٭٭٭بات تو احساس کی ہے٭٭٭Baat Tou Ahssas ke hay***

٭٭٭بات تو احساس کی ہے٭٭٭

تحریر:سحرش طفیل

قسط نمبر: 7

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے
—————————————-
اس وقت سب ہاسپٹل میں موجود تھےاور نور کے لیے پورے دل سے دعا کر رہے تھےکہ اسے کچھ نہ ھو, خوف اور تکلیف سے نور کالج کے باہر ہی بے ہوش ہو گئی تھی

سمعان کے بار بار پوچھنے پر
امبر نے جمی کے کالج آنے اور نور کے تھپڑ مارنے ,جمی کی دھمکیوں کے بارے میں سب بتا دیا
“اسے میں چھوڑو گا نہیں”
” سمعان اس وقت ہمارے لیے زیادہ اہم ھماری بہن ھے وہ ٹھیک ھوجائے پھر ہم اسے بھی دیکھ لے گئے ”
عالیان کی بات پر سمعان نےسر ہلا دیا
—————————————-
مومل نے ہما کر فون کر کے بتایا کہ کیسے کسی نے گزرتے ہوئے نور پر ایسڈ ڈالا ہے
ہما فون بند کر کے سوچنے لگی کہ
صبح جمی کے ہاتھ میں بیگ اور اک جار دیکھا تھا
“جمی کہاں جا رہے ھو ,اور اس جار میں کیاھے”
“کتنی دفعہ بولا ھے ڈارلنگ جب کوئی اچھا کام کرنے جائے اسے ٹوکا نہیں کرتے ”
“جمی اس بیگ میں کیا ھے اور ھم شادی کب کرے گئے بتاؤ”

جمی نے ھما کے ہاتھ کو پکڑ کر مڑور دیا اور بولا
“کتنی دفعہ بولا ھے مجھ سے اس لہجے میں بات مت کیا کرو میں تمہارے باپ کا نوکر نہیں ھو جمی نام ھے میرا جمی سمجھی ”
جمی نے ھما کا ہاتھ چھوڑ کر اسے خود سے دور پھینک دیا

“اور ہاں اک بات اور آج تک دنیا میں کوئی لڑکی ایسی پیدا نہیں ھوئی جو جمی کو اپنے اشاروں پر نچاسکے,
اور رہی بات تمہاری تو ڈارلنگ چار دن کی زندگی ھے ڈئیر عیش کرو کھل کے جیئیوں شادی وادی میں کیا رکھا ھے جان کیا سمجھی”
جمی سخت لہجے میں بات کرتے کرتے آخر میں کسی لوفر اور آوارہ کی طرح اک آنکھ دبا کر بولا
“اور اس جار میں تمہاری عزیزوجان دوست کے لیے اک تحفہ ھے گفٹ
ہاہاہاہا…….. سالی نے مجھ پر جمی پر ہاتھ اٹھایا تھا اب لوگ اسےہاتھ لگانا تو دور اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گئے ہاہاہاہا….”
“ججمی جمی کیا ھے اس میں ”
“ایسڈ….. تیزاب..ہاہاہاہا”
“میری واپسی کا ویٹ مت کرنا آج میرا موڈ جشن کا ھے اگر تم آنا چاہو تو بتا دینا ویسے وکی تمہارے بارے میں بہت پوچھ رہا تھا
ہاہاہاہا… بائے جان”
تو جمی تم نے اپنا بدلہ لے لیا not a bad اچھی بات ھے

ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن…… ھما کو خیالوں کی دنیا سے واپس فون کی آواز لے کر آئی,
ھما نے جیسے ھی فون اٹھایا دوسری طرف سے جمی کی لڑکھڑاتی آواز سنائی دی
“جججان I am feeling alone تم جلدی سے آجاؤ مممل کر جججشن مناتے ھے ٹھھھھیک ھے نہ”
جمی نے جواب سنے بغیر فون بند کر دیا اور ھما اک سانس لے کر تیار ھونے چل پڑی
—————————————–
نور کو دو بار ھوش آیا مگر تکلیف کی شدت اور ڈر کی وجہ سے وہ صرف روتی اور چیختی رہی
ڈاکٹرز نے اسے نیند کا انجکشن دے کر سلا دیا
جو بھی نور کو دیکھتا اس کی آنکھوں میں بےساختہ آنسو آجاتے ,
چہرے کی دائیں سائیڈ بری طرح جھلس گئی تھی اللہ کا کرم تھا کہ آنکھوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا دائیں ہاتھ کی جلد بھی کچھ جگہ سے جھلس گئی تھی
کسی کو یقین نہیں آتا تھا صبح ہنستی مسکراتی نور شام میں انھیں اس حالت میں ملے گی کسی کو پتہ نہ تھا
ڈاکٹر بار بار انھیں اک ہی بات بول رہے تھے
اگر آپ لوگوں نے ہمت ہار دی تو آپ کے مریض کو کون سنبھالے گا اس وقت سب سے زیادہ اسے آپ لوگوں کی ضرورت ھے
اک بار دیکھنے کے بعد کسی کی ہمت نہیں ھو رہی تھی کہ وہ دوبارہ نور کی طرف دیکھے
————————————-.
شاہ میر کو جیسے ھی نور کے بارے میں پتہ چلا وہ پہلی فلائٹ سے سب کام چھوڑ کر آ گیا
اس وقت ھوسپٹل میں امبر,ثوبیہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا نور ابھی دوائیوں کے زیراثر سو رہی تھی
شاہ میر نور کو دکھ اور تکلیف سے دیکھ کر ثوبیہ سے اس کے بارے میں پوچھتا ھے
جواب میں امبر اسے سب کچھ بتا دیتی ھے سب جانے کے بعد شاہ میر کی تکلیف بڑھ جاتی ھے وہ کچھ دیر نور کو دیکھتا ھے اور پھر تیزی سے باہر نکل جاتا ھے ثوبیہ بھی اس کے پیچھے باہر نکل جاتی ھے
———————-
اس وقت کمرے میں امبر ,نور اور عالیان کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں,عالیان نور کا ہاتھ پکڑ کرروتے ھوئے بار بار اک بات ہی بولے جا رہا ھے
“میرے گناہوں کی سزا نور کو ملی ھےمیں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا امبر خدا کی قسم میں نے پورے دل سے بخت کو اپنایا تھا میں بہت محبت کرتا تھا اس سے,اگر وہ مجھے تھوڑا وقت دیتی تو آج وہ میرے گھر میں ھوتی,سارا میرا قصور ھے کدھر ڈھونڈو میں بخت کو ……..’
امبر کی نظر دروازے پر پڑتی ھےتو وہ عالیان کو متوجہ کرتے ہوئے بولتی ہے
” بھائی بھابھی…….. ”
عالیان دروازےکی طرف دیکھتا ھے جہاں ثوبیہ کھڑی بے یقین نظروں سے عالیان کی طرف دیکھ رہی ھوتی ھے

عالیان بے اختیار ثوبیہ کی طرف بڑھتا ھے اور ثوبیہ اک قدم پیچھے ھوتی ھے اور چکرا کر گرنے لگتی ھے
عالیان تیزی سے آگے ھو کر اسے تھام لیتا ہے
“ثوبی ,ثوبی ثوبیہ…”
مگر اتنی دیر میں ثوبیہ بے ہوش ھو چکی تھی
——————————

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
ہو تری خاک آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
ثوبیہ کی بےھوشی جہاں سب کی پریشانی کی وجہ تھی وہی نئی مہمان کی آمدکی خبر سے ہر کوئی خوشی سے جھوم اٹھا سب نے دل کھول کے صدقہ اتارا شکرانے کے نفل ادا کیے
مگر اک وجود ایسا بھی تھا جو ابھی بھی بے یقین بیٹھا ھوا تھا
عالیان ثوبیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کرسر جھکاکر اسے آہستہ آہستہ سب بتاتا گیاآخر میں بولا
“ثوبیہ وہ میرا کل تھا اور تم آج,میں کل کو اپنی زندگی میں دوبارہ نہیں لا سکتا مگر تمہیں میں چھوڑ بھی نہیں سکتا پہلے ھمارا رشتہ میں اور تم تک تھا اب ھم بن گیا ھے

میں یہ نہیں کہو گا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا
مگر اس کے باوجود میں فیصلے کا حق تم کو دیتا ھو تم جو بھی فیصلہ کرو میں تمہارے ساتھ ھو بس ایک

  Request

ہے پلیز تم جو بھی فیصلہ کرو ھمارے بچے کے بارےضرور سوچو”
عالیان نے جھک کر ثوبیہ کی پیشانی چومی اور تیزی سے کمرے سے باہر چلا گیا۔,ثوبیہ نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور رونے لگی
————————————-
نور اب مکمل ہوش میں تھی باری باری گھر کے تمام لوگ اس سے آکر ملے
ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا کہ اس کے سامنے کوئی روئے گا نہیں اگر آپ لوگوں نے اس کو ذرا بھی اس بات کا احساس دلایا کہ اب وہ پہلے جیسی نہیں تو یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہو گا وہ جوش میں آکر خود کو نقصان بھی پہنچا سکتی ھے
کچھ دن مزید ھوسپٹل میں رہنے کے بعد نور ہاسپٹل سے گھر آتی ھےمگراسکے آنے سے پہلے سمعان اور سبحان مل کر اس کے کمرے سے آئینہ ہٹا دیتے ھے
ثوبیہ اور امبر نور کے ساتھ ہی گھر آتی ھیں۔
امبر زبردستی ثوبیہ کو آرام کرنے کے لے اس کے کمرے میں بھیج دیتی ہے۔
نور اپنے ہاتھ اور چہرے کو چھو کر دیکھتی ہےاور امبر سے کہتی ہے
“امبر کیا میں بہت بری لگ رہی ھو”
“ارے نہیں تم سے کس نے بولا”
“تو میرے کمرے سے آئینہ کیوں ہٹا دیا تم لوگوں نے ”
“نور ……وہ…..ایسا ھے کہ … …”
امبر کو سمجھ نہیں تھی آ رہی کہ وہ نور کو کن الفاظ میں سمجھائے کہ اتنے میں سمعان آگیا
“وہ اس لے ہٹا دیا کہ وہ آئینہ اب اس قابل نہیں تھا کہ میری پیاری سی بہن کی خوبصورتی کو برداشت کر سکتا

پھر کیا تمہیں ہم پریقین نہیں ہمارے لیے تم آج بھی وہی نور ھو جیسے دیکھ کر ہم جیتے ھیں اور رہی بات ان زخموں کی تو انشااللہ یہ بھی ٹھیک ھو جائے گئے چلو اب ہنس کر دیکھاؤ ”
نور نے سمعان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی
———————————-
جمی کے کہنے پر ہما اس سے ملنے چلی تو گئی
مگر ادھر پہنچ کر اسے احساس ھوا کہ اس نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا
سات دن جمی اور اس کے دوستوں نے دل بھر کر جشن منایا اور پھر وہ ایک ایک کر کے وہاں سے چلے گئے
ہما نے نفرت بھری نظروں سے جمی کو دیکھا مگر جمی نے کوئی پروا نہ کی
جمی امریکہ چلا گیا ہاں جاتے ہوئے اس نے اک احسان ہما پر یہ کیا اسے اس کے گھر کے باہر پھینک گیا جہاں چوکیدار نےہما کو خستہ حالت میں دیکھ کر فورا اندر اطلاع دی
ہما کی ممی بھاگ کر باہر آئی ھما پر نظر پڑتے ھی وہ چکرا کر نیچے گر گئی۔
———————-

شاہ میرجب بھی ھوسپٹل میں نور سے ملنے آیا اتفاق سے وہ سو رہی ھوتی تھی
لہذانور کو کبھی پتہ ہی نہیں چل سکا کہ شاہ میر اس سے ملنے آیا ھے
وہ یہ ہی سمجھتی رہی کہ شاہ میر جان چھڑانے کے لیے اس کی خیریت بھی پوچھنے نہیں آیا
اس کا اس بات پر ایمان ھے کہ جو چیز یا تکلیف اللہ نے آپ کے لے لکھ دی ھے وہ آپ کو مل کر رہنی ھے دکھ اسے اس بات کا تھا کہ شاہ میر اس سے اک بار بھی ملنے کیوں نہیں آیا بہت سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلہ کر کے ثوبیہ کے روم کی طرف چل پڑی
“بھابھی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ھے ”
“نور بولو کیا بات ھے ”
“بھابھی وہ یہ…..پلیز آپ یہ شاہ میر کو دے دیجۓ گا”
نور نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر ثوبیہ کو پکڑائی
“نور…….نور یہ کیا ھے ”
“بھابھی پلیز شادی کوئی زبردستی کا سودا نہیں اور پھر میں یہ بات بہت اچھے سے جانتی ھو کہ میں اب اس قابل نہیں رہی کہ شاہ………………… شاہ میر کی زندگی میں شامل ھو سکو جو فیصلہ کل کو شاہ میر کرے بہتر نہیں وہ میں خود ھی کر لو”
اتنا بول کر نور تیزی سے کمرے سے چلی گئی اور ثوبیہ کبھی انگوٹھی کو اور کبھی کمرے کے ہلتے پردے کو دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے ھوئی ان باتوں کو سوچنے لگی جو شاہ میر سے فون پر کی تھی
ثوبیہ کو نور سے بہت پیارتھا آج تک نور کی ذات سے اسے کوئی تکلیف نہیں ھوئی تھی اگر کبھی عالیان یا آنٹی نے اس سے کوئی زیارتی کی بھی تو نور نے اپنے پیار اور محبت سے اس کا ازالہ کر دیا آج نور کے لیے جب شاہ میر سے اس نے بات کی تو شاہ میر کے ایک ہی جواب نے اس کا دل خوش کر دیا تھا
“ثوبیہ تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میں نور کو چھوڑ دو گا یا اس سے برا سلوک کرو گا میری سوچ اتنی گھٹیا نہیں کہ ذرا سی بات کے لیے اس کو چھوڑ دو اور پھر جن سے دل کا رشتہ جوڑا جاتا ھے ان کو حالات کے رحم وکرم پر تو نہیں چھوڑتے اور یہ بات تم سے بہتر کون جان سکتا ھے”
” میری تھوڑی دیر میں دبئ کی فلائیٹ ھے تم میری واپسی تک ادھر تمام معاملات نمٹا لینا میں اب اور اس معاملے میں دیر نہیںں چاہتا انشاءاللہ ”
—————————
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
ہو تری خاک آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
————————
ثوبیہ کو سمجھ نہیں تھی آ رہی کہ شاہ میر کو سب کچھ بتائےکہ نہیں, بہت سوچنے کے بعد آخر اس نے شاہ میر کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا ,
شاہ میر نے ثوبیہ کی تمام بات سننے کے بعد بس اتنا کہا
” تم نے اب تک یہ بات کسی کو بتائی تو نہیں نہ”
“نہیں”
“شکر ھے Good میری واپسی تک کسی کو بتانا بھی نہیں میں واپس آ کر خود دیکھ لو گا اس معاملے کو ”
“مگر شاہ میر اگر نور نے خود کسی کو بتا دیا تو ”
“وہ کسی کو نہیں بتائے گی Don’t worry تم اس کی فکر مت کرو میں اسے اچھی طرح جانتا ھو ”
“ھھھھھھھممممم Oo Reallyاور کیا کیا جانتے ھو ”
شاہ میر ثوبیہ کے لہجے میں چھپی شرارت کو سمجھتے ھوئے بولا
“میں کیا جانتا ھو اور کیا نہیں تم اس بات کو جانے دو تم بس نور کا خیال رکھو”
“کیسے بھائی ھو اتنا نہیں بولا کہ اپنا خیال رکھو ”
“تمہارا خیال رکھنے کے لیے عالیان ھے نہ اور مجھے یقین ھے کہ وہ تم سے بہتر تمہارا خیال رکھے گا اب میں فون رکھتا ھو مجھے ضروری کام سے جانا ھے اللہ حافظ”
“اللہ حافظ”
فون رکھنے کے بعد ثوبیہ سوچنے لگی کہ کتنا سچ بولاھے شاہ میر نے ,عالیان سچ میں اس کا اتنا خیال رکھتا تھاکہ اسے کھبی کھبی شک ھوتا ھے کہ کیا یہ وہی عالیان ھے یاکوئی اور
نور نے کتنا سچ بولا تھا
“بھابھی بھائی نے پہلی محبت صرف آپ سے کی ھے آپ سے منگنی بھائی نے اپنی مرضی سے کی تھی
جبکہ بخت سے شادی بھائی نے مجبوری میں کی تھی بھائی کا اور آپ کا ساتھ سالوں کا ھے آپ کی ذرا سی تکلیف پر آج بھی بھائی بے چین ھوتےھے
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیئے گا کہ آپ اپنا مقابلہ اک مردہ انسان سے کر رہی جو مٹی میں مل کر اب تک مٹی ھو چکا ھے”
—————————–
“مسز سمعان اگر آپ کی اجازت ھو تو کیا میں اندر آسکتا ھو ”
نور نے آفس فون کر کے سمعان کو امبر سے کچھ بکس لانے کے لئے بولا تھا
نور نے امبر سے آنےکے بارے میں پوچھا تو امبر نے بتایا کہ امی اور چھوٹی بازار گئی ھے اس لے وہ کل آئے گی
نور نے یہ سنتے ھی سمعان کو ابھی بکس لے کے دینے کو بولاجس کے نتیجے میں سمعان اب ادھر تھا امبر جو حیرت سے سمعان کو دیکھ رہی ھوتی ھے سمعان کی بات سن کر جھجکتے ھوئے راستہ چھوڑ دیتی ھے
“آپ …….”
“جی میں ویسے کمال ھے نہ کوئی سلام نہ دعا آپ کیا ادھر آنے والوں کو دروازے سے ھی واپس بھیج دیتی ھیں ”
“سوری اسلام علیکم پلیز آپ اندر آئے ”
“وعلیکم سلام جیتی رہیے گھر والے کدھر ھیں ”
“امی اور چھوٹی تو بازار گئی ھیں میں آپ کے لیے کچھ لاتی ھو ”
امبر اتنا بول کر تیزی سے کچن کی طرف چل پڑتی ھے سمعان زیر لب مسکرا دیتا ھے اسے نور کی ابھی لا کر دو کی سمجھ اب آتی ھے اور ساتھ ہی اپنی بہن پر بہت سارا پیار بھی جو خود تو تکلیف میں ھے مگر اسے اپنے گھر والوں کا کتنا احساس ھے
امبر جوس کا گلاس لا کر سمعان کو پیش کرتی ھے جسے سمعان شکریہ کے ساتھ پکڑ لیتا ھے
“امبر مجھے تمہیں Thanks بولنا تھا ”
“وہ کس لیئے”
“جس طرح تم نے میری فیملی کا خیال رکھا اور اسپیشلی نور کا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کرو”
امبر سمعان کی بات سن کر بولتی ھے
“آپ کی فیملی….”
امبر کی بات اور اس کے تاثرات دیکھ کر سمعان کو اپنی غلطی کا احساس ھوتا ھے وہ فورا امبر کے پاس جا کر بیٹھتا ھے اور امبر کے ہاتھوں کو پکڑ کر بولتا ھے
“سوری یار ھماری فیملی”
“پلیز میں نے جو کچھ بھی کیا ھے اپنے گھر والوں کے لے کیا ھے اور نور میری بہت اچھی دوست ھے اگر میں نے کچھ کیا بھی ھے تو اس کے لیے آپ کو مجھے Thanks بولنے کی ضرورت نہیں ھے”
امبر نے سمعان کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑواتے ھوئے کہا ,مگر سمعان نے اس کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط رکھتے ھوئے انھیں چوم لیا
“پلیز سوری یار ”
“پلیز آپ آپ میرے ہاتھ چھوڑےاور پیچھے ھو کر بیٹھے”
امبر نے کپکپاتے لہجے میں کہا سمعان نے اس کے ہاتھوں کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ھوئے شرارتی لہجے میں کہا
“یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے تھوڑی پکڑے ھیں اور ھم آگے بڑھنے والوں میں سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں”
سمعان نے معنی خیز لہجے میں کہا
سمعان کی بات سن کر امبر کو کرنٹ لگا وہ رو دینے والے لہجے میں بولی
“سسسمعان پلیز”
سمعان امبر کی حالت کو مسکراتے ھوئے دیکھ کر ایک بار پھر اس کے ہاتھوں کو جھک کر چومتا ھے اور اٹھ کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ جاتا ھے
“امبر مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی”
“جی بولے میں سن رہی ھو”
” ھم نے نور کی سرجری کروانے کے بارے میں سوچا ھے شاہ میر نور کی رپورٹس لیکر گیا وہ چاہتا ھے کہ اس کی سرجری بیرون ملک سے ھو
بھابھی کے بارے میں تم جاتی ہو کہ ان کی طبیعت بھی اب ٹھیک نہیں ہے امی اور بابا پہلے ھی نور کی وجہ سے اپ سیٹ ہے ایسے میں بہت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول کچھ چینج ہو ”
امبر جو غور سے سمعان کی بات سن رہی تھی اس کے رک جانے پر نظر اٹھاکر سمعان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تمہیں نہیں لگتا کہ اب ہم کو شادی کر لینی چاھیے”
سمعان کی بات سن کر امبر نے فورا نظریں جھکا لی
“امبر پلیز I Need U امی نے مجھ سے بات کی تھی مجھے مناسب لگا کہ پہلے میں تم سے تمہاری رائے پوچھ لو جس طرح تم نےاور بھابھی نے گھر کو اور نور کو سنبھالا,
میں نہیں چاہتا کہ میں کوئی زیارتی کرو ممانی جان ‘شاہ میر اور نور کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنا چاہتی ھیں اور ساتھ میں ھماری ,اب تم بتاؤ کہ میں امی کو کیا جواب دو”
“مگر……..”
“مگر کیا امبر پلیز تم کھل کر بولو ہم اچھے دوست بھی تو ھیں ”
“وہ میری سٹڈی تو ابھی مکمل نہیں ھوئی”
“او وہ تو تم بعد میں بھی کر سکتی ہو نور کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی اور بات ”
امبر نے نفی میں سر ہلاتے ھوئے کہا
“نہیں اور کچھ نہیں جیسے آپ کو مناسب لگے ”
سمعان امبر کے پاس آکر کھڑا ھوا اور بولا
“Are You Sure ”
جی “سمعان نے آگے بڑھ کر امبر کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہرثبت کی اور بولا
“THANKS ,
THANK You So Much”
——————————-
شاہ میر اور سمعان کا مشترکہ دوست کافی سالوں بعد بیرون ملک سے آیاتھا شاہ میر سے مل کر اور اسے ساتھ لے کر وہ سمعان سے ملنے آیا شاہ میر اک تو دوست سے ملنے اور دوسرا ڈاکٹرز کے حوصلہ افزا جواب کی وجہ سے بہت خوش تھا
اس وقت ڈرائینگ روم میں شاہ میر ,سمعان اپنے دوست کے ساتھ بیٹھے باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک باہر سے نور اور عالیان باتیں کرتے اندر داخل ھوتے ھیں
“بھائی میں بول رہی ھو مجھے سمعان بھائی کے ساتھ نہیں آپ کے ساتھ جانا ھے”
“مگر گڑیا مجھے ضروری کام سے جانا ہے تم سمعان کے ساتھ چلی جاؤ,سمعان یار تم ذرا نور کو ساتھ لے جاؤ اسے کچھ چیزیں لینی ھیں”
“جی بھائی, سیف یہ میرے بڑے بھائی ہیں عالیان اور یہ میری سسٹر ماہ نور اور بھائی یہ سیف ھے میرا دوست”
“اسلام علیکم ”
نور نے سیف کی طرف دیکھا تو اسے لگا کہ یہ چہرہ پہلے بھی کہی دیکھا ہے
“او تو آپ ماہ نور ہے کافی سنا ھے آپ کے بارے میں”
“کیا مطلب ”
” سمعان سے کافی سنا ہے آپ کے بارے میں خیریت آپ مجھے اسے کیوں دیکھ رہی ہے ”
شاہ میر اس دوران بالکل خاموش بیٹھا ھواتھا اس کی نظریں نور کے چہرے پر تھی نور نے ڈوپٹے سے اپنے آدھے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا
“نور کیا بات ھے ”
“بھائی I Don’t but
میں نے انھیں پہلے بھی کہی دیکھا ہے لیکن مجھے یاد نہیں آرہا,Any way میں آپ لوگوں کے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہو Excuse me”
“جمی کے بارے میں کچھ پتا چلا ”
سیف نے شاہ میر, سمعان اور عالیان سے مشترکہ طور پر پوچھا ,سمعان نے جواب دیا
“نہیں وہ بیرون ملک فرار ھو گیا ھے نور نے کسی بھی کاروائی سے منع کر دیا ہے”
“مگر کیوں یار ”
“وہ کہتی ہے میں نے اللہ پر چھوڑ دیا ھے وہ بہتر انصاف کرنے والا ھے ”
“بیشک اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے”
———————————-
نور اس وقت شاک کے عالم میں بیٹھی تھی آج امبر کی امی اور بابا کو بابا جان نے فون کر کے کھانے پر انوائٹ کیا تھا
کھانے سے پہلے ماموں جان اور ممانی کی غیر متوقع آمد ممانی جان کا اسے بار بار پیار کرنا اس کو ٹھٹھک تو رہا تھا مگر وہ بولی نہیں
کھانے کے بعد بڑوں کی جیسے ہی امی بابا کے کمرے میں میٹنگ شروع ھوئی تو بھابھی اور عالیان بھائی کو بھی فورا بلوا لیا گیا اور جب کمرے کا دروازہ کھلا تو
ممانی جان نے ہزار ہزار کے کئی نوٹ نور سے وار کر کام والی کو دیئے اور کئی نوٹ نور کے ہاتھ میں پکڑا دیئے اور گلے لگا کر نور کو خوب پیار کیا اور ساتھ ہی یہ خبر سنائی کہ
” انشااللہ اب میں دو ہفتوں بعد تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لے جاؤ گی اپنے شاہ میر کی دلہن بنا کر”
نور نے بے یقین نظروں سے بھابھی کی طرف دیکھا تو انھوں نے نظریں چورا لی ,اور اب نور شاک کے عالم میں اپنے کمرے بیٹھی تھی
“بھابھی آپ نے یہ اچھا نہیں کیا ,آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیےتھا اب میں کیا کرو او میرے خدا”
————————————-
جاری ہے

#از_سحرش_طفیل
#قسط_نمبر_09
#سیکنڈ_لاسٹ_قسط

ثوبیہ کچن میں دودھ گرم کرنے آئی تو نور بھی ثوبیہ کے پیچھے پیچھے کچن میں پہنچ گئی
“بھابھی میں نے آپ سے بولا تھا نہ کہ مجھے شاہ میر سے شادی نہیں کرنی میں نے آپ کو rang واپس کی تھی نہ پھر آپ نے وہ ممانی جان کو کیوں واپس نہیں کی”
“نور دیکھو سب خوش ھیں پھر….”
“سب خوش ھیں میں خوش نہیں ھو ”
سمعان جو اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ثوبیہ اور نور کی آواز سن کر کچن کی طرف آگیا
اس سے پہلے کہ وہ کچن میں داخل ھوتا نور کی بات سن کر اسے لگا کہ ایک قدم بھی اور نہ چل سکے گا ,سمعان کی آمد سے بے خبر ثوبیہ اور نور اپنی ہی بولے جا رہی تھی
“مگر کیوں ,نور میری جان دیکھو تم آرام سے تحمل سے اس بارے میں سوچو انشااللہ تم خوش رہو گی”
“میں نے بولا تھا نہ مجھے بھیک میں خوشیاں نہیں چاہیے

آپ نے شاہ میر کو راضی کیا ھے نہ مجھ سے شادی کے لیے, آپ نے اپنی خوشیوں کا واسطہ دیا ھے نہ ,پلیز مت کرے ایسا پلیز”
بات کرتے کرتے نور کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ھو گئے
“نور جان ایسا نہیں ھے یہ تو شاہ میر کی خواھش …”
“جھوٹ سب جھوٹ
پلیز مجھ سے جھوٹ مت بولے یہ ,یہ میرا چہرا دیکھ رہی ھے آپ ایسے جھلسے ھوئے چہرے کے ساتھ اپنی خوشی سے کون مجھ سے شادی کرے گا کون ………..”
نور نے اپنے چہرے سے ڈوپٹہ پیچھے کرتے ھوئے روتے ھوئے کہا پھر اک دم آنسو صاف کر کے بولی
“ٹھیک ھے آپ انکار نہیں کر سکتی تو میں خود کل کر دو گی آپ کچھ مت کرے میں خود سب سے بول دو گی ”
“نور میری بات تو سنو نور …….”
اتنا سب بولنے کے بعد نور تیزی سے کچن سے چلی گئی اور ثوبیہ کرسی پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی
“نور میں کیسے سمجھاؤ تمہیں تم شاہ میر کی مجبوری نہیں محبت ھو بہت پیار کرتا ھے وہ تم سے کیسے سمجھاؤ تمہیں…”
سمعان نے نور اور ثوبیہ کی باتیں سنی اسے بہت دکھ ھوا کہ نور خود ترسی کا شکار ھو رہی ھے مگر ثوبیہ کی خود کلامی سن کر چونک پڑتا ھے
وہ اور شاہ میر بچپن کے دوست تھے اس کے باوجود اسے اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ شاہ میر نور سے محبت کرتا ھے اسے اک دم شاہ میر کی دوستی پر فخر ھونے لگا کہ اس نے دوستی پر کوئی آنچ نہ آجائے اس خیال سے اپنے جذبات چھپا کر رکھے,
سمعان نے لمحوں میں فیصلہ کر لیا کہ اب اسے کیا کرنا ھے موبائل کے نمبر ملاتے ھوئے وہ تیزی سے باہر چلا گیا
———————————-
نور اور امبر کی شادی تین دن کے وقفے سے طے کی گئی تھی( بدھ,جمعرات اور جمعہ ,سمعان اور امبر کی اور ہفتہ ,اتوار اور سوموار شاہ میر اور نور کی )تاکہ دونوں کپل اچھی طرح اک دوسرے کی شادی کو انجوائے کر سکے

ابھی امبر اور اس کی امی بازار جانے کے بارے میں سوچ ھی رہی تھی کہ سبحان ان لوگوں کو لینے آگیا ان کے بار بار پوچھنے پر بھی جب سبحان کچھ نہ بتا سکا تو امبر کی امی نے امبر کوگھر پر رکنے کو بولا
مگر سبحان نے یہ کہہ کر انھیں امبر کو ساتھ لے جانے پر مجبور کر دیا کہ
“امی نے بولا تھا سب کو لیکر آؤ اور امبر کو ضرور لانا ”
—————————-
سمعان ناشتے کے بعد نور کے کمرے میں گیا اور اسے تیار ھونے کو بولا ,
نور کے بار بار پوچھنے پر کہ کدھر جانا ھے اس نے کچھ نہ بتایا نور 11 بجے تیار ھو کر نکلی تو سمعان اسے پہلے ڈاکٹر کے پاس لیکر گیا چیک اپ اور میڈیسن لینے کے بعد سمعان نور کو اپنے اک دوست کے گھر لے گیا
اس کی سسٹر ایمن کا اپنا پارلر تھا جو کہ گھر کے ساتھ ھی تھا ایمن اسے اپنے ساتھ لے گی تقریبا ایک گھنٹے بعد جب نور واپس آئی تو ایمن اور نور میں بہت اچھی فرینڈ سپ ھو چکی تھی اور اس کا ثبوت نور کے چہرے پر نظر آرہا تھا

“کچھ زیادہ جلدی نہیں ھو گئی دونوں بلیوں میں دوستی ,ویسے کیا تم اپنی ہر دوست کا ایسا ہی حال کرتی ھو”
سمعان نے مسکراتے ھوئے ایمن سے کہا
اپنے دوست سے اجازت لیکروہاں سے نکلے , جیسے ہی گاڑی مین روڈ پرآئی سمعان نے نور سے کہا
“مجھے تو بہت بھوک لگی ھے پہلے کچھ کھا لیتے ھے پھر تفصیل سے بات کرے گئے”
سمعان نے ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی پارک کی اور نور کو لیکر فیملی کیبن کی طرف آگیا اور نور سے پوچھے بغیر آڈر کر دیا
جیسے ہی کھانا آیا کھانا دیکھ کر نور حیران ھو گی کہ تقریبا تمام کھانا نور کی پسند کا تھا سمعان نے کھانے کے دوران زبردستی نور کو خوب کھانا کھلایا جیسے ہی ویٹر نے کھانے کے برتن اٹھاۓ سمعان بولا
“آئس کریم کھاؤ گی ”
“بھائی خدا کا خوف کرے کتنا کھلائے گئے ,بس اور نہیں آپ نے کوئی ضروری بات کرنی تھی مجھ سے بولے”
“ایسا کرتے ھیں آفس چلتے ھے راستے میں بات بھی ھو جائے گی اور میرا کام بھی ”
راستے میں سمعان جب کوئی بات نہیں کرتا تو نور بہت حیران ھوتی ھے آفس میں کچھ فائلز پر سائن کرنے کے بعد سمعان کافی آڈر کرتا ھے
“سوری,آج میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی بہن کے ساتھ Time Spent کرو ,بہت دنوں سے ھم باہر نہیں نکلے ساتھ
نہ ہی تم نے مجھے بولا تو آج مجھ سے رہا نہیں گیا تو
,اگر تمہیں……. نور …نور What Happened yar”
سمعان کی بات سن کر اپنے لیے اپنے بھائی کا پیار دیکھ کر نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے سمعان کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“بھائی میں آپ سے ناراض ھو ”
سمعان کے سوالیا انداز سے دیکھنے پر نور بولی
“صبح سے میں آپ کے ساتھ ھو اور آپ نے مجھے شاپنگ نہیں کروائی مجھے اتنی چیزیں لینی تھی کپڑے,جیولری,بیگ,شوز….”
“بس بس کیا اتنا سب تم آج ہی لو گی ” نور کے شرارتی انداز پر سمعان بھی شرارت سے بولا
“نہیں تھوڑی آج باقی کل ”
سمعان کا چہرہ دیکھ کر نور کھلکھلا کر ہنس پڑی.
—————————–
“مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سب کیا ھے حد ھو گئی ھے بچی کی پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں اور اوپر سے تم لوگوں نے یہ نیا ڈرامہ شروع کر دیا ھے ”
نور کی امی زوروشور سے بول رہی تھی مگر ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی آواز کسی کو سنائی نہیں دے رہی
یہاں تک کہ تھوڑی دیر پہلے آنے والی امبر اور اس کی امی کو بھی
وہ بھی اپنے اپنے حصے کے کام میں ایسے جتی ھوئی تھی جیسے اس سے زیادہ اہم کام دنیا میں اور کوئی نہیں ,سچی بات یہی ھے کہ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی کہ آخر ھو کیا رہا ھے
—————————–
آفس سے نکلنے کے بعد سمعان نور کو ہر اس جگہ لے کر گیا جو اس کی Favoriteتھی
تقریبا رات کے 8 بجے وہ لوگ شاپنگ سنٹر میں داخل ھوئے باری باری تمام فلور گھومے اس وقت سمعان اور نور اک ڈریس کے سامنے کھڑے تھے اور زوروشور سے بحث کر رھے تھے سمعان کا خیال تھا کہ وہ نور پر سوٹ کرے گا مگر نور کے خیال میں وہ بہت expensive ھے
اسے اتنا expensive ڈریس نہیں چاہیےسمعان نے نور سے کہا
“گڑیا پلیز اک بار try کرو اچھا نہ لگا تو ھم نہیں لے گئے پکا I Promise plzzz”
نور سمعان کے بار بار کہنے پر اوکے بول کر سوٹ پکڑ لیتی ھے جب نور ڈریس چینج کر کے آتی ھے تو سمعان کی زبان سے بےساختہ “ماشاءاللہ ” نکلتا ھے
بلیک اورگرے کلر کی شرٹ جس کے گلے اور آستینوں پر بلیک سٹون اور سلور کلر کا کام ھوتا ہلکی روشنی میں بھی سٹون خوب چمک رہے تھے شرٹ کے نیچھے چوڑی دار پاجامہ اور گرے شیفون کا ڈوپٹہ جس کے دونوں اطراف میں سٹون لٹک رھے ھوتے ھیں
سمعان ڈریس کی پےمنٹ کرتا ھے اور نور کے بار بار کہنے پر بھی اسے چینج کرنے کی اجازت نہیں دیتا ,ڈریس کے ساتھ اک پیارا سا جوتا لینے کے بعد وہ لوگ شاپنگ سنٹر سے نکلتے ھے نور ٹائم دیکھ کر چیخ پڑتی ھے مگر سمعان اسے گاڑی میں بیٹھا کر کوئی ضروری فون کرنے کے لے گاڑی سے تھوڑا دور چلا جاتا ھے
تھوڑی دیر بعد جب سمعان واپس آتا ھے تو نور سے کھانے کے بارے میں پوچھتا ھے نور صاف انکار کر دیتی ھے اور اسے گھر چلنے کو بولتی ھے
———————————–
“ارے یہ کیا,سارے گھر کی Lights offکیوں ھیں”
“لگتا ھے گھر میں کوئی نہیں ھے ”
“بھائی یہ کیسے ھو سکتاھے”
سمعان اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھتا ھے جہاں 11:55 ھوتے ھیں اور نور سے کہتا ھے
“تم ادھر رکو میں lights on کرتا ھو ”
سمعان تیزی سے اندر کی طرف بڑھ جاتا ھے نور دو تین منٹ wait کرتی ھے مگرنہ تو lights on ھوتی ھے اور نہ ہی سمعان باہر آتا ھے نور آواز دیتے ھوئے اندر کی طرف بڑھتی ھے
“سمعان بھائی ,بھائی ,بھابھی ,بابا جان کدھر ھے سب ,امی جان ,بابا جان ,حانی,سمعان بھائی کوئی جواب کیوں نہیں دے رہا سمعان بھائی, بھائی آپ کہاں ھےبھا….”
بار بار آواز دینے پر بھی کوئی جواب نہیں آیا تو نور کو لگا یا تو وہ گر جائے گی یا رونا شروع کر دے گی بہت مشکل سے خود کو کنٹرول کر کے اک بار پھر سے ھمت کر کے نور نے آواز دی
“سمعان بھائی, باباجا………….”
“Surprise Happy Birthday to U ,Happy Birthday Dear Noor ,Happy Birthday to U”
سب کو آواز دیتے نور کب اندر آئی نور کو خود بھی پتہ نہیں چلا ,سمعان کو آواز دیتے اس کی آواز سب کی آواز میں دب گئی
نور اپنےچاروں طرف موجود افراد کو دیکھ کر حیران رہ گئی بابا جان ,امی ,بھائی بھابھی,بھابھی کی فیملی ,امبراور امبر کی فیملی, شاہ میر, اس کو چاہنے والے سب لوگ ہی موجود تھے
بابا جان نے آگے بڑھ کر نور کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیکر پیار اور شفقت سے اس کی پیشانی چوم لی
“جیتی رھو میری جان خوش رھو ,چلو بچہ جلدی سے کیک کاٹو سب کب سے انتظار کر رہے ھیں ”
نور نے آنسو بھری آنکھوں سے اپنے باباجان کو دیکھا اور ان کا ہاتھ فکر کر ٹیبل کے قریب گئی اور ٹیبل کے پاس کھڑی اپنی امی جان کے گلے لگ گئی
سب کی تالیوں اور بے شمار دعاؤں کے درمیان نور نے کیک کاٹا اور اپنے باباجان ,امی جان کے بعد نور نے اپنے تینوں بھائیوں اور دونوں بھابھیوں کو کیک کھلایا اور ان کا ڈھیر سارا پیار سمیٹا
اتنے میں دروازے کے قریب سے آواز آئی
“اھھھھھھم Excuse me pleaseاگر آپ لوگوں کی اجازت ھو تو کیا ہم اندر آسکتے ھے”
دروازے پر سیف اک بزرگ آدمی کے ساتھ کھڑا تھا سمعان انھیں اندر بلانے کے لیے آگئے بڑھتا ھے
“ارے سیف یار آؤ نہ نور آج کے دن تمہارے لیے اک اور Surprise ہے”
سمعان بیک وقت سیف اور نور سے مخاطب ھوتا ھے مگر سامنے موجود امبر اور اس کے گھر والوں کو اپنے پیروں تلے سے زمین سرکتی اور آسمان گھومتاھوا محسوس ھوتی ھےسب کے زبان سے مختلف الفاظ نکلتے ھے
“سفیان
” سیفی بھائی
“بھائی
فانی”
کچھ گرنے کی آواز ٹھاہ
____________________________________
جاری ہے

🌈

📝#تحریر_سحرش_طفیل ✍️

#قسط10آخری🌈
ٹھاہ کی آواز پر سب مڑ کر پیچھے دیکھتے ھیں
“امی………..
امی جان………
سیف جو سمعان سے بات کر رہا ہوتا ھے آواز سن کر سامنے دیکھتا ھے تو امبر اور امی کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ھے اور تیزی سے آگے بڑھ کر آوازیں دینے لگتا ھے نور گلاس میں پانی ڈال کر امبر کو پکڑاتی ھے وہ فورا اپنی امی کے منہ سے لگا دیتی ھے
” سفیان.. ….سفیان میری جان …..میرے بچے کہاں چلے گئے تھے تم مجھے پتہ تھا تم ٹھیک ھو میرا دل کہتا تھا کہ تم ٹھیک ھو میرا بچہ”
امبر کی امی روتے ھوئے بول رہی تھی ساتھ ساتھ سفیان کو چوم بھی رہی تھی اور اسے چھو چھو کر محسوس بھی کر رہی تھی
“تم مجھے کیسے چھوڑ گئے,تم اب تک تھے کہاں کیا تمہیں ھماری یاد نہیں آئی کبھی”
“یاد تو ان کو کیا جاتا ھے جن کو انسان بھول گیا ھو مگر میں تو آپ کو کبھی نہیں بھولا اگر اس روز……”
بات کرتے ھوئے سفیان نے امبر کی طرف دیکھا جو منہ پر انگلی رکھ کر اور سر کو نفی میں ہلا کر اسے چپ رہنے کو بول رہی تھی امبر کی طرف دیکھ کر نور جلدی سے بولی
“آنٹی پلیز بس کرےآپ کی طبیعت خراب ھو جاۓ گی ”
“آنٹی نور ٹھیک کہہ رہی ھے………. اور اس کی تو ھم سب مل کر آرام سےطبیعت ٹھیک کرے گئے اس کی ھمت کیسے ھوئی آپ کو تنگ کرنے کی”
عالیان کی بات کو درمیان میں سمعان نے کاٹ کر کہا
“ابھی تو نور کے لیے اک اور Surpriseباقی ھے,سیف تمہارے ذمہ جو کام کیا تھا وہ ھو گیا کیا”
سفیان نے اپنی امی کا منہ صاف کیا اور دل میں بہت کچھ سوچتے ھوئےسمعان کی طرف دیکھ کر بولا
“تم اچھے سے مجھے جانتے ھو کام کیے بغیر میں واپس نہیں آتا ”
” زبردست ٹھیک ھے پھر تم میرے ساتھ آؤ,بھابھی ”
سمعان سفیان سے بات کر کے ثوبیہ کو آواز دے کر کوئی اشارہ کرتے ھوئے باہر کی طرف بڑھ گیا
“امبر تم نور کو اس کے کمرے میں لے کر جاؤ میں ابھی آتی ھو ”
“جی بھابھی,چلیئے محترمہ”
امبر اور نور روم میں ابھی آ کر بیٹھی تھی کہ کچھ ہی دیر بعد ثوبیہ اک شاپنگ بیگ پکڑے روم میں داخل ھوئی اور نور کے پاس جا کر شاپنگ بیگ میں سے اپنی شادی کے لہنگے کا ڈوپٹہ نکالا اور نور کے اوپر اوڑھا دیا
“بھابھی یہ کیا ھے”
اس سے پہلے امبر یا ثوبیہ کچھ بولتی ڈور بجا کر عالیان اور سمعان اندر داخل ھوئے اور آکر نور کے دائیں بائیں بیٹھ گئے عالیان نے اپنا ہاتھ نور کے سر پر رکھا اور سمعان نے نور کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر نور کی طرف دیکھا اور بولا
“گڑیا تمہیں ھم پر بھروسہ ھے نہ,بابا جان اور ہم نے مل کر تمہارے لیے اک فیصلہ کیا ہے اس یقین کے ساتھ کہ تم ھمارے فیصلے کو رد نہیں کرو گی”
نور پرتشویش اور گھبرائے ھوئے انداز میں سمعان کی طرف دیکھتی ھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول پاتی
باباجان ,سبحان, اور امبر کے بابا ایک ساتھ کمرے میں داخل ھوئے سمعان اور عالیان نے اپنی اپنی جگہ چھوڑ دی بابا جان نور کے دائیں طرف بیٹھ گئے اور نور کے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگایا سبحان نے ہاتھ میں پکڑے پیپرز نور کے آگے کیئے باباجان بولے
“بسم اللہ,بیٹا اللہ کا نام لے کر ادھر سائن کر دو ”
امبر کے بابا نے نور کے ہاتھ میں قلم دیا نور کو ایسے لگا کہ اس کے جان نکل رہی ہو
اس کے ہاتھوں کی واضح کپکپاہٹ ادھر موجود ہر شخص کومحسوس ھو رہی تھی اور نور کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی گر جائے گی اس کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی یہ سوچ کر کہ کسی کی زندگی میں زبردستی وہ داخل کی جا رہی ھے
عالیان نور کے بائیں طرف بیٹھ کر نرمی اور پیار سے بولا
“گڑیا سائن کرو ,بچے باباجان انتظار کر رہے ھے ”
نور نے ذرا سی نظریں اٹھا کر بہت بےبسی اور تکلیف سے اک نظر عالیان اور سمعان کو دیکھا اور جدھر جدھر انھوں نے کہا سائن کر دیئے
باباجان نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگایا اور پیشانی چوم کر تیزی سے باھر چلے گئے
نور کو اپنا سر گھومتا ھوا محسوس ھوا سمعان نے اس سے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ عالیان کے کندھے پر لڑکھڑاگئ اور ایک ساتھ سب کے منہ سے آواز نکلی
“نور”
عالیان نے تیزی سے اسے بیڈ پر لٹایا اور پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارنے شروع کر دیئے
نور نے ذرا سی آنکھیں جھپکائی خالی نظروں سےسامنے سمعان کی طرف دیکھا اور لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے سب یادآگیا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
ثوبیہ تیزی سے نور کے ساتھ جا کے بیٹھی اور عالیان, سمعان اور سبحان سے بولی
“نور کے پاس ھم لوگ موجود ہے آپ لوگ پلیز باہر جائے”

وہ لوگ ثوبیہ کی بات کو سمجھتے ھوئے اک نظر نور کی طرف دیکھ کر باہر نکل گئے ان کے باہر نکلتے ہی نور نے ثوبیہ کے کندھے پر سر رکھ کے رونا شروع کر دیا
—————————-
“شاہ میر تم خوش ھو نہ ”
ابھی سب کھانا کھا کر فارغ ھوئے تھے اب چاۓ سے لطف اندوز ھورہے تھے کہیں سے بھی یہ لگ نہیں رہا تھا کہ رات کے تین بج رہے ہیں سب ایسے آرام سے بیٹھے تھے جیسے دن کے تین ھو
ثوبیہ کب سے شاہ میر کو نوٹ کر رہی تھی کہ وہ کچھ چپ چپ ھے جیسے ہی اسے موقع ملا اسنے شاہ میر سے بات کرنے کا سوچا
“ہو..”
“ہو کیا سیدھے سے بتاؤ”
“ثوبیہ کیا میں نور سے مل سکتا ھو ابھی”
اپنی بات کے جواب میں اتنی غیر متوقع بات سن کر ثوبیہ اک لمحے کو چپ کر جاتی ھے اور شاہ میر کو دیکھتی ھے جو سر جھکائے کھڑا کسی گہری سوچ میں ھوتا ھے
“مگر… ۔۔۔۔
ٹھیک ھے تم ادھر رکومیں ابھی آتی ھو ”
——————————–
“نور شاہ میر تم سے ملنا چاہتا ھے ”
نور جو بیڈ پر سر جھکا کر بیٹھی ھوئی تھی اک دم سر اٹھا کر ثوبیہ کو دیکھتی ھے ثوبیہ نور کی سرخ ھوتی آنکھوں سے نظریں چرا کر بولتی ھے
“نور پلیز بس 5 منٹ
,امبر تم میرے ساتھ آؤ”
ثوبیہ امبر کو لے کر باہر چلی جاتی ھے اور شاہ میر کو اندر بھیج دیتی ھے
“اسلام علیکم”
شاہ میر سلام کر کے رکتا ھے مگر اسے سلام کا کوئی جواب نہیں ملتا وہ نور کی طرف دیکھتا ھے نور اپنےہاتھوں پر نظریں جمائے بیٹھی تھی
شاہ میر نے ہنکارا بھرا اور بولا
“اوھممممم..نور میں کوئی بڑے بڑے دعوے نہیں کرو گا ابھی بس اتنا بولو گا کہ بچپن سے تمہارا نام سن سن کر کب تم سے محبت ھوئی میں نہیں جانتا مگر اتنا جانتا ھو کہ تمہارے بغیر میں خود کو ادھورا سمجھتا ھو ”
شاہ میر کی بات سن کر نور حیران ھو جاتی ھے اس کے لہجے کا خالص پن وہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتی ,شاہ میر نور کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہناتا ھے
“پہلی بار تمہیں میری ماما نےبچپن میں میرے نام کی انگوٹھی پہنائی تھی ,
دوسری بار منگنی میں تم نے پہنی تھی اور اب
اب تیسری بار میں تمہیں پھر سے پہنا رہا ھو انگوٹھی وہی ھے اور میرے جذبات بھی بس وقت بدل گیا ھے ,
اک Requestہے تم سے پلیز اب اسے نہ اتارنا یہ میری ماما کا تخفہ ھے تمہارے لیے ”
شاہ میر نور کی طرف دیکھتا جو اب اس کو دیکھ رہی ھوتی ھے
شاہ میر کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے چھپے پیار کو محسوس کر کے نور گھبرا کر اپنی آنکھیں جھکا لیتی ھے

شاہ میر نور کی گھبراہٹ کو محسوس کر کے زیرلب مسکرا دیتا ھے اور اپنی جیب سے اک ڈبی نکال کر کھولتا ھے
“اور یہ تمہاری Birthdayکا تخفہ”
بہت ہی خوبصورت بریسلیٹ نکال کر نور کے دائیں ہاتھ میں پہناتا ھے جہاں کچھ جھلسے ھوئے نشان اب بھی موجود ھوتے ھیں
“مجھے امید ھے کہ تمہیں یہ پسند آئے گا یہ پہلے اتنا خوبصورت نہیں تھا جتنا اب ھو گیا ھے ”
اتنا بول کر شاہ میر نے جھک کر نور کی ہاتھ کی پشت پر اپنی محبت کا پہلا احساس ثبت کیا
نور کو اک لمحے کے لیے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ھوئی ثوبیہ نے باہر سے آواز دی
“شاہ میر Time is over”
“اوکے ڈئیر اب باقی باتیں انشااللہ دو ہفتے بعد ھمارے کمرے میں Take Careاپنا خیال رکھنا”
شاہ میر بیڈ سے اٹھا اور جھک کر نور کی پیشانی چوم لی ,نور کا چہرا یک دم سرخ ھوگیا شاہ میر نور کا بلش ھوا چہرا دیکھ کر مسکرا دیا
———————————–
صبح کے قریب باری باری سب اپنے اپنے گھروں کے لیے نکل گئے امبر کی فیملی کو چھوڑنے سمعان نے جانا تھا مگر اب سفیان انھیں اپنی گاڑی میں گھر لے کر جا رہا تھا

سفیان کے ذہین میں بار بار اپنے باباجان کا خیال آرہا تھا اس کے خیال میں باباجان گھر میں رک گئے تھے امبر کا چچا جان کو بابا بولنا اس کے لیے عجب نہیں تھا کیوں کہ اکثر بچپن میں موڈ میں آکر چچا کو وہ باباجان بول دیتے تھے

پوری فیملی کا آدھی رات کو سمعان کے گھر میں ھونا بھی سفیان کے لیے اک سوالیا نشان تھا
“گھر جا کے امبر سے پوچھو گا”
گھر پہنچ کر سب اپنے اپنے کمروں میں ریسٹ کرنے چلے گئے چھوٹی سفیان کو اوپر والے کمرے میں چھوڑ آتی ھے
یہ کمرا ان ماں بیٹیوں نے شروع سے ہی سفیان کے لیے سیٹ کیا ھوا تھا سفیان الماری کھولتا ھے تو حیران رہ جاتا ھے اس میں اس کے ماپ کے کپڑے موجود ھوتے ھیں وہ اک شلوار قمیض نکالتا ھے اور فریش ھونے کے لیے واش روم چلا جاتا ھے جیسے ہی وہ باہر آتا ھے
امبر دودھ کا گلاس ہاتھ میں لیے کھڑی ھوتی ھے
“بھائی یہ میں آپ کے لیے لائی تھی”
“او کتنے عرصے بعد آج میں نے یہ جملہ سنا ھے تم کھڑی کیوں ھو بیٹھو نہ
,امبر باباکہاں ھے مجھے لگا گھر پر ھو گۓ مگر ادھر تو تالا لگا تھا ”
امبر کے بیٹھتے ہی سفیان نے امبر سے پہلا سوال اپنے بابا کے بارے میں پوچھا امبر نے سفیان کی طرف دیکھا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی
“بابا ,بابا تو چلے گئے”
“بابا چلے گئے مگر کہاں چلے گئے”
“باباجان تو بختاور آپی کے ساتھ ہی چلے گئے ”
اتنا بول کر امبر نے رونا شروع کیا اور روتے روتے بتایا کہ کیسے اس کے جانے کے بعد اس نے بابا جان کو کال کی اور کیسے ان کا دل ڈھرکنا بند ھوا
“بھائی آپ کو یاد ھےباباجان اکثر بولتے تھے کہ آپی میں ان کی جان ھے وہ سچ بولتے تھے آپی کے بغیر تو وہ اک گھنٹہ بھی گزار نہ سکے ”
اتنا بول کے امبر نے پھر سے رونا شروع کر دیا

“میں کتنا بدنصیب انسان ھو جیسے اپنے باپ کی موت کا پتہ ہی نہیں چلا ,نہ میں ان کو آخری بار دیکھ سکا ”
سفیان نے روتے روتے کہا کافی دیر دونوں بھائی بہن روتے رہے
پھر امبر نے اپنے آنسو صاف کر کے سفیان سے پوچھا
“مگر بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے ”
“میں, میں کہاں گیا تھا
سفیان نے جیسے یاد کرنے کی کوشش کی
” اس روز۔۔۔۔۔۔۔۔اس روز ڈاکٹر کی بات سن کر میں ھوسپٹل سے نکلا مجھے بالکل ھوش نہیں تھا کہ میں کہاں جا رہا ھو باربار ڈاکٹر کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رھے تھے کہ اچانک اک موڑ مڑتے ہی میں اک گاڑی سے ٹکرا گیا اس کے بعد مجھے کچھ ھوش نہ رہا ”
اتنا بول کے سفیان اک لمحے کو رکا اور پھر دوبارہ بولنا شروع ہوا
“دوبارہ جب مجھے جب ھوش آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میں تقریبادو ماہ بعد ھوش میں آیا ھو مجھے پہلا خیال گھر کا آیا مگر بہت یاد کرنے پر بھی مجھے گھر کا اڈریس یاد نہ آیا ڈاکٹر نے مجھے ذہین پر زور ڈالنے سےمنع کیاکیونکہ
اس حادثے میں مجھے سر پر بہت گہری چوٹ لگی تھی تقریبا تین ماہ بعد مجھے یاد آیا جب میں وہاں گیا تو گھر میں تالا لگا تھا ساتھ والی آنٹی سے پوچھا تو انھوں نے بس اتنا ھی بتایا کہ تم لوگ گھر چھوڑ کے چلے گئے ھو “

“بھائی بھائی آپ کا ایکسیڈنٹ او میرے خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں سمجھتی رہی کہ آپ آپی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
امبر روتے ہوئے بولی
“لیکن بھائی آپ کا ایکسیڈنٹ کس کی گاڑی سے ھوا؟ ”
“شاہ میر اور سمعان کی گاڑی سے ,اس کے بعد ہر موقع پر انھوں نے ہی میرا ساتھ دیا میں نے اپنی تعلیم مکمل کی ساتھ ساتھ جاب کر کے پیسے جوڑے فارغ ٹائم میں تم لوگوں کو ڈھونڈنے نکل پڑتا
شاہ میر کی مدد سے مجھے ملک سے باہرجاب مل گئی تو میں باہر چلا گیا ساتھ ساتھ پڑھائی کرتا رہا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ھم تینوں نے مل کر اپنا بزنس شروع کر لیا جب بزنس کچھ چل پڑا تو سمعان نے پاکستان
میں نے دبئ اور شاہ میر نے کینیڈا میں ایک ایک آفس سیٹ کرنا شروع کر لیا اب الحمداللہ ھمارا کام اچھے سے سیٹ ھو گیا ھے تو میں شاہ میر اور سمعان سے ملنے اور اگلا پروگرام طے کرنے کے لیے ادھر آگیا مگر
,مگر تم لوگ ادھر کیسے ؟ ”
“بھائی نور میری دوست ھے اور ….”
“اور کیا؟ ”
“اور بھائی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اتنا بول کر امبر چپ کر گئی
“امبر پوری بات بتاؤ اور کیا؟”
امبر نے ہچکچاتے ہوئے دوبارہ بولنا شروع کیا
“بھائی وہ میرا سمعان کے ساتھ نکاح ھو چکا ھے ”
امبر نے کچھ ججھکتے ھوئے بتایا
“کیا ,کیا کہاں تمہارا سمعان سے ,O my God وہ تم ھو جس کا سمعان سے نکاح ھوا تھا,تم سمعان کی بیوی ھو او میرے اللہتیرا لاکھ لاکھ شکر ہے Great

امبر میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے یہ سن کر کتنی خوشی ھوئی ھے I am so happy تمہیں پتہ ہے اکثر سمعان کو دیکھ کر مجھے تمہارا خیال آتا تھا ”
“بھائی اک بات اور بتاؤ”
“کیا”
“آپی نے۔۔۔۔۔۔۔۔ آپی نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا
انھوں نے نکاح کیا تھا”
“کیا ۔۔۔۔۔۔۔یہ تم کیا بول رہی ہو,کس سے کیا تھا ،کون ہے وہ اور تمہیں کیسے پتہ ھے”
سفیان نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوال کر دیئےامبر نے آہستہ آہستہ اسے سب بتا دیا
“بھائی عالیان بھائی بہت اچھے ہیں اتنا عرصہ آپ ھمیں ڈھونڈتے رہے
اور اور عالیان بھائی آپی کو وہ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ آپی ٹھیک نہیں تھی”
سمعان کے ساتھ ساتھ اکثر اس کی عالیان سے بات ھوتی تھی اسے عالیان سے بہت اپنائیت بھی محسوس ھوتی تھی آج اس اپنائیت کا راز بھی کھل گیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ سفیان کے دل سے اک بڑا بوجھ بھی ہٹ گیا
———————————
تم کیا جانو محبت کے , م , کا مطلب ؟؟..
مل جاے تو محبوب
نہ ملے تو مطلب پرست..
تم کیا جانو محبت کے , ح , کا مطلب ؟؟..
مل جاے تو حیرانگی
نہ ملے تو حیوانگی…
تم کیا جانو محبت کے , ب , کا مطلب؟؟..
مل جاے تو بختاور
نہ ملے تو بد بخت…
تم کیا جانو محبت کے , ت , کا مطلب؟؟..
مل جاے تو تحفہ خدا
نہ ملے تو تنہائی کا عذاب…
———————————–
ثوبیہ کے کمرے سے باہر جانے کے بعد نور نے اک گہرا سانس لیا اور سر کو ذرا سا اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا کمرے کوبہت خوبصورتی کے ساتھ ڈیکوریٹ کیا گیا تھا نور کے
favorite colors lime green or dust blue color
کا کمرے میں paint ھوا تھا اور White or Red Rose سے کمرے کو سجایا گیا تھا
آج نور اور شاہ میر کی شادی تھی
Blood Red or Golden color
کے Bridal Dress میں نور کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی ڈوپٹے سے دائیں سائیڈ کا گھونگھٹ نکالے جب اسے شاہ میر کی بائیں سائیڈ پر بیٹھایا گیا قدرتی طور پر اک آڑ سی بن گئی گھونگھٹ کی وجہ سے دائیں طرف سے اس کا جھلسا ھوا چہراچھپ گیا تھا کوئی بھی اسے دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھاکہ اس کا چہرا جھلسا ھوا ھے ہر کوئی چاند سورج کی جوڑی سے انھیں تشبیہہ دیتے رھے

دروازہ کھلنے کی آواز سن کر نور سیدھی ھو کے بیٹھ گئی شاہ میر چلتے ھوئے بیڈ کے قریب آیا اک لمحے کو بیڈ کے قریب روکا اور پھر پلٹ کر الماری کی طرف چلا گیا الماری میں سے اک پیکٹ نکالا اور دوبارہ بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا
“اسلام علیکم”
“وعلیکم سلام”
نور نے آہستہ سی آواز میں شاہ میر کو سلام کا جواب دیا
“اصولی طور پر تو مجھے پہلے آپ کر رونمائی کا تخفہ دینا چاہیے
but I know
اس کے بعد میں آپ کا یہ روپ نہیں دیکھ پاؤ گا soپہلے میں جی بھر کر آپ کو دیکھ لو”
اتنا بول کر شاہ میر جو نور کے پاس بیٹھا ھوتا ھے نیم دراز ھو کر نور کو دیکھنے لگ جاتا ھے شاہ میر کے اتنے پیار سے متواتر خود کو دیکھنے پر نور کنفیوز ھو جاتی ھے اور گھبراہٹ میں بولتی ھے
“ششاہ میر پلیز”
نور کی گھبراہٹ دیکھ کر شاہ میر زیرلب مسکرا دیتا ھے اور سیدھا ھو کے بیٹھ جاتا ھے
“میں نے بہت سوچا مگر مجھے کوئی بھی گفٹ آپ کے شیانےشان نہیں لگا اس کے علاوہ
So my Sweet and beautiful wife This is for U”
شاہ میر نور کی طرف پیکٹ بڑھاتا ھے نور حیرت سے کبھی پیکٹ کو اور کبھی شاہ میر کو دیکھتی ھے شاہ میر کی مسکراہٹ سے وہ تھوڑی confused ھو جاتی ھے
“لو نا یار یہ تمہارے لیے ھے ”
شاہ میر کے اصرار پر نور پیکٹ پکڑ لیتی ھے
“کھولو نہ ”
شاہ میر کے کہنے پر نورکانپتے ہاتھوں سے پیکٹ کھولتی ھے
“ششاہ………….شاہ میر ….یہ o my God”
پیکٹ میں موجود سامان دیکھ کر نور رو پڑتی ھے شاہ میر آگے ھو کر نور کو گلے لگا لیتا ھے
“جی جان شاہ میر ,کیسا لگا آپ کو اپنا گفٹ”
“شاہ میر مجھے یقین نہیں آرہا یہ میرے لیے میں اتنی خوش قسمت ھو ,میں میں اس قابل تو نہیں تھی او میرے خدا”
“جان من آپ کس قابل ھے یہ ھم سے پوچھے”
“شاہ میر میں بہت خوش قسمت ھو ذرا سی تکلیف پر جان دینے والے ماں باپ,امبر جیسی دوست ,عالیان سمعان اور سبحان جیسے بھائی اور ثوبیہ بھابھی جیسی بہن
,اگر سمعان بھائی نہ ھوتے میں نے تو اپنی بیوقوفی سے آپ کو کھو دینا تھا اور اب یہ اتنا اچھا گفٹ
thank you so much”
“ارے ایسے ہی کھو دینا تھا جناب ھم آپ کو کھونے دیتے کیا ”
” مجھے یقین نہیں آرہا کہ میں اللہ کے گھر جاؤ گی”
“جناب میں نہیں ھم اور انشااللہ ھم پرسوں صبح جا رہے ھے ھم اپنی نئی زندگی کا آغاز اللہ کے گھر جا کے کرے گئے اور اس کے بعد سفیان کے دیئے دبئی کے ہنی مون کے ٹرپ کو انجواۓ کرے گئے”
نور شاہ میر کی بات پر اثبات میں سر ہلاتی ھے اور مسکرا دیتی ھے شاہ میر جھک کر نور کی پیشانی چوم لیتا ھے نور شاہ میر کو پیچھے دکھا دیتی ھے اور بیڈ سے اتر جاتی ھے
“ارے کدھر میں نے تو ابھی تمہیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ”
“میں نہیں ھم جا رہے ھیں جناب شکرانے کے نفل ادا کرنے چلے اٹھیں”
نور شاہ میر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھاتی ھے شاہ میر اٹھ کر نور کو اپنی بانہوں میں بھر کے اس کا سر چوم لیتا ھے
“جی جان بالکل شکرانہ تو بنتا ھے ”
اتنا بول کے شاہ میر واش روم کی طرف بڑھ جاتا ھے
تھوڑی دیر بعد دو پیار سے لبریز دل خدا کے خصور حاضر ھو کر شکریہ ادا کر رہے ھوتے ھے
اور آسمان پر موجود چاند ان کی محبت دیکھ کر مسکرا کر بادلوں میں چپ جاتا ھے
——————————-
مُجھے عِشق تیری ادا سے ھے، مُجھے عِشق تیری رضا سے ھے
میرا عِشق فانی و ناتواں، اسے اپنے عِشق سے مار دے…
جو تُجھے پسند ھو محرما، وھی رنگ چُنری سَنوار دے میری سانس سانس کے بِیچ میں، درِ یارِ جاں کی پُھوار دے…
تیرے عِشق میں میرا عِشق دے، میرے مَن میں خود کو مکِیں بنا
میری ذات تیرے فقِیر سی، مجھے محلِ جاں سے فرار دے… مجھے مَستِ حرمِ حِجاز کر، مجھے دیَر و غیر سے لَو نہیں میں تیری ھی خلقِ عظِیم ھوں، مجھے اپنے ہاں سے قرار دے
میں کہوں تُجھے میرے محرما، تیرے عِشق سے مجھے عِشق ھے میں تیرے سپُرد رَحِیم و ربّ، مجھے میری جِیت کی ہار دے __
———————————-
After 4 months
“مسٹر اینڈ مسز شاہ میر
congregation Report is positive She is Pregnant
یہ میں کچھ medicineلکھ رہی ھو یہ آپ نے daily use کرنی ھے”
ڈاکٹر کی بات سن کر شاہ میر اور نور بہت خوش ھوئے واپسی پر سارا راستہ شاہ میر کسی گہری سوچ میں گم رہا نور کو گھر ڈراپ کر کے شاہ میر کسی ضروری کام سے چلا گیا
اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے نور شاہ میر کا انتظار کرتے کرتے کب صوفے پر بیٹھے سو گئی اسے پتہ ھی نہ چلا.
شاہ میر تقریبا 12 بجے فارغ ھو کر گھر آیا تو سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا ھوا تھا اس نے تمام ڈور لاک کیے اور اپنے کمرے کی طرف آیا کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اس کی نظر سامنے صوفے پر پڑی وہ پریشان ھو گیا
آج تک کبھی ایسا نہیں ھوا کہ شاہ میر کے آنے سے پہلے نور سو گئی ھو.شاہ میر نے آگے بڑھ کر نور کی پیشانی پر ہاتھ رکھا پیشانی پر حرارت محسوس نہ کر کے شاہ میر نے سکون کا سانس لیا شاہ میر نے پہلے تو اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھا پھر بہت پیار سے نور کو اٹھا کر بیڈ پر لٹا کر اس کی پیشانی چوم لی
“thank you”
نور کی دھیمی سی آواز سن کر اور اس کے بازؤں کو اپنے گلے میں محسوس کر کے شاہ میر حیران رہ گیا
“او تو آپ جاگ رہی تھی”
“جی بالکل آپ کو کیا لگا کہ میں آپ کا انتظار کئے بغیر ہی سو گئی,کیا بات ھے آپ پریشان ھو”
“نہیں تو,میں کیوں پریشان ھونے لگا”
“شاہ میر جھوٹ نہیں بولے کیا بات ھےبتایئے نہ پلیز”
“نور میں نے سوچا تھا کہ اب سب سے پہلے تمہاری سرجری………”
نور نے شاہ میر کی بات کاٹ کر کہا
“کیوں میں آپ کو ایسے اچھی نہیں لگتی کیا”
“ارے میں نے ایساتو نہیں کہا مجھے تو تم ہر حال میں اچھی لگتی ھو ”
“سچ”
“بالکل سچ”
شاہ میر نے نور کی پیشانی چوم کر کہا
“شاہ میر مجھے سرجری نہیں کروانی”
نور شاہ میر کی شرٹ کے بٹنوں کے ساتھ کھیلتے ھوئے بولی “کیوں”
“آپ کو پتہ ھے اس حادثے کے بعد میں سوچتی تھی کہ آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ھوا میں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاھا کسی کا برا نہیں سوچا پھر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ھوا اور پتہ اللہ نے مجھے کیا جواب دیا”
شاہ میر نے نہ سمجھی سے سر ہلا دیا
“مجھے اللہ نے ہر نعمت سے نوازہ شفقت اور محبت کرنے والے والدین,جان نثار کرنے والے بھائی ,بہنوں سے بڑھ کر محبت کرنے والی بھابھیاں اور دوستوں سے بڑھ کر آپ,میرے ماں باپ کی دعاؤں اور میرے صبر کا انعام میرے پیارے رب نے مجھے آپ کی صورت دیا
اب میرا بھی فرض ھے کہ میں اپنے رب کی عبادت کرواور اس کی مخلوقکی خدمت کر کے اپنے رب کا شکریہ ادا کرو ”
“ارے واہ میری بیگم تومیری سنگت میں بہت سیانی نہیں ھو گئی”
“جی نہیں مآبدولت پہلے سے ھی بہت ذہین ھیں”
“اچھا جی ذرا یہ ھی بات تھوڑا پاس آ کر بولو”
“شاہ میر پلیز پہلے میری پوری بات سنے ”
“اوکے یار بولو میں سن رہا ھو کیا کرنا چاہتی ھو تم ”
“آپ سچ میں میرا ساتھ دے گئے”
“بالکل بھلا میں اپنی جان کو اکیلا چھوڑ سکتا ھو کیا”
“شاہ میر
Thank you”
“No Thanks OK ”
“شاہ میر میں اللہ کی مخلوق کے ذریعے اللہ کی عبادت کرنا چاہتی ھو ”
کیا مطلب میں سمجھا نہیں ”
” دیکھے عبادت تو آپ بھی کرتے ھیں اور میں بھی مگر ھم اللہ کی مخلوق کے لے وہ نہیں کرتے جو ھمیں کرنا چاہیے ھم کتابوں میں جگہ جگہ پڑھتے ھیں کہ حقوق اللہ سے پہلے حقوق العباد ھیں یعنی پہلے بندے کے حقوق اور پھر اللہ کے ,اللہ اپنے حقوق کے لیے تو شاید ھمیں معاف کر دے مگر کسی انسان کے حقوق کے لیے معاف نہیں کرے گا جب تک وہ انسان نہ چاہیے تو بس میں اب انسانوں کے ذریعے سے ھی عبادت کرنا چاہتی ہو
میرے جیسی بہت سی لڑکیاں ھیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنی پہچان کھو رہی ھیں مجھے تو آپ کے ذریعے اپنی پہچان مل گئی ,میرے لیے آپ ھو ان کے لیے بھی کوئی ایسا ھونا چاھیے جو انھیں یہ یقین دلا سکے کہ اللہ نے انھیں اکیلا نہیں چھوڑا ,ان کے چہرے پر موجود زخم ان کی کمزوری نہیں طاقت ھیں”
بات کرتے ھوئےنور کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے شاہ میر نے اس کی آنکھوں پر اپنے ھونٹ رکھ دیئے
“I am proud of U”
————————————————-
ایسا لگ رہا تھا کہ خوشیوں نے اس گھر کی دھلیز دیکھ لی ھو ایک کے بعد ایک اچھی خبر مل رہی تھی صبح اٹھتے ھی پہلی خبر اسے ثوبیہ بھابھی کے گھر بیٹا پیدا ھونے کی ملی بغیر ناشتا کیے سیدھے پہلے ھوسپٹل پہنچی
اس وقت ھوسپٹل کا کمرا مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا قہقے مسکراہٹیں پورے ھوسپٹل میں عالیان سمعان نور اور سبحان نے اپنے ہاتھوں سے مٹھائی بانٹی
ھوسپٹل کے کچھ private rooms رہ گئے تھے کچھ میں سمعان اور سبحان دینے چلے گئے اور کچھ میں امبر اور نور۔

یہ last room تھا نور نے دروازے کو ہلکے سے بجایا اندر سے اجازت ملتے ھی نور اور امبر ایک ساتھ کمرے میں داخل ھوئی اور سلام کیا
مگر سامنے بستر پر موجود وجود کو دیکھ کر دونوں اپنی بےساختہ نکلنے والی چیخوں کو نہ روک سکی
امبر اور نور ایک زبان بولی
“تم ,تم صبا ھو نہ”
“ہاں میں صبا ھو ”
صبانے بےتاثر لہجے میں جواب دیا ,
امبر اور نور بہت حیرت اور تکلیف سے صبا کو دیکھ رہی تھی وہ کہی سے بھی صبا نہیں لگ رہی پیلا رنگ,جسم ھڈیوں کا ڈھانچہ ایسے جیسے جان ھی نہ ھو
ھوسپٹل کے لباس میں وہ برسوں کی بیمار لگ رہی تھی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور جسم کا جتنا بھی حصہ نظر آرہا تھا اس پر جگہ جگہ پر زخم جن میں سے کچھ سے پیپ بھی بہہ رہی تھی
نور نے بہت دکھ سے پوچھا
“یہ تم نے اپنا کیا حال بنا لیا ھے ”
“مجھے اللہ نے میرے کیےکی سزا دی ھے ”
صبا نے دوبارہ بے تاثر لہجے میں کہا
“صباجمی کہا ھے ”
امبر نے پوچھا
“وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا مجھے اور اسے نور کی بد دعا لگ گئی مر گیا وہ میری ماما بھی مر گی میں بھی مر جاؤ گی مگر یہ لوگ مجھے مرنے نہیں دیتے
مجھے میرے حسد نے مار دیا پلیز ان سے بولو مجھے چھوڑ دے پلیز نور تم بولو اللہ سے کہ میری تکلیف ختم کر دے اب برداشت نہیں ھوتی”
صبا نے تکلیف سے چیختے ھوئے کہا
“خبردار میرے قریب مت آنا پلیز دور رھو مجھ سے ”
نور جو صبا کے پاس جانے کے لیے قدم بڑھا رہی تھی وہی رک گئی صبا کی حالت دیکھ کر امبر اور نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ,
امبر نے صبا سے پوچھا
“جمی کو کیا ھوا تھا ”
“اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ نور کو حاصل نہ کر سکا تو وہ مجھ سے شادی کر لے گا مگر وہ انگلینڈ بھاگ گیا میں نے اسے اس کا وعدہ یار دلایا اسے بتایا کہ میری وجہ سے میری ماما مر گئی ھیں
میں نے اس کے آگے بہت ہاتھ پاؤں جوڑے مگر اس نے میری ایک نہ سنی نشے کی حالت میں اس کی car کا accident ھو گیا جس میں اس کی جان تو بچ گئی مگر ریڑھ کی ھڈی ڈیمج ھونے کی وجہ سے وہ زندگی بھر کے لیے معذور ھو گیا جو شخص دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا تھا پانی پینے کے لیے بھی محتاج ھو گیا کچھ عرصہ تو سب نے اس کا خیال رکھا
مگر پھر ھوسپٹل میں ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا بالکل میری طرح پھر اک دن فون آیا کہ وہ مر گیا ھے کسی نرس نے کچھ رقم لے کر اسے زھر کا انجکشن لگا دیا اور مرنے سے پہلے وہ اک video چھوڑ گیا کہ اس نے خود کشی اپنی مرضی سے کی ھے ”
اتنا بول کر صبا نے گہرے گہرے سانس لینے شروع کر دیئے اور پھر دوبارہ بولی
“چار ماہ پہلے میری طبیعت خراب رہنے لگی ڈاکٹر کو چیک کروایا تو اس نے ٹیسٹ لکھ کر دیئے جب ان ٹیسٹ کر رزلٹ آیا تو مجھے پتہ چلا کہ میں HIV Positive ھو
مجھے میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہےپلیز میرے لیے دعا کرو میں بہت تکلیف میں ھو”
صبا کی بات سن کر نور اور امبر کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی نور نے روتے ھوئے کہا
“صبا تم نے جو بھی میرے ساتھ کیا میں نے تمہیں معاف کیا میرا رب بھی تمہیں معاف کرے ”
“شکریہ , بس میرے لیے دعا کرنا اب تم لوگ جاؤ مجھے سونا ھے اور پلیز دوبارہ ادھر مت آنا اور جاتے ھوئے دروازہ بند کر دینا”
امبر اور نور نے روتے ھوئے اک نظرصبا کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کر کے لیٹ چکی تھی اور واپسی کے لیے قدم بڑھا دیئے

آنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعد
لوٹ جاتا ھے اگر کوئی خفا شام کے بعد

وہ جو ٹل جاتی رھی سر سے بلا شام کے بعد
کوئی تو تھا کہ جو دیتا تھا دعا شام کے بعد

آہیں بھرتی ھے شب ہجر یتیموں کی طرح
سرد ھو ھاتی ھے ھر روز ھوا شام کے بعد

شام تک رھا کرتے ھیں دل کے اندر
درد ھو جاتے ھیں سارے ھی رھا شام کے بعد

لوگ تھک ھار کے سو جاتے ھیں لیکن جاناں
ھم نے خوش ھو کے ترا درد سہا شام کے بعد

خواب ٹکرا کے پلٹ جاتے ھیں‌بند آنکھوں سے
جانے کس جرم کی کس کو ھے سزا شام کے بعد

چاند جب رو کے ستاروں سے گلے ملتا ھے
اک عجب رنگ کی ھوتی ھے فضا شام کے بعد

ھم نے تنہائی سے پوچھا کہ ملو گی کب تک
اس نے بے چینی سے فورا ھی کہا شام کے بعد

میں اگر خوش بھی رھوں پھر بھی مرے سینے میں
سوگواری کوئی روتی ھے سدا شام کے بعد

تم گئے ھو تو سیہ رنگ کے کپڑے پہنے
پھرتی رھتی ھے مرے گھر میں قضا شام کے بعد

لوٹ آتی ھے مری شب کی عبادت خالی
جانے کس عرش پہ رھتا ھے خدا شام کے بعد

دن عجب مٹھی میں‌جکڑے ھوئے رکھتا ھے مجھے
مجھ کو اس بات کا احساس ھوا شام کے بعد

کوئی بھولا ھوا غم ھے جو مسلمل مجھ کو
دل کے پاتال سے دیتا ھے صدا شام کے بعد

مار دیتا ھے اجڑ جانے کا دہرا احساس
کاش ھو کوئی کسی سے نہ جدا شام کے بعد
ختم شدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: