈاکے“ ڈالنا تھا۔بیٹا،اپنے والد کے پیشے سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے بچپن میں عہد کیا کہ وہ وہ بھی بڑا ہو کر والد کی طرح ڈاکے ڈال کے لوگوں کی جیبیں خالی کرے گا،لیکن یہ کام بڑے پیمانے پر کرے گا۔۔پھر دنیا نے دیکھا کہ بیٹے نے اپنا وعدہ پورا کیا اور وہ سیاست دان بن گیا۔۔ اب وہی سیاست دان بیٹا”وزیر“ بن کر وطن کی”محبت“میں سرشار تھا اور انگلینڈ سے درآمد تھری پیس سوٹ، جاپان کی بنی ہوئی برانڈڈ گھڑی اور امریکہ سے منگوائے ہوئے جوتے پہن کر تقریب میں ”پاکستان میں بننے والی اشیاء کے استعمال“کی ضرورت و اہمیت پر اس قدر جذباتی تقریر کر رہا تھا کہ اکثر لوگ ”آنسو“ کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئے تھے،جبکہ حقیقت کا علم رکھنے والوں سے ”ہنسی“ کنٹرول نہیں ہو رہی تھی۔سب سے آخر میں ”آزادی“ کی تقریب کا اسپیشل ”آئٹم“ پیش کیا گیا،جس میں کالج کے طلبہ و طالبات نے ایسی ”آزادی“ سے وطن کے گیت پیش کیے کہ ”آزادی“بھی شرما گئی۔۔۔۔۔۔۔ آخری کونے پر کھڑا ایک ”بابا“ آزادی کے نام پر منعقد اس ساری تقریب کو دیکھ دیکھ کر اداسی کے سمندر میں گرتا جا رہا تھا، لیکن آخر میں ایسی ”آزادی“ دیکھ کر تواسے لگا جیسے وہ زمین میں گڑ گیا۔۔جن عزتوں کو بچانے کے لیے اتنی قربانیاں دی گئیں تھیں،انہی عزتوں کویوں ناچتے ہوئے آزادی مناتے دیکھ کر ”بابا“ کو مزید کچھ دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔باہر نکلا تو ”بابا“
وطن کے ”عظیم مجاہدوں“کو”ون ویلنگ“ کرتے ہوئے ”آزادی“ مناتے دیکھ کر اشک بار ہو گیا۔۔وہ مایوس ہو کر واپس جا رہا تھا کہ اس کی نظر کچھ معصوم بچوں پر پڑی،جو زمین پر گری ہوئی جھنڈیوں کو اٹھا اٹھا کر چومتے تھے اوراپنے پاس موجو د بیگ میں رکھتے جا رہے تھے۔یہ دیکھ کر ”بابا“ کی اداس آنکھوں میں امید کے دیے جگمگا اٹھے۔اور وہ دوڑ کر ان بچوں سے لپٹ گیا۔بچوں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خوشی سے ان کے چہرے کھل گئے اور مل کر چلانے لگے۔”ارے بابا قائداعظم۔آپ“۔۔اور پھر فضابچوں اور ان کے”بابا“کے نعرے سے گونج اٹھی۔۔”پاکستان زندہ باد

تحریر:عبدالرؤف عدم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: