***Poetry***

Urdu poetry

***غزل***

مدتوں بعد آج نیند جو مجھ پہ

مہربان ہوئی  تو دیکھا میں نے

اک ظالم سی انا پرست لڑکی

چہرے پہ سجائے بے رخی

مصروف ہے کچھ مگن سی ہے

کانچ کے کچھ ٹکڑے اٹھانے میں

زخمی ہاتھ ہیں اذیت ہے آنکھوں میں

مگر وہ ظالم لڑکی جھولی بھر رہی ہے

کانچ کے ٹکڑے جمع کر رہی ہے

پوچھا جو میں نے اس سے معمہ

تو اسی بیزاری بھرے انداز میں اسنے بولا

کہ ٹوٹا ہے وجود تمھارا کبھی؟

بکھری ہے ذات تمھاری کبھی؟

ہوئ ہو کبھی کرچی کرچی لہولہان؟

وقت نے کیا کبھی حیران؟

دیکھ نہیں رہی ہو تم

سمیٹ رہی  ہوں میں خود کو

بیزاری سے بولتی وہ لڑکی

 مصروف تھی پھر سے کام میں اپنے

کھلی آنکھ جو میری اچانک

چھبن سی تھی ہاتھ میں اپنے

یاد آیا مجھکو اس کا چہرہ

شناسا تھا وہ معصوم سا چہرہ

گھبرا کر اٹھی منہ پہ پانی کا چھینٹا مارا

سامنے آئینہ پہ نظر جو پڑی تو دیکھا

یہ وہی خواب والا چہرہ تھا

ہاں یہی وہ ظالم چہرہ تھا

ابیہاشاہ——-

Digiprove seal
Copyright secured by Digiprove © 2019 Muhammad Yawar Hussain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: