٭٭٭چلتے ہیں تو خلا میں چلیے٭٭٭Let’s go into space***

Scott Kelly

٭٭٭چلتے ہیں تو خلا میں چلیے٭٭٭

تحریر:صادقہ خان

تلاش و جستجو اور کرۂ ارض کے نئے علاقوں کو مسخر کرنے کا جنون روز اول سے انسان کی فطرت کا خاصہ رہا ہے، انگریزی و اردو ادب کی پوری تاریخ کھنگال ڈالیے، ہر دور میں سفر نامہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف رہا ہے، معروف ادیب ‘الدوز ہگزلے’ کہتے ہیں کہ ہر شخص، سفر کا جنون ساتھ لے کر جنم لیتا ہے جو بیک وقت اُس کی ذات کی سب سے بڑی خوبی بھی اور خامی بھی ہے، یہی عیب اُس سے گھر بار کا آرام و سکون اور آسائشوں کی قربانی کے ساتھ بہت سا قیمتی وقت اور بھرپور توانائی بھی مانگتا ہے۔

صدیوں سے سفر کے شوقین مزاج افراد کا چلن رہا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے تجربات و مشاہدات شیئر کرنے کے لیے روداد سفر ضرور تحریر کرتے ہیں تاکہ اُن کے بعد ان زمینوں کی خاک چھاننے والوں کو نسبتاً کم مسائل اور خطرات کا سامنا ہو، اِسی جنون میں مارک ٹوائن نے بھی 1969ء میں یورپ کے سفر کی داستان ‘دی انوسینٹ ابروڈ ‘ تحریر کی۔

اِسی خواہش نے 1959ء میں الفریڈ لینزنگ کو ارنسٹ شیکلٹن کی برِاعظم انٹارکٹیکا کی جانب پہلی مہم جوئی کی پُرخطر کہانی ‘اینجورینس’ ولفریڈ تھیسائجر کو ‘اریبین سینڈز’ اور مستنصر حسین تارڑ کو ‘خانہ بدوش’ جیسے ماسٹر پیس لکھنے کی طرف بھی مائل کیا۔

حال ہی میں ایک ایسا سفر نامہ منظر عام پر آیا ہے جو کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ اینجورینس’ نامی اِس کتاب کے مصنف معروف خلا باز اسکاٹ کیلی ہیں، جنہوں نے پچھلے برس خلا میں سب سے زیادہ دن قیام کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ کتاب خلا کے انوکھے سفر نامے کے ساتھ اسکاٹ کیلی کی یاد داشتوں کا مجموعہ بھی ہے۔

—فوٹو: گڈ ریڈرز

‘تھاؤسینڈز آف سپیلنڈڈ سنز’ اور ‘اے کائٹ رنر’ جیسی مایہ ناز کتابیں تحریر کرنے والے معروف مصنف خالد حسین نے اِس آب بیتی پر کچھ یوں تبصرہ کیا ہے،

‘اسکاٹ کیلی کی یادداشت انجورینس محض بین الاقوامی خلائی مرکز میں گزارے گئے ایک برس کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اُن لاتعداد پُرخطر اور رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات کا مجموعہ ہے، جن سے یہ جدید دور کا یہ سُپر ہیرو فٹ بال سائز کی ایک ہمہ وقت گھومتی ہوئی مشین کے اندر ایک سال بے وزنی کی حالت میں دوچار ہوا۔ اِس میں درج اَن گنت پُر مزاح، پُر تجسس اور سنسنی خیز واقعات قاری کو اپنے سحر میں یوں جکڑتے ہیں کہ وہ ایک ہی نشست میں پوری کتاب پڑھ کر دم لیتا ہے، بلاشبہ یہ آپ بیتی آنے والی کئی نسلوں کے لیے ایک انمول خزانہ ثابت ہوگی، خاص کر اُن افراد کے لیے جو انسان کا خلا کی تسخیر کا دیرینہ خواب پورا کرنے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔’

دوسری جانب معروف جریدے فائی نینشل ٹائمز نے اسکاٹ کیلی کی اِس کاوش کو اِن الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے کہ

‘بلاشبہ اینجورینس ناقابلِ یقین اور حواس سے ماوراء خلا کے سفر کی ایک ایسی داستان ہے، جس میں اسکاٹ کیلی نے پوری ایمانداری اور مستقل مزاجی سے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو اِس قدر رواں اور سہل انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری کو یہ خود پر بیتتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔’

220 صفحات پر مشتمل اِس یادداشت کا آغاز ایک پُر تجسس بچے کی داستان سے ہوتا ہے، جس نے بچپن سے خود کو جان بوجھ کر خطرات میں دھکیلا اور ہر نئے تجربے سے دوبارہ جینا سیکھا، مسلسل چار اسپیس مشنز کا حصہ رہنے والے اسکاٹ کیلی نے دورِ بلوغت سے وہ کچھ دیکھا اور برتا ہے جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

space

اسکاٹ کیلی گزشتہ برس خلا میں گئے تھے—فوٹو: این بی سی نیوز

اِس کتاب میں خلائی سفر کی جزیات اور خلائی مرکز میں قیام کی تفصیلات کو اِس قدر سہل اور رواں انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ عام آدمی بھی اُنہیں باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ قاری کہیں خود کو بے وزنی کی حالت میں اسکاٹ کیلی کے ساتھ معلق محسوس کرتا ہے، تو کہیں خلائی مرکز سے باہر اسپیس واک کے دوران خلائی ملبے یا پتھروں / شہابیوں کی بارش کی زد میں آنے کا وہی خوف محسوس کرتا ہے جس سے یہ خلاباز دوچار رہتے ہیں۔

قاری اسکاٹ کی ساتھی روسی خلابازوں ‘میشا’ اور ‘سرگی’ کے پُرلطیف چٹکلوں پر اُن کے ساتھ کھلکھلاتا ہے،اور قاری خود کو سکاٹ کیلی کی جگہ تصور کرتا ہے جو جڑواں بھائی مائک اور دونوں بیٹیوں اور بیوی کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔

کتاب کے اختتام پر انتہائی متاثر کن انداز میں سال بھر میں کیے جانے والے مشاہدات کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ اِس ایک برس میں اسکاٹ نے اپنی گزری زندگی کے پل پل کو کتنی دفعہ پرکھا اور اُس کی روح پر کون کون سے نئے انکشافات ہوئے، آسیبی تنہائی اور خلائی ملبے کی زد میں آکر کسم پرسی کی حالت میں مرجانے کے خوف نے اُسے اُن تمام افراد اور نعمتوں کی قدر یاد دلائی جنہیں آج تک وہ درخوراعتناء بھی نہیں سمجھتا تھا۔

365 دنوں کو شمار کرتے ہوئے اسکاٹ نے جانا کہ ہر روز معمول پر طلوع ہوتا سورج، آسمان پر منڈلاتے آوارہ بادل اور اُن سے برستی بارش و برف، یہ کُھلی فضاء اور ہمہ وقت دستیاب آکسیجن اور سب سے بڑھ کر گریویٹی کا سہارہ، یہ سب نعمتیں انسانی زندگی کے لیے کس قدراہمیت رکھتی ہیں، ہر لمحہ رگوں میں سرائیت کرتا تنہائی کا زہر، جسمانی ٹوٹ پھوٹ اور اعصابی شکست و ریخت نے اسکاٹ کو اپنے پیاروں کے سہارے کی اصل قدر سے روشناس کروایا کہ خوشی میں کسی کے ساتھ مل کر قہقہے لگانا اور دُکھ میں کسی کا کاندھا کتنا ضروری ہوتا ہے۔

اسکاٹ کیلی نے 2 شادیاں کیں، پہلی بیوی سے اُن کی 2 بیٹیاں ہیں—

Scott Kelly

اِنہی مشاہدات سے گزرتے ہوئے ایک روز اسکاٹ کیلی نے بین الاقوامی خلائی مرکز سے معروف مصنف ‘ٹام وولف’ کو کال کی، دورِ بلوغت میں پڑھی اُن کی کتاب ‘رائٹ اسٹف’ درحقیقت اسکاٹ کی اِس پُر خطر زندگی کا نقطہءِ آغاز ثابت ہوئی تھی۔ یہ کتاب جنگِ عظیم دوئم میں امریکی جیٹ جہاز اُڑانے والے پائلٹس کے جنگی کارناموں پر لکھی گئی، جو اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے۔

اسکاٹ کئی عشروں سے دماغ میں بگولوں کی طرح چکراتے سوال کو بلآخر اُس روز زبان پر لے ہی آئے کہ ٹام کو لکھنے کا خیال کیوں کر آیا؟ بقول اسکاٹ، ٹام وولف کا ایک سطری جواب ہی اُن کی کتاب اینجورینس لکھنے کا سبب بنا اور وہ جواب تھا ‘ہمیشہ بارش کا پہلا قطرہ بننے کی کوشش کرو۔’

کتاب کا نام ‘اینجورینس’ رکھنے سے متعلق اسکاٹ کیلی کا کہنا ہے کہ

‘وہ اِس سے پہلے 3 مشنز میں بھی اپنے ساتھ الفریڈ لینزنگ کی اِسی نام کی کتاب لے کر گئے تھے جو دراصل ارنسٹ شیکلٹن کی اینٹارکٹیکا کی جانب مہم جوئی کی داستان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مہم اُن کے خلائی سفر سے کہیں زیادہ پُر خطر تھی اور دونوں مہمات میں بظاہر کوئی مشابہت نہیں مگر مشن کے دوران بارہا اُس کتاب کو پڑھ کر اُنہیں ایک نیا حوصلہ اور ولولہ حاصل ہوا کہ میں وہ واحد شخص نہیں ہوں جو ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔’

وہ مزید کہتے ہیں کہ اِس کتاب کو تحریر کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ اُن کے بعد جانے والے بین الاقوامی خلائی مرکز کے مکین اور خاص کر ناسا کے مارس مشن کے لیے تربیت پانے والے خلاباز اُن کے ایک برس کے تجربات و مشاہدات کو پڑھ کر جان سکیں کہ خلا کا سفر اور طویل عرصے تک وہاں قیام دراصل ایک جان لیوا جسمانی اور اعصابی جنگ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: