٭٭٭ یوم استقلال تجدید کا دن ٭٭٭

٭٭٭ یوم استقلال تجدید کا دن ٭٭٭
تحریر: رضوانہ بتول

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یومِ آزادئ پاکستان، جسے یومِ استقلال بھی کہا جاتا ہے ہر سال 14اگست کو منایا جاتا ہے۔اور یہ بات بھی ہم سب بلکہ بچے بچے کے علم میں ہے کہ پاکستان 14 اگست1947 کو انگلستان سے آزاد ہو کر ایک الگ اور آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔جو کہ ہندوؤں کی مکاریوں اور مخالفت کے باوجود ہمارے رہنما بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک کوششوں کا ثمر ہے۔ہمارے عظیم بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔اور اس کے علاوہ ہمارے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی ایک زندہ و جاوید تعبیر ہے۔اور ان شاءاللہ، اللہ رب العزت کے فضل سے رہتی دنیا تک پاکستان قائم و دائم رہے گا۔کیونکہ ہمیشہ باطل کو مات اور حق کا عروج ہوتا ہے اور پھر آج پاکستان اپنی عظمت کو دنیا سے تسلیم بھی کروا چکا ہے۔
تو ہم بات کر رہے تھے 14 اگست یعنی یومِ آزادی کو ہر سال جوش و خروش سے منانے کی تو اس کا مقصد چھوٹے بڑے سرکاری و نیم سرکاری پیمانوں پر صرف تقریبات منعقد کرنا،گھر و گلی کوچوں کو برقی قمقموں سے سجانا ہی نہیں، بلکہ یومِ آزادی ہمیں اس بات کی تجدید کرواتا ہے کہ ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے۔اس کی خدمت و ترقی میں ہر گام مصروفِ عمل رہیں گے تاکہ پاکستان جن جداگانہ اسلامی و مسلم اصولوں کی بناء پر حاصل کیا گیا اس کے تحت پاکستان اقوام عالم میں سب سے اعلی و معتبر ملک کی حیثیت اختیار کر سکے۔
اس کے لیے ہمیں اپنی نئی نسل کے دل میں ملک و قوم کی محبت پیدا کرنی ہے۔انہیں باور کرانا ہے کہ ایک ترقی یافتہ مضبوط و جمہوری ریاست ہماری منزل ہے۔
اور اس کے علاوہ آج کی نوجوان نسل کے ذہن و دل کے دریچوں میں تاریخ کے ان اوراق کو بھی کھول دینے کی ضرورت ہے جو سیاہی سے نہیں بلکہ خون کے آنسوؤں سے رقم کیے گئے تھے۔اس وطن عزیز کو حاصل کرنے کے لیے کیا کیا قربانیاں نہیں دی گئیں۔ہمارے بزرگوں کو کن کن امتحانات سے نہیں گزرنا پڑا۔ان کی آنکھوں کے سامنے ہی سینکڑوں خواتین کی بے دردی سے نہ صرف عصمت دری کی گئی بلکہ شہید بھی کیا گیا۔معصوم بچوں کی لاشوں کو تلواروں کی نوک پر اچھالا گیا۔مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا۔بے یارو مددگار آزادی کے خواہاں لٹے پٹے قافلوں کوتہہ و بالا کر دیا گیا۔
مگر افسوس کہ ہم صرف تقریبات منانے کی حد تک ہی محدود ہو گئے ہیں ہم اپنے بزرگوں کی تمام تر قربانیوں کو رفتہ رفتہ فراموش کر رہے ہیں۔
ہمیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ تقسیمِ ہند کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
مسلم قوم اپنی جس جداگا نہ مذہبی و ثقافتی پہچان کے تحت ایک الگ اور منفرد قوم کہلاتی ہے ہم دن بدن وہ انفرادیت بھی مٹا رہے ہیں۔کہ رفتہ رفتہ مغربی و ہندوا نہ طرزِ عمل اختیار کر رہے ہیں۔اسلام محض عبادات و رسومات کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سو ہمیں ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں۔ہمیں اپنے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے۔
تو آؤ آج کے دن سب مل کر عہد کریں کہ ہمارا جینا مرنا اس پاک دھرتی کے لیے ہے۔
اس ملک کو سنوارنے کے لیے ہر پل ہر لمحہ کوشاں رہنا ہے تاکہ ہمارے بزرگ اور تمام شہدائے پاکستان کی روحیں سکون و راحت پا سکیں۔
پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ ہمارے پیارے ملک کو ہمیشہ دشمنوں کے شر سے بچائے رکھے، اور رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھے آمین۔

تحریر:رضوانہ بتول
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: