٭٭٭ چار دیویوں کا قصہ ٭٭٭Char Dawiyon Ka Qissa***

Romantic Urdu Novel

٭٭ چار دیویوں کا قصہ ٭٭٭

تحریر: غضنفر کاظمی

قسط نمبر:2

کرسی پر بیٹھ کر چند لمحے وہ مجھے دیکھتے رہے پھر مجھ سے پوچھا کہ میں اپنے وطن کی خاطر کیا کرسکتی ہوں ؟ میں نے جواب دیا کہ وطن کی خاطر تو جان بھی حاضر ہے تو انہوں نے مجھے واپس جانے کا کہتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ان کو میری ضرورت محسوس ہوئی تو مجھ سے امام نام کا ایک شخص ملاقات کرے گا وہ جو ہدایت دے مجھے اس پر عمل کرنا چاہئے، میں نے حامی بھرلی اور پھر واپس اپنی جھونپڑی میں آگئی۔

دو روز گزر گئے لیکن مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا لیکن تیسرے روز میں جھونپڑی کے باہر دھوپ میں بیٹھی تھی کہ دور سے ایک جیپ آتی نظر آئی، میں اس کی جانب دیکھنے لگی تھوڑی دیر بعد جیپ میرے پاس آکر رکی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا جو کافی جاذب نظر تھا اور چال ڈھال سے فوجی محسوس ہورہا تھااس نے میرے پاس آکر مجھ سے فرشتہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے کہا کہ میں ہی ہوںیہ سن کر اس نے کہا کہ وہ امام ہے اورمیرے لئے میجر زبیر کا پیغام ہے، آپ ان سے اسی وقت ملیں، میں آپ کولینے آیا ہوں۔ یہ سن کر میں نے اس سے چند منٹ کی مہلت چاہی اور جھونپڑی میں جاکر لباس تبدیل کیا اور پھر گل پندرہ خان کو لے کر اس جیپ میں بیٹھ گئی ہمارے بیٹھتے ہی جیپ چل پڑی۔

راستہ خاموشی سے کٹا اور تقریباً ایک گھنٹے بعد میں میجر زبیر کے سامنے بیٹھی تھی۔ میجر نے مجھے کہا کہ اب میں اپنی رہائش تبدیل کرلوں، میرے یہ کہنے پر کہ میں شہر میں نہیں رہ سکتی مجھے جان کا خطرہ ہے، میجر نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ میری حفاظت کا پورا بندو بست کریں گے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے سرکاری رہائش ملے گی تو میں مان گئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ کاغذات جو میں نے ان کو دئیے تھے پاکستان کے دفاع کے لحاظ سے بہت اہم تھے اور اگر وہ دشمنوں کے ہاتھ لگ جاتے تو ہماری دفاعی تنصیبات اور ہوائی اڈے سب خطرے میں پڑ جاتے۔ یہ بتاتے ہوئے انہوں نے مجھے ویسا ہی لفافہ دیا جیسا میں نے ان کو دیا تھا اور لفافہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کو مارشل ایکس تک پہنچانا اب میری ذمہ داری ہے۔ یہ سن کر میں کچھ دیر خاموش رہی پھر کہا کہ مارشل ایکس کو کسی ایسے فون سے کال کروں گی جس نمبر کی شناخت نہ ہوسکے کہ کس کا ہے۔ اس پر میجر صاحب نے کہا کہ اس بارے میں فکر نہ کروں ان کے پاس ایسے بہت سے نمبر ہیں جن کا کہیں ریکارڈ نہیں ہے اور پھر وہ مجھے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے سِیٹ سے اٹھ گئے میں بھی اٹھ کر ان کے ساتھ چلی، وہ کمرے سے باہر نکل کر ایک راہ داری میں چلتے ہوئے تہہ خانے میں ایک کمرے میں لے گئے، جو کسی کا آفس تھا وہاں میز پر دو ٹیلی فون رکھے تھے انہوں نے مجھ سے فون کرنے کو کہا، میں نے رسیور اٹھا کرٹرپل تھری پر کال کی، میرے نمبر ملاتے ہی میجر صاحب نے دوسرے فون کا رسیور اٹھا کرکان سے لگالیا، پہلے کچھ دیر تو رسیور میں ہوا کی سائیں سائیں گونجتی رہی پھر گھنٹی بجنے لگی اور دوسری ہی گھنٹی پر کسی نے دوسری جانب سے فون اٹھالیا اور مجھے کسی لڑکی کی نازک سی آواز سنائی دی…. ”ہیلو ہو از دیئر“ (کون ہے )، میں نے یہ سن کر وہی جملہ دہرادیا کہ ”مارشل ایکس“ کے لئے ”سپر اے“ کا پیغام ہے، یہ سن کر دوسری جانب سے مجھے ہولڈ کرنے کو کہا اور پھر خاموشی چھاگئی تھوڑی دیر بعد دوسری جانب سے مردانہ آواز آئی، ” ہیلو تم کون ہو“…. اس سوال پر میں چکرا گئی …. میجر صاحب جو دوسرے فون پر ہماری گفتگو سن رہے تھے انہوں نے مجھے کچھ اشارہ کیا لیکن میں سمجھی نہیں کہ وہ کیا ہدایت دے رہے ہیں اس وقت اتنی مہلت نہیں تھی کہ میں سوچتی یا میجر صاحب سے وضاحت پوچھتی، میں نے اپنی سوچ کے مطابق جواب دیا کہ ”سپر ایکس کا حوالہ کافی نہیں ہے کیا؟“ اس پر دوسری جانب سے ایک ایڈریس بتاتے ہوئے پیغام وہاں پہنچانے کی ہدایت دے دی گئی، ا س کے بعد سلسلہ منقطع ہوگیا میں نے بھی رسیور رکھ دیا اور میجر صاحب نے رسیور رکھتے ہوئے مجھے توصیفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: ” ویری گڈ فرشتہ تمہارا ذہن ہنگامی حالت میں بہت تیز چلتا ہے تم نے زبردست جواب دیا“ میں نے اس تعریف پر مسکراکر شکریہ ادا کیا۔ پھر میجر صاحب نے کہا،” اب تم وہاں اکیلی نہیں جاوگی بلکہ میرے کچھ مسلح افراد تمہارے ساتھ جائیں گے“ یہ سن کر میں نے کہا، ” سر مسلح افراد کو دیکھ کر وہ لوگ ہوشیار نہ ہوجائیں اگر آپ کو مجھ پر اعتماد ہے تو میرے خیال میںبہتر یہی ہے کہ میں گل پندرہ خان کے ساتھ اکیلی ہی جاوں“۔ میجر صاحب نے کہا،” اعتماد تو تم پر مجھے اتنا ہے جتنا خود پر کیونکہ تم نے ابھی تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ صرف وطن کی محبت میں کیا ہے اور ہمارے لئے وطن سے محبت کرنے والے ہی با اعتماد ہوتے ہیں، ٹھیک ہے تم جیسا چاہتی ہوویسے ہی کرو البتہ تم جاوگی ہماری گاڑی میں اس میں بہت سی خصوصیات ہیں اور ڈرائیور بھی ہمارا ہی ہوگا“ میں اس پر راضی ہوگئی تو وہ مجھے پھر اپنے دفتر میں لے گئے اور فون پر کسی کو گاڑی کے بارے میں ہدایت دی اور پھر اپنے اردلی کو چائے لانے کو کہا۔ جب تک ہم نے چائے پی اس وقت تک ان کو گاڑی کی تیاری کی خبر بھی مل گئی اور وہ مجھے دفتر کے باہر پارکنگ میں لائے جہاں ایک سیاہ رنگ کی سیڈان کھڑی تھی، پھر میجر صاحب نے خوشگوار انداز میں کامیابی کی دعائیں دیتے ہوئے ہمیں رخصت کیا اور میں گل پندرہ خان کے ساتھ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور گاڑی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ ہمیں دیا جانے والا ایڈریس سیالکوٹ سے آگے ایک گاوں کا تھا۔ جب ہم مطلوبہ ایڈریس پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ وہ تو ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ جب میں گاڑی سے اتری تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر ہمارے آنے کا سبب پوچھا، پہلے تو میں خاموش رہی پھر آہستہ سے سرگوشی کے انداز میں ”مارشل ایکس“ کہا تو وہ مودبانہ انداز میں ہمیں ڈیرے کے اندر ایک کمرے میں لے گیا اور کہا کہ پیر صاحب ذرا مریدوں سے فارغ ہوجائیں تو آتے ہیں یہ کہہ کر وہ چلا گیا ہم وہیں بیٹھے رہے تھوڑی دیر میں ہمارے لئے کھانا آگیا، کھانے میں بھنے ہوئے تیتر اور تنوری روٹی تھی۔ ہم نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا، تیتر کا گوشت بہت ہی لذیز تھا، گل پندرہ خان تو ویسے بھی خوش خوراک تھا لیکن اس وقت میں نے بھی ضرورت سے زیادہ ہی کھالیا۔ کھانے کے بعد مجھ پر سستی طاری ہونے لگی، آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں میں نے گل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بھی بند ہورہی تھیں اور پھر اگلے ہی لمحے میں جہاں بیٹھی تھی وہیں گر کر بے ہوش ہوگئی۔

میں کتنی دیر بعد ہوش میں آئی اس کا اندازہ تو کوئی بھی بے ہوش ہونے والا شخص نہیں لگا سکتا، بہرحال ہوش میں آنے کے بعد کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کہاں اور کس حال میں ہوں پھر آہستہ آہستہ حواس بحال ہونے لگے تو احساس ہوا کہ میرے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں جبکہ پاوں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا میں کسی کمرے میں تھی لیکن یہ وہ کمرہ نہیں تھا جس میں بیٹھ کر ہم نے کھانا کھایا تھا، کھانے کا خیال آتے ہی مجھے یاد آیا کہ میرے ساتھ گل پندرہ خان بھی تھا تب میں نے کمرے میں نظر دوڑائی تو مجھے گل خان بھی ایک کونے میں پڑا نظر آیا میری طرح اس کے بھی ہاتھ پاوں پشت پر بندھے تھے۔ میں کچھ دیر اسی طرح لیٹی اپنے حواس بحال کرتی رہی۔ بندھے ہاتھوں کو پیچھے سے سامنے لانا میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا مارشل آرٹ کی بنا پر مجھے اپنے بدن کو مختلف انداز میں موڑنا آگیا تھا میں نے لیٹے لیٹے پورے جسم کا وزن اپنے کاندھوں پر ڈالا اور کمر اور کولہوں کو زمین سے تھوڑا سا اونچا کیا اور بندھے ہاتھوں کو آہستہ آہستہ کھسکاتے ہوئے ٹانگوں سے گزارکر سامنے لے کے آئی، اس کام میں کافی طاقت صَرف ہوئی، میں چند لمحے لیٹی سانس لیتی رہی پھر دانتوں سے ہاتھوں پر بندھی رسی کھولنے کی کوشش کرتی رہی۔ تقریباً بیس منٹ بعد میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوئی، مسلسل بندھے رہنے کی وجہ سے خون کی گردش رکی ہوئی تھی جس بنا پر ہاتھوں میں سنسناہٹ ہورہی تھی میں کچھ دیر ہاتھوں کو ایک دوسرے سے ملتی رہی جب خون کی گردش بحال ہوئی اور ہاتھ کام کرنے کے قابل ہوئے تو پاوں کی رسی کھولی اور پھر جاکر گل خان کو بھی کھولا۔ کچھ دیر ہم وہیں خاموش بیٹھے رہے پھر گل خان نے اٹھ کر اس دروازے کی مضبوطی کو آزمایا جو اس کمرے میں واحد نکاس کا راستہ تھا اور بند تھا، وہ پیچھے ہٹا تو میں نے سوالیہ نظروں سے اس کا جانب دیکھا اس نے سر ہلاکر انکار کرتے ہوئے کہا کہ دروازہ بہت مضبوط ہے اور اگر ہم اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو دشمن باخبر ہوجائیں گے۔ پھر ہم دروازے کے دائیں بائیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ کوئی آئے تو اس پر قابو پاکر یہاں سے نکلنے کی سبیل کی جائے ہمیں سہولت یہ حاصل تھی کہ آنے والا اس خیال سے بے فکری سے آتا کہ ہم دونوں بندھے ہوئے ہیں۔ کافی دیر گزر گئی لیکن کوئی نہیں آیا۔ کمرے میں بنے ہوئے واحد چھوٹے سے روشن دان سے ہمیں احساس ہوگیا کہ اب رات کی تاریکی چھانے لگی ہے۔

…………………………………………………………………………….

 (باقی آئندہ ماہ انشاء اللہ )

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Digiprove sealCopyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: