٭٭٭رسمِ وفا٭٭٭Rasm- e -Wafa***

Urdu Novel

٭٭٭رسمِ وفا٭٭٭

قسط نمبر:8

مصنف : نعیم راجپوت

            ممتاز بیگم اور اللہ دِتہ کی دو بیٹیاں ‘ شگفتہ اور قیصرہ ۔ شگفتہ کی شادی اپنے تایا ذا د‘ غفورسے ہوئی اور ” چوڑاں والا“ میں آ کر آباد ہو گئی تھی اور ان کی شادی کے تین سال بعد ایک بیٹی منّی پیدا ہوئی تھی جو تیئس سال کی عمر تک ایف۔ اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کر چکی تھی۔ باپ ٹھیلا چلاتا تھا اسی سے گزر بسر ہو تا تھا ۔ خالہ قیصرہ کی ایک بیٹی اور بیٹا تھا جو جڑواں تھے مناہل اور مُعید اور انہوں نے اس کے ساتھ ہی مڈل پاس کیا تھا ۔ ان کا والدامان اللہ ایک سکول میں پڑھاتا تھاوہ لوگ اسلام آباد میں رہتے تھے ۔ بعد میں یہاں آ گئی اور یہاں پرائیویٹ طور پر میٹرک اور ایف۔ اے کے پیپر دئیے ۔ شروع شروع میں تو اسے یہاں کا ماحول عجیب لگا مگرپھر اسی ماحول میں وہ رَچ بس گئی ۔ فرسودہ ساگاوں کا ماحول ‘ اور تاریک ماحول اب اسے برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی تھی ۔ اب اسے یہاں آئے آٹھ سال گزر چکے ہیں۔امان اللہ کی وفات کے بعد منی کے لئے بہت رِشتے آتے ہیں مگر شگفتہ کچھ سوچ کر بہن کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ منی اور شگفتہ اُداس ہو کر وہاں سے روانہ ہو جاتی ہیں۔ لُوسی منی سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر منی اس کے لئے کوئی خاص جذبات کا اظہار نہیں کرتی۔جس پر لُوسی غم ذدہ ہے۔منی اور شگُفتہ خالہ قیصرہ کے گھر پہنچ جاتی ہیں ۔ مُعید کا سارہ کی طرف جھُکاﺅ دیکھ کر تمکین سخت غصہ ہو تی ہے ۔

            معُید اور سارا یونیورسٹی فیلو ہیں ۔ سارا کو یقین ہے کہ معُید اس سے بہت محبت کرتا ہے اور وقت آنے پر اس کا ہر حال میں ساتھ دے گا‘ اور معُید کے سارا کے لئے حد درجہ فکر مند ہونے سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ہر کام میں اس کی مدد کرنا اور ہر جائز و ناجائز بات ماننا ۔ وہ سارا کو ناراض نہیں دیکھ سکتا ۔سارا اسے کم از کم منگنی کرانے کا کہتی ہے مگر مُعید اسے سمجھا کر ٹال دیتا ہے ۔سارا مُعید کے لئے حد سے ذیادہ جذباتی ہے۔ان دونوں کی ایک دوسرے کے لئے دیوانگی حد سے ذیادہ ہے ۔ شگفتہ ‘ تمکین کا رشتہ مُعید سے کرنا چاہتی ہیں اور یہ معاملہ قیصرہ اور احسان کے سامنے رکھتی ہیں وہ دونوں مشکل میں پڑ جاتے ہیں کیوں کہ انہوں نے مُعید کی پسند سارہ کو مثبت جواب دیا تھا ۔ بہن کو پچپن میں کہی جانے والی بات اب قیصرہ کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے ۔ اُدھر ‘ تمکین کو جب سب پتا چلتا ہے تو وہ ہواﺅں میں اڑنے لگتی ہے اور یہ سارا سارہ کے گوش گزار کر دیتی ہے ۔ اس کا سارہ اعتبار چھن سے ٹوٹ جاتا ہے ۔

            جازب ‘ ثریا اور مرحوم اصغر احمد کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود اس میں کوئی غرور نام کی چیز نہ تھی ۔ ماں باپ کی اچھی تربیت اور اعلی تعلیم نے جازب کو صرف تعلیم کی ودلت سے ہی مالا ما ل نہ کیا تھا بلکہ عقل بھی عطا کی تھی ۔یہی وجہ تھی کہ جب باپ نے اپنی بہن کی بیٹی سے شادی کا کہا تو فوری راضی ہو گیا ‘ ثریا کوجازب کا ماریہ سے شادی پر اعتراض تھا کہ وہ اپنی بہن کی بیٹی بیاہنا چاہتی تھیں مگر گھر میں فساد نہ ڈالا اور یوں جازب اور ماریہ ہمیشہ کے لئے زندگی بھر کے ساتھی ہو گئے ‘ شادی کے بعد چار سالوں میں اللہ نے ان کو ایک بیٹا اور بیٹی سے نوازا۔گھرانا مکمل ہوا جازب کی اعلی تعلیم کے باوجود اسے کوئی مستقل جاب نہیں مل رہی تھی ۔ صغیر احمد بسترِ علالت پر جا لگے اور دو ماہ میں انتقال فرما گئے ۔ فوج کی نوکری کی تھی سو پنشن تھی جو گھر کا گُزارہ اچھے سے چلا رہی تھی ۔ ماریہ کا ساتھ اور اس کی باتیں جازب کے لئے مزےد حوصلہ کا باعث بنتی تھیں ۔جازب ایک جگہ انٹرویو کے لئے جاتا ہے مگر عالیہ اعوان سے بد تمیزی کرتا ہے جس کا اسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہی انٹرویو پینل کی ہیڈ تھیں ۔ وہ مایوس گھر لوٹ آتا ہے ۔ایک حادثہ میں عالیہ اعوان اور جازب کی دوبارہ مُلاقات ہو جاتی ہے اور وہ اسے جاب آفر کرتی ہیں ۔جازب جھوٹ بول دیتا ہے کہ وہ شادی شُدہ نہیں ہے ۔عالیہ اعوان اپنے شوہر کی طرف سے پریشان ہے اس بات کا پتہ جازب کو چل جاتا ہے ۔

( اب آگے پڑھئیے)

(آٹھواں حصہ)

            وہ والدین کی اکلوتی تھی ۔ لاڈلی تھی اور بے تحاشا تھی ۔ ایک حادثہ میں دونوں چل بسے وہ ماموں کے گھر آ گئی ۔ وہ وہاں زندگی کو آسان سمجھنے کے غرض سے آئی تھی اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ لاڈلی تھی تو اُدھر بھی ایک لاڈلا موجود تھا ‘ جو صرف لاڈلا ہی نہیں تھا حد درجہ بگڑا ہوا بھی تھا۔

            وہ اس کا ماموں زاد تھا ۔ اکلوتا تھا اور سارے میں اسی کا راج تھا ۔ اب جب اس نے اس معصوم اور آنکھوں میں بے پنا ہ ذہانت لئے اس لڑکی کو دیکھا تو اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس لڑکی سے اس کی تیسری مُلاقات تھی۔

            وہ شروع ہی سے شرارتی تھا ‘ اسے کوئی تین سال تک ملا ہی نہیں جس سے وہ آرام سے شرارتیں کر سکتا۔ سکول میں اسے شوق سے بھیجا جاتا مگر اس کا آنے کا دل ہی نہیں کرتا تھا پانچ سال کا ہونے تک اسے سکول میں گیارہ بجے ہی چھٹی ہو جاتی اوراسے لگتا اس کو کسی پنجرہ میں قید کر دیا جائے گا۔ گھر اس کے لئے پنجرہ ہی تھا ۔ ٹیوشن میں اسے دو ‘ تین ٹیچرز ٹرائی کی گئیں۔ مگر وہ اساتذہ اسے استاد مانتے ہوئے رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اسے پڑھانے کا سارا ذمہ اس کی ماں کے تھا ۔ سکول میں ریزر سے بچوں کے ہوم ور ک خراب کر دینا۔ پینسلیں شارپ کر کر کے ختم کر دینا‘ کسی کالنچ کھا جانا تو کسی کے کپڑوں پر آرام سے سیاہی والا پین blowکر دینا۔ کئی دفعہ تو اس نے کسی بچے کا لنچ کسی اور بچے کو دے کر کہا کہ وہ اپنا لنچ اس کو دے رہا ہے ، کھانے والے کو بعد میں پتہ چلتا کہ وہ کسی اور کا لنچ کھا چکا ہے اور اب مس سے سخت punishmentاس کا حق بننے جا رہا ہے ۔

            گھر میں بھی اس کی شرارتیں دیکھنے کے لائق ہوتیں ۔ کبھی گملے سے پودے اکھاڑ کر دوبارہ آرام سے رکھ دیتا۔ ملازمہ کچھ بنا رہی ہوتی تو کھانے میں مٹھی بھر نمک ڈال دیتا۔ ایک بار اسے بابا سے سخت سست سننے کو ملی تھیں جب اس نے ان کے لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر مٹی ڈال دی تھی ۔اور وہ پکڑا س طرح گیا کہ کچھ دیر پہلے ہی اس کے بابا نے اس کے لئے برگر لایا تھا ۔ جو اس نے کھایا تھا۔ اسے دھیان میں نہیں رہا ‘ کیچپ اس کے ہاتھ سے کی بورڈکو کھولتے ہوئے دونوں طرف لگ گیا تھا۔

            اور اب اس کی خوشی دیکھنے والی تھی ۔ ان کے گھر ایک چھوٹی سے بچی آ گئی تھی ۔ جو مستقل اس کی شرارتوں کا مرکز بننے والی تھی ۔

             “The innocent and miserable little girl”

            یہ اس کا اس لڑکی کے بارے میں پہلا remarkتھا۔

٭٭٭

            تھوڑا اور وقت گزرا تو اس نے محسوس کیا کہ لڑکی کچھ زیادہ بولتی نہیں ہے پہلے تو اسے خیال آیا کہ کہیں بہری گونگی ہی نہ ہو۔ وہ جو بھی شرارت کرتا وہ چپ رہتی ۔ وہ اس سے مزید چڑ جاتا اور شرارتیں کرتا مگر پھر بھی وہ چپ رہتی۔ ایک دفعہ بولی بھی تو اس وقت جب اس چھوٹے لڑکے نے اس کے ہاتھ پر گرم دودھ کی بوندیں ٹپکا دی تھیں ۔ اس نے شکر ادا کیا کہ بولی تو۔ اس کا ہاتھ وہاں سے سرخ ہو گیا تھا اور انہی بوندوں والی جگہ پر اس کی آنکھوں سے دو پانی کے قطرے ‘ آنسو بن کر اس کے ہاتھ پر گرے تھے ۔، مگر وہا ں کسے پروا ہ تھی اسے کوئی چوٹ لگ جاتی ‘ کوئی کچھ بھی کہتا وہ کسی کو نہیں بتاتی تھی ۔ کسی کو کچھ نہیں کہتی تھی۔ اور یہ اور بڑی وجہ تھی جس کے وجہ سے وہ اس چھوٹی لڑکی سے چڑنے لگا تھا۔

            جب وہ سکول داخل ہوا تو اس لڑکی کو بھی اسی سکول میں داخل کرانے لگے تو اس نے بہت احتجاج کیااور بالاخر لڑکے کے ماں باپ نے لڑکی کو علیحدہ سکول میں داخل کرا دیا۔وہ اس لڑکی کو کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ اسے اپنے برابر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ امی ابو اس سے بھی محبت کرتے تھے وہ مجھ سے سب چھین لے گی ‘ وہ سوچتا تھا۔وہ زہین تھی یا نہیں اسے نہین پتہ تھا۔ وہ خود اتنا خاص نہیں پڑھتا تھا ۔ بارہ سا ل کی عمر میں ہی اس کے ذہن میں پڑ گیا تھا کہ وہ اکلوتا ہے اور ساری جائیداد اسی کے نام ہے سو وہ اسی جائیدا د سے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ وہ اپنی زندگی آرام سے گُزار سکتا تھا۔ مگر اس کے والدین اسے زبردستی سکول بھیج دیتے تھے تو مارے بندھے اسے پڑھنا پڑتا تھا۔ اس کی ہر سال دسویں گیارہوں پوزیشن آتی تھی ۔ اور اسے پتہ چلا تھا کہ لڑکی ہر سال پہلی پوزیشن لیتی تھی۔ مگر وہ اس کو یہ خیال کر کے کہ ’ ’سکول والے نقل کرا دیتے ہوں گے ۔ اونہہ “ خود کو مطمئن کرا دیتا تھا۔ایک دن وہ Escape room 8کے ایک levelمیں پھنس گیا تھا ۔ بہت hints لگانے کے بعد بھی وہ لیول overہی نہیں ہو رہا تھا ۔ وہ لڑکی پاس ہی کاﺅچ پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی ۔ لڑکے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

            ” کیا مصیبت ہے ۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ ہر وقت lazy catکی طرح لیٹی رہتی ہو تو یہاں کیوں مجھے چڑا رہی ہو۔ جاﺅ جا کر لیٹو۔ “ وہ سخت بد مزہ ہوا تھا جب سات آٹھ بار بھی کھیلنے پر وہ لیول مکمل نہیں ہو رہا تھا۔

            ” میں یہ کھیل سکتی ہوں ۔“ اس کے جملے نے لڑکے کو صرف حیران ہی نہیں ‘ ایک زودار قہقہہ لگانے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔

            ” تم ۔۔؟ میں کون سا لطیفہ سن رہا ہوں ۔ تم کھیل سکتی ہو۔ ؟؟ کبھی key pad کو touch بھی کیا ہے ۔“ وہ ایک بارپھر ہنسنے لگا۔

            ” تم مجھے ایک منٹ دو۔ میں تم کو کھیل کر دکھاﺅں گی ۔“ اب کی بار لڑکی نے چیلنج کر دیا تھا۔

            ” چلو یہ لو۔ دیکھ لیتا ہوں ۔ “ اس نے کی پیڈ لڑکی کی طرف بڑھایا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کے پاس آ کر کی پیڈ سنبھال لیا۔

            ” یہ بتا دوں اگر تم یہ سب اس لئے کر رہی ہو کہ میرا کی پیڈ ٹچ کر سکو تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے اس کی تمہیں یہ سزا ملے گی کہ میں تمہاری سارے بال کاٹ کر تم کو گنجا کر دو ں ۔۔“ وہ اسے وارن بھی کر رہا تھا۔

            ” چپ۔ “ لڑکی نے اسے ہونٹوں پر انگلی رکھنے کا کہہ دیا تھا۔ وہ جز بز ہو کر رہ گیامگر اسے اب دیکھنا تھا کہ وہ کیا کرتی ہے ۔

وہ بڑی مہارت سے کھیل رہی تھی ۔ ” اف“ وہ دیکھ رہا تھا وہ جیت رہی تھی ۔ وہ لیول مکمل کررہی تھی ۔ اور اب اس کی LED پر سامنے اگلے لیول کے الفاظ silver colorمیں اس کا منہ چڑا رہے تھے ۔ وہ ہار گیا تھا۔ لڑکی جیت گئی تھی ۔ وہ سینتالیس سیکنڈ میں وہ کچھ کر گئی تھی جو وہ پچھلے چودہ منٹ میں نہیں کر پایا تھا۔

“The amazing and intelligent bitter girl”

            اور یہ اس لڑکی کے لئے باقاعدہ دوسرا بڑا جملہ بولا تھا مگر اس کے خلاف نہیں ۔ یہ اور بات کہ وہ ہار گیا تھا اور اب اس کے بعد بہت سے کاموں میں اس لڑکی سے مدد لینے لگا تھا۔ آ ہستہ آہستہ اسے لگا کہ وہ اس لڑکی سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے ۔ اس نے اس لڑکی کو اپنا لیپ ٹاپ اور کمپئیوٹرuse کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔ اور اب وہ دسویں پوزیشن کی بجائے کم از کم چوتھی پوزیشن پر نظر آنے لگا تھا ۔اس نے غلط اعتراف نہیں کیا تھا وہ لڑکی واقعی اس سے ذیادہ ذہین تھی ۔اور یہ سب اسے دل ہی دل میں ماننے پر کوئی افسوس نہیں تھا۔

٭٭٭

اور اگلے کئی برس میں لوگوں نے دیکھا کہ وہ جتنا اس لڑکی سے خائف اور چڑچڑا رہتا تھا روز بروز اس کی ذہنیت کا مداح سرا ہونے لگا تھا۔ پہلی بار دیکھا گیا تھا کہ وہ اس کی ذہنیت سے خائف نہیں ہو ا تھا اب جہا ں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ اس لڑکی کو ہی بُلاتا دونوں میں دوستی ہو گئی تھی ۔

            وقت گزرتا گیا ‘ دونوں بڑے ہو گئے ۔ لڑکا اپنی کلاس فیلو کو پسند کرتا تھا اور اسی سے شادی کا خواہش مند تھا مگر اس کے گھر والوں نے اس پر دھماکا کر دیا جب اسے یہ سننے کو ملا کہ:

            ” تمہارا رشتہ تمہاری کزن سے بچپن میں ہی طہ کر دیا گیا تھا اور تمہیں اسی سے شادی کرنی ہے “ اور یہ سن کر اس کے لئے اور بھی بڑا دھچکا تھا کہ وہی کزن جس کے ساتھ بچپن میں دشمنی ‘ اور اب دوستی ہے اسی کو اس کا شریک ِ سفر بنانے کا ارادہ ہے ۔ وہ گنگ رہ گیا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ لڑکی بھی حیران تھی مگر وہ مزاحمت نہیں کر رہی تھی ۔ یاتو وہ اس رشتے کے لئے راضی تھی یا پھر ان کے احسان تلے ہونے کی وجہ سے بول ہی نہیں پا رہی تھی ۔ ایک دفعہ اس لڑکے نے اسے بھی بولنے کا کہا:

            ” کیا بھیڑ بکری کی طرح چپ بیٹھی ہو ۔ تمہیں پتہ ہے ناں سب کچھ پھر بولتی کیوں تم جانتی ہو میں تمہیں پسند نہیں کرتا ۔ میں ثانیہ سے شادی کروں گا۔ “

            ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ انہوں نے ساری زندگی میرا خیال رکھا ۔ میں اب ان کی ایک خواہش بھی کیا پوری نہیں کر سکتی ۔ “ وہ سانس لینے کو رکی ۔ ” میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔ “ اس نے ہاتھ اٹھا لئے تھے ۔

            ” مطلبی ۔ چال باز لڑکی ! میں مر کر بھی تم سے شادی نہیں کرو ں گا۔ “

            ” اور میں تو سمجھتی ہوں کہ میں جی نہیں سکوں گی اگر تم سے شادی ہو گئی تو۔۔۔“ لڑکی نے خاصا بھاری جواب دیا تھا اسے‘ مگر وہ اسے گھورتا وہاں سے چلا گیا۔

اس بات کے تیسرے دن وہ پھر اس کے سامنے تھا۔

            ” تم پھر اس رشتے سے انکار نہیں کرو گی ۔ “ وہ اسے وارن کر رہا تھا۔

            ” میرا جواب وہی ہے جو تین دن پہلے تم کو دیا تھا ۔“

            ” تو کیا تم اس لڑکے کے ساتھ ساری زندگی گزار لو گی جو تمہیں پسند نہیں کر تا ۔ “ وہ اسے حقیقت سمجھانا چاہ رہا تھا۔

            ” اگر اسی میں میرے بڑوں کی خوشی ہے تو میں اس میں راضی ہوں ۔ “

            ” تم کبھی کبھی مجھے انسان لگتی ہی نہیں ۔ کوئی خواب کو ئی خواہش ہے ہی نہیں تم میں ۔ “ وہ چلا رہا تھا۔ ” اور دوسروں کے خواب بھی چکنا چور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ “

            ” تم نے اس رشتے سے انکار کرنا ہے تو شوق سے کرو۔ میں تمہارے لئے مر نہیں رہی ۔ “ وہ اسے آئینہ دکھا گئی تھی ۔

            ” مر ہی جاتیں تو اچھا تھا۔ پھر۔ “ غصے سے اس کا سانس پھول گیا تھا۔ اس نے ماں کے سامنے شادی سے انکار کر دیا تھا۔اور ایک زور دار تھپڑ اس کے گال کو نیلگوں کر گیا تھا۔

            ” ایک بات یاد رکھنا۔ اس تھپڑ کو نہ بوُلنا اورکبھی غلطی سے بھی باپ کے سامنے انکار کرنے کی جرات نہ کرنا یہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا۔ “ اس لمحے لگا تھا کہ وہ لڑکی ان کی سگی ہے اور وہ ان کا سوتیلا۔ بچپن کی نفرت پھر عود کر آ رہی تھی ۔

            اور دوسرے دن ہی وہ ہو گیا جس کا اسے رتی برابر بھی شک بھی نہیں گزرا تھا۔ ثانیہ نے اسے انکار کر دیا تھا۔ وہ اسے اس کے وعدے یاد دلا رہا تھا ۔ ساتھ نبھانے کی قسمیں بتا رہا تھا مگر اس نے اس کا فون ہی نہیں کاٹا اس سے ہمیشہ کے لئے رابطہ ختم کرنے کو بھی کہہ دیا۔ اور پھر انتقاماََ اس نے اسی لڑکی سے شادی کر لی ‘ جس سے پھر نفرت کا دور شروع ہو چکا تھا۔

٭٭٭

            وہ دونو ں ایک دوسرے کے لئے ندی کے دو کنارے تھے ساتھ ساتھ چل رہے تھے مگر ایک دوسرے کا بالکل خیال نہیں تھا۔ ازدواجی زندگی کے بنیادی حقوق میں سے کچھ تو ادا ہو رہے تھے اور کچھ کا ایک دوسرے نے گلہ نہ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی ۔ لڑکے کی اپنی زندگی تھی ‘ جہاں مرضی جاتا رہتا ‘جو کچھ مرضی کرتا۔ کوئی پوچھنے والا نہ تھا اور اسی طرح وہ لڑکی بھی آزادی سے رہ رہی تھی ۔ شادی کے دو سال بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ مگروہ بھی ان دونوں کو نارمل زندگی کی طرف نہ بُلا سکا۔

            اور ایک دن۔ ثانیہ خود پھر اس لڑکے کی زندگی میں آ گئی تھی ۔ اس نے لڑکی کو کہہ دیا کہ وہ اس کے ساتھ رہ سکتی ہے مگر وہ ثانیہ سے دوسری شادی کرنے جا رہا ہے اور وہ اپنا سارا کچھ ثانیہ کے نام کر چکا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا اس لڑکی کے لئے مگر وہ صبر سے وہ گھونٹ پی گئی ۔ اس نے لڑکے کو کہہ دیا کہ وہ اسے طلاق دے دے ۔ مگر اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ :

            ” تم نے میری زندگی کے چار سال برباد کئے ہیں ۔ میں اب تمہاری ساری زندگی برباد کروں گا۔ طلاق تو مر کے بھی نہیں دوں گا۔ چاہے ‘جو مرضی کر لو۔ “

            ” اور تم کیا سمجھتے ہو ۔میری زندگی کے یہ چار سال تمہارے ساتھ بہت اچھے ہنسی خوشی گزرے میں میں بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، اور یہ میرا فائنل ڈیسین ہے ۔ اگر تم مجھے ڈائیورس نہیں کرو گے تو میں خلع لے لوں گی ۔ گھٹیا انسان ! تمہارے ساتھ گزرے چار سال میرے لئے چار صدیوں کے برابر ہیں اور اب میں تم سے نجات چاہتی ہوں۔ تم بہتر جانتے ہو میں کیا کچھ کر سکتی ہوں۔ سنا ۔ اب کیا چاہتے ہو فیصلہ تم پہ ہے۔ وہ غصے میں اسے بے نقط سنا گئی تھی ۔ اور اسی لمحے عازب اندر آ گیا تھاوہ پہلے ہی غصہ میں تھی ‘ اسے اور طیش آ گیا ۔

            ” بس یہی سب چل رہا ہے وہ میرے لئے سر درد بن گیاہے۔ بڑوں کے غلط فیصلے کے آگے میں جھک گئی تھی اس نے ان چا ر سالوں میں مجھے ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔“ وہ اس کو ساری کہانی بتا چکی تھی ۔

            ” پھر بھی ۔ ان کے ساتھ آپ مل کر بیٹھ کر‘ اس مسئلے کا حل ڈھونڈیں ۔ اس طرح تو آپ کے بیٹے کی زندگی بھی خراب ہو جائے گی ایک بروکن فیملی میں ہو کیسے رہ پائے گا۔ اس کا تو سوچیں ۔ “ عازب اس کی ساری آپ بیتی سن چکا تھا اور اب بھی اسے صلح کا مشورہ دے رہا تھا۔

            ” میں تم سے اس وقت پوچھوں گی جب تمہاری شادی ہو گی اور وہ بھی اگر اس سے ہو گئی جس کو تم ناپسند کرتے ہو تو پھر جو تم ساری زندگی اذیت میں گزارو گے ناں تو پھر تم صحیح سے میرے حالات جان سکو گے ۔ بہر حال یہ صرف کہہ رہی ہوں ، میں نہیں چاہتی کہ کسی کی بھی زندگی میری طرح گزرے ۔ “اور تھوڑی دیر بعد وہ وہاں سے نکلا تو کئی سوچیں اس کے دماغ میں تھیں ۔

            ” شکر ہے میری ماریہ سے شادی میں کوئی ایسے مسائل نہیں آئے ۔ اور اب جبکہ عالیہ اعوان نے طلاق کا سوچ ہی لیا ہے تو وہ اکیلی زندگی کیسے گزاریں گی ۔ اور وہ بچہ معاشرے میں کیسے رہے گا کہ نہ اس کی ماں کو اس کا خیال ہے اور نہ ہی باپ کو۔ “ اور پھراسے پتہ چلا کہ اس کے سوچنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ بڑے لوگ ہیں ان کی بڑی باتیں ۔

٭٭٭

            سارہ کا وجود جواڑ بھاٹے میں پھنسا تھا۔ وہ کیا کرے ‘ اس کا دماغ سُن ہو گیا تھا جب سے اس نے سنا کہ مُعید اور تمکین کی شادی ہو رہی ہے تو یہ ساری کہانی تھی ‘ معید جو تم نے مجھ سے چھپائی ‘ میں جب بھی منگنی کرانے کا ذکر‘ کرتی تو تم مجھے خاموش کر دیتے تھے ۔ میں نے کتنی منتیں کیں ‘ مگر تم نہ مانے ۔ اگر تمکین ہی تمہاری زندگی میں تھی تومیری کیا ضرورت تھی تمہیں ۔ اس طرح کیوں کیاتم نے ۔

سامنے فون پڑا تھا ۔ معید کی کال آ رہی تھی ۔ اٹھانے کا دل نہیں کیا۔ مگر جب مسلسل چار بار کال آئی تو اس نے اٹھانا مناسب سمجھا۔ ( میں نے اسے کوئی ایسا تاثر نہیں دینا کہ وہ سمجھے میں اس کے بغیر مر جاﺅں گی )

            ” ہیلو۔ “ دوسری طرف مُعید کی سانس خارج ہوئی تھی ۔

            ” تمہیں پتہ ہے میں سانس روکے تمہاری کال اٹھانے کا ویٹ کر رہا تھا ۔ جو یہ سانس رک جاتی تو؟؟ “ وہ بگڑا۔

            ” میرے علاوہ اور بہت ہیں جو تمہیں سانس دے سکتے ہیں بلکہ جان بھی دے سکتے ہیں۔ “ وہ کڑوی ہوئی۔

            ” تم مجھے بتاﺅ تمہیں تمکین نے فون تو نہیں کیا۔ “ اس نے پوچھا۔

            ” ہاں کیا تھا۔ “ سارہ نے بھی مختصر جواب دیا۔

            ’ کیا کہہ رہی تھی ۔ “ کاش اس نے کچھ بھی نہ بتایاہو سارہ کو۔ پھر وہ سب سنبھال لے گا۔

            ” مجھ سے مبارک باد مانگ رہی تھی ۔ ‘ ‘سارہ اب بھی عام انداز سے ہی بات کر رہی تھی ۔ رسمی سی۔

            ” کس چیز کی “ اس کا دل اور ہی لے سے دھڑکا ‘ اس کا مطلب جو وہ خدشہ لگائے بیٹھاتو تو یہ سچ تھا تمکین نے اسے سب بتا دیا۔

            ” تمہاری اور اس کی عنقریب منگنی کی اورپھر جلد ہی شادی کی ۔ “

            ” نہیں سارہ ۔ جو جھوٹ بول رہی تھی ۔ “

            ” وہ سچ بول رہی تھی ۔ “ سارہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔

            ” سارہ میرا یقین کرو۔ اس نے سب جھوٹ بولاہے میں مل کر تمہیں سب بتاتا ہوں ۔ تمہیں پتہ ہے ناں میرے والدین‘ تمہارے لئے راضی تھے تو میں ایسے کیسے تمہارے ساتھ کر سکتا ہوں۔ “

            ” جو کرنا تھا کر چکے ہوَ اب میں جو کروں گی ‘ وہ بھی تم دیکھو گے ۔تم پچھلے نو سال سے مجھے اپنی محبت کا یقین دِلا رہے ہو‘ میرا یقین ڈگمگا گیا ہے ۔تو تمہارے پیرنٹس نے تو ایک بار ہی ایسا ذکر کیا تھا ان پہ میں کیا اُمید رکھوں۔ “ اس نے توجہہ پیش کی تھی ۔

            ” مجھے بتاﺅ تم گھر ہی ہو ناں ۔ میں ابھی تم سے ملنے ۔۔“

            ” نہیں تم مجھ سے ملنے نہ آ نا۔میں دُرید کے ساتھ ہوں ۔

            ” دُرید کے ساتھ ۔؟ کیوں“

            ” اس کیوںکا جواب خو د سے تلاش کر لو میں نے اپنا بہت وقت ضائع کر لیا۔ اب نہیں ۔ فکر نہیں کرو۔ میں ایسی کمزور لڑکیوں میں سے نہیں جو اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیں۔ تم نے اپنی راہ چُن لی ۔ اب میں بھی اپنے راستے پہ چلوں گی ۔ اور آئیندہ مجھے فون نہ کرنا۔ ہمارا ساتھ یہاں تلک ہی تھا۔ اب میں نے مڑ کر نہیں دیکھنا اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی مڑ کر نہیں دیکھو گے ۔ “ فو ن بند ہو گیا تھا ۔ وہ ساکت کھڑا تھا ۔ پتہ نہیں اس تمکین نے اسے کیا کیا کہہ ڈالا ہے ۔

             ” اف“ اس کا دماغ شل ہوا جا رہا تھا ۔

٭٭٭

            ” کیسے ہو دُرید ۔ “ دوسری طرف سے ہیلو کہنے کے بعد سارہ کی آواز سننے پر وہ بے یقین تھا۔

            ” آہاں ۔ میں صحیح سن رہا ہوں۔سارہ نے مجھے کال کی ۔ “

            ’ ’ ہاں اچھا بتاﺅ۔ کہاں ہو۔ “

            ” دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل میں ہوں۔ “

            ” کون سے ہوٹل۔ “ اس نے نام بتایا۔

            ” کیوں خیریت تو ہے ۔ “

            ” اگر مُعید فون کرے تو اسے کہنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں ۔ بات کرانے کا کہے تو کہہ دینا میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔ “ سارہ نے فون بند کر دیا تھا ۔

            ” عجیب ۔۔“ اور تھوڑے ہی وقت میں اس کا موبائل پھر بج رہا تھا وہ مُعید تھا اس نے مُعید کو وہی کچھ کہنا تھا ‘ جو سارہ نے کہا تھا اور اس نے اس پر من و عن عمل بھی کیا۔ کیوں کہ سارہ نے اسے دوبارہ کال کر نے کو کہا تھا۔مگر دوسری طرف سارہ کا فون بزی جا رہا تھا۔

            ” ہیلو مناہل کیسی ہو۔ ؟“

            ” سارہ ۔ کیسی ہو۔ میں تم سے نہیں بولتی ۔ نہ تم ہمارے گھر آئیں اور نہ ہی اس خوشی کے موقعے پر مبارک باد دی۔ “ مناہل نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کو چپ کرا دیا تھا ۔ اس کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے مناہل نے اسے پُکارا۔

            ” سارہ آ ر یو اوکے ۔؟ کیا ہوا ہے تمہیں ۔ کیا مُعید بھائی نے تمہیں نہیں بتایا کہ ان کی اور تمکین کی منگنی ان کے بچپن میں ہی ہو گئی تھی اور جلد ہی ان کی شادی ہونے جا رہی ہے ۔ “

            ” نہیں اس نے مجھے ایسا کچھ نہیں بتایا۔ “ اس کی آنکھوں سے چھم سے آنسو ٹپکے ۔ یہ بے خود تھے ‘ ان پہ بس ہی نہین چلتا تھا ‘ بھلاا س کا بس چلاہی کہاں تھا۔

            ” اوہ۔ شاید یہ خوش خبری وہ خود سنانے والے تھے ۔ میری غلطی اب وہ معاف نہیں کریں گے ۔ پلیز ان کو نہ بتانا کہ میں نے تم کو بتا دیا وہ خفا ہوں گے ۔ “

            ” نہیں بتاﺅں گی ۔ “ اور پھر بولی “ ہا ں اسے کہنا کہ سب ختم ہو گیا ہے ۔ اب دوبارہ ان راستوں پہ نہ چلے کہ میں نے اب اپنی راہ چن لی ہے ۔ ‘ ‘ اور ساتھ ہی فون بند کر دیا ۔

            (” میری کزن ہے تمہیں بتایا تو تھا جن کو کل میں لینے گیا تھا ۔ وہی تھی آئس کریم کا کہہ رہی تھی ۔ “

            ” نہیں تم کہیں نہیں جاو گے ۔ “سارا نے فوراََ حکم صادر کیا۔

            ” لیکن سارا اس نے ۔۔“ مُعیدنے کچھ بولنے کی کوشش کی ۔

            ” نہیں مجھے کچھ نہیں پتہ تم نہیں جاو گے تو نہیں جاو گے ۔ “ سارا نے رُخ پھیر لیا۔ ” ورنہ ساری عمر مجھ سے بات نہ کرنا۔ “

            ”یار آئس کریم کی ایسی کی تیسی ۔ تم کو چھوڑ سکتا ہو ں بھلا ۔

            اور آنسوﺅں نے بن بادل ہی برسات مچا دی تھی ۔

            اُدھرمناہل کے پاس دو‘ دو بندوں کو خبریں سنانے کا ذمہ تھا ۔ایک مُعید کو سارہ کی کال کے بارے میں مصالحے لگا کر بتانے کا‘ اور دوسرا تمکین کو خوشخبری سنانے کا ۔ کہ ایک بہت بڑا مرحلہ اس کے سر سے ہٹ گیا ہے اور اب لوہا گرم ہے چوٹ اچھی پڑے گی۔

٭٭٭

            وہ جوں ہی بیڈ پہ لیٹنے کے لئے بیٹھا ‘ ماریہ نے اسے دودھ کا گلاس پکڑایا۔ اور ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔

            ” کیسا دن گزرا۔ “

            ” اچھا اور تمہارا۔۔“

            ” میرا تو پتہ ہی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے یہ شرارتی جوں ہی سکول سے آتا ہے تنگ کر کے رکھ دیتا ہے ۔ اتنا تو آپ نے کبھی تنگ نہیں کیا۔۔ “ اس نے سوئے ہوئے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

            ” اچھا ۔ خیر ہے چھوٹا ہے بچو ں نے شرارتیں ہی تو کرنی ہوتی ہیں ۔ “ وہ مسکرایا اور گلاس منہ سے لگایا۔

            ” ہاں یہ تو ہے انہی کی وجہ سے تو میں مصروف بھی رہتی ہوں ۔ کرن سارہ دن گھر ہی ہوتی ہے اور شاہ ویر سکول سے دو بجے تو بس۔ یہی مصروفیت ہے ۔ ‘ ‘ اس نے اپنی روداد سنائی۔

            ” یہ تو اچھا ہے ناں کہ مصروف رہتی ہو۔ امی سو گئیں کیا۔ ؟“

            ” ہاں سو گئی ہیں۔ “ اس نے گلاس سامنے ٹیبل پر رکھا۔

            ” تم میرے لئے پتہ نہیں کس نیکی کا صلہ ہے سچ میں۔ “

            ” اور میں تو سمجھتی ہوں کہ میں نے تو کوئی ایس نیکی کی بھی نہیں پھر آپ کیسے مل گئے ۔ “

            ” یوں نہ کہو۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو ملنا ہی تھا۔ “ وہ اس کو دیکھتے ہوئے جذب سے بولا۔

            ’ ’ اور یہ بتاﺅ کہ اگر کبھی تمہیں لگا کہ میں نے کوئی جھوٹ بولا ہے تم سے تو ناراض تو نہیں ہوں گی ناں۔ “

            ” یہ خیال کیسے آیا کہ آپ مجھ سے جھوٹ بولیں گے ۔“ وہ اب مکمل پر اس کی طرف متوجہ تھی۔

            ”پھر بھی بتاﺅ ناں ۔۔“ وہ اس سے اس کا ری ایکشن جاننا چاہتا تھا کہ کبھی اگر اس کو اس کے جھوٹ کا پتہ چلے تو کیا کرے گی۔

            ” پہلی بات یہ کہ آپ مجھ سے جھوٹ بھی نہیں بولیں گے اور اگر بولے بھی تو آپ کو پتہ ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ۔ مگر سچ تو پھر بھی اسے طرح کھڑا رہتا ہے اس روشن اوُنچے پہاڑ کی طرح۔ © © ©“اس نے سچ بتا دیا تھا مگر وہ سچ نہیں بتا سکتا تھا۔

            ” ناراض ہوں گی کیا مجھ سے ۔ “

            ”ہاں اور کیا ۔ اب آپ مجھ پر اعتبار کر کے سچ نہ بولیں تو میںناراض تو ہو ہی جاﺅں گی ناں ۔ مگر پھر راضی ہو جاﺅں گی کیو ں کہ میں آپ سے ناراض نہیں رہ سکتی ۔، “ وہ کھلکھلائی۔

            ” شکر ہے میں نے تو سوچا تھا کہ کہو گی ساری زندگی میری شکل نہیں دیکھو گی ۔ “ وہ ہنسا۔

            ” ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا ، پاگل ہوں میں کیا۔ کہ اتنا پیارا شوہر میں کسی اور کے حوالے کر جاﺅں گی ۔ کبھی سوچیے گا بھی نہیں ۔ ایسا تو قیامت تک نہیں ہو گا۔ “ اس نے اپنے ساتھ کا پورا یقین دِلایا۔

            ” اف خدا تو میں اس سے سچ بولنے کی ہمت کیوں نہیں کر پا رہا ۔ یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں ۔ “ وہ اس کو دیکھ کر سوچے گیا۔

            ” اور یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ جھوٹ پر کوئی کام اور کوئی بات ٹھہرہی نہیں سکتی ۔ سچ پتہ تو چل ہی جاتا ہے تو پہلے ہی سچ کیوں نہ بول دیا جائے ۔ ‘ ‘

            ” ویسے ایک سچ میں نے بھی تم سے بولنا تھا۔ ‘ ‘ اس نے ماریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ وہ سمجھ جائے گی اسے اندازہ تھا ۔ بلکہ یقین تھا۔

            ” ہاں تو کہیں آ پ نے تو مجھ سے کبھی کوئی جھوٹ تو بولا بھی نہیں ۔“

            ” وہ دراصل جہاں مجھے نوکر ی ملی ہے ناں تو ان کی یہ شرط تھی کہ وہ unmarried employees رکھتے ہیں اور ان کی یہ شرط تھی کہ اگر ایپملائی شادی کرے گا تو اس کو جاب سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔ “

            ” تو اس کا مطلب ہے کہ ۔۔“ اسے اندازہ ہو گیا کہ جازب کیا کہنے جا رہا ہے ۔

            ” ہاں ۔ اس کا مطلب ہے کہ میں نے ان سے جھوٹ بولا تھا کہ میں غیر شادی شدہ ہوں ۔ “ اور اس لمحے ماریہ کو لگا کچھ چھن سے ٹوٹا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ جس کو ساری زندگی مانا جا ئے لوگوں کے سامنے اپنا ماننے سے انکار کر دے تو کیا حالت ہو تی ہے وہ اس وقت ماریہ کو دیکھ سکتا تھا۔

            ” تم سن رہی ہو ناں۔“ وہ اس کو قائل کر نے کی کوشش کر رہا تھا ۔” دیکھو میں نہیں چاہتا تھا کہ جھوٹ بولوں مگر سچ بولنے کی صورت میں مجھے اس نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ۔ “ اور وہ سب سن کر بھی کچھ سن نہیں پا رہی تھی۔

 ( ٭ کیا سارا ‘ مُعید کو چھوڑنے جا رہی ہے ؟

              ٭کیا مُعید سارا کو اپنے محبت کا یقین دلا پائے گا۔؟

٭سارا کی دُرید سے کیا بات ہوئی؟

   ٭عالیہ اپنے شوہر سے خلع لینے میں ہو گی کامیاب؟

   ٭کیا تمکین کی سازشیں ہو جائیں گی کامیاب ؟

                                                             ٭ماریہ کا اگلا قدم کیا ہو گا کیا وہ جازب کو نوکری چھوڑنے کا کہہ دے گی اور جازب نوکری چھوڑ دے گا یا

پڑ جائے گی ان کے رشتے میں بھی ایک دراڑ)

(باقی آئیندہ ما ہ ان شاءاللہ)

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: